288

انسانی ڈائناسور

ڈائناسور کی نسل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابتدائی دور میں ان کی بے تحاشہ قسمیں پائی جاتی تھیں، جو آپس میں ایک دوسروں سے برسرپیکار رہتیں، جس کی وجہ سے اس نسل میں خون ریزی کے باعث ان کی کچھ قسمیں جو دوسری نسلوں سے کمزور تھیں وہ آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہوگئیں۔
بکری کی نسل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی نسلوں پر بھی جب زوال شروع ہوا تو اس کی نسل کو سب سے زیادہ خطرات اس سے زیادہ طاقتور جانوروں کی جانب سے ان پر حملے ہوتے رہتے تھے، ساتھ ساتھ دوسرے خون خوار درندے ان کو اپنی غذا بنانے کے لئے شکار کرتے مگر ان کی نسل میں یہ خصوصیت تھی کہ وہ اپنے بچوں کو بچانے کی خاطر اپنی جان دیکر ان کی زندگیوں کو محفوظ بناتے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نسل اب تک قائم و دائم ہے۔ ڈائنا سور کی نسلیں جو مضبوط اور طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بڑی قدوقامد کی حامل بھی ہوتی تھیں۔ یہ اپنی طاقت کے زور پر دوسرے جانوروں کی نسلوں کو برباد کرنے کی قدرت رکھتی تھیں۔ یہ جب اپنے سے کمزور جانداروں کا شکار کرتی تھیں تو آپس میں مل کر ان پر حملہ آور ہوتیں، اپنے دور کی دوسری جانداروں کی نسل کو ملیا میٹ کر دیتی تھیں۔ جب اپنے ان کے اطراف کی دوسری جانداروں کی نسلیں ختم ہو جاتیں تو یہ آپس میں بھی برسرپیکار ہو جاتیں کیونکہ یہ اپنے بڑے قامد کی وجہ سے بہت زیادہ طاقتور ہوتی تھیں تو اپنی ہی نسل کے دوسرے ڈاناسور کے کم طاقتور اور چھوٹے بچوں کو نشانہ بناتیں، اس طرح یہ اپنی طاقت سے دوسروں کے بچوں کو نشانہ بنا کر اپنے مقاصد پورے کرتیں، یہ جب کبھی قدرتی آفات نازل ہوتیں تو یہ تیزی سے فرار ہو کر اپنے بچے ان آفات میں چھوڑ کر محفوظ جگہوں پر چلے جاتے اس طرح آہستہ آہستہ ان کی نسلیں ختم ہونا شروع ہوئیں۔ بعد میں یہ خود اپنی عمر طبعی کو پہنچ کر ختم ہو جاتے، یوں یہ نسل موجودہ زمانے تک نایاب ہو گئی ہے، یہ ڈائنا سور کیونکہ جانوروں کی نسل سے تھے اب ختم ہوکر نظر نہیں آتے، موجودہ دور میں یہ انسانی شکل میں اپنا وجود قائم کئے ہوئے ہیں۔ اب جانوروں سے انسانی بن گئے، جدید دنیا میں بھی وہ ہی انداز ہے، ابتدائی زمانے میں ڈائنا سور کی نسل سے تھا۔ یہاں پر ان انسانی ڈائناسوروں نے اپنی نسلوں کی تباہی کا انتظام کیا ہوا ہے۔ یہ اپنے آپ کو تو طویل قامد کے ساتھ ساتھ طاقتور بنا رہے ہیں مگر اپنی نئی نسلوں کے لئے ایسی دنیا بنا رہے ہیں جہاں ایک بار تباہی کا آغاز ہوا تو وہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن جائے گا۔ انسانیت کی نسلیں جب اس تباہی کا شکار ہوں گی تو نہ وہ خود محفوظ رہیں گی بلکہ ان کی آنے والی نسلیں بھی اس ہولناک تباہی کا شکار ہو جائیں گی۔ موجودہ زمانے میں دنیا جن لوگوں کے حوالے ہے ان کا انداز حکمرانی دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے نسل انسانی کتنے بڑے خطرات میں گھر چکی، ان حکمرانوں میں سب سے بڑی سپرپاور سمجھنے والی نسل کے نمائندوں میں ڈونلڈٹرمپ کے ساتھ نریندری مودی، نیتن یاہو جیسے لوگ حکمران بن کر دنیا کے مختلف خطوں کے لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ کررہے ہیں۔ پچھلے دور میں ہٹلر، موسلنی جیسے حکمرانوں نے نسل انسانی کو کتنے نقصانات پہنچائے ہیں اس کا اندازہ اب با آسانی لگایا جا سکتا ہے اور اس سے پہلے چنگیز خان، ہلاکو خان، نادر شاہ جیسے لوگوں نے ڈائناسور کے طریقوں پر چلتے ہوئے انسانیت کو کتنے زخم لگائے ہیں یہ سب تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے، آنے والے دور میں اگر دنیا قائم رہی اور انسانیت بچ گئی تو جب تاریخ لکھی جائے گی تو وہ اس طرح ان لوگوں کا تذکرہ کرے گی جیسے اب ہمارے دور کے مورخ ڈائناسوروں کا ذکر کرتے ہیں جن کی سوچ کبھی داعش یا القاعدہ کی سوچ ہے یا مذہبی انتہا پسندوں کی انداز فکر ہے۔ یا شدت پسندی کے نمائندوں ٹرمپ مودی نیتن یاہو کا انداز حکمرانی بتوں پہ نہ صرف موجودہ انسانی نسلوں کے لئے نقصان دہ ہیں بلکہ ان کے اقدامات سے آنے والی نسلوں کو بھی اس تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے ذمہ دار وہ نہیں تھے۔ بلکہ ان سے پہلے کی نسلیں تھیں جو اپنی اپنی طاقت کو بڑھانے کے لئے ایسے اقدامات کررہی ہیں جو انسانیت کے لئے بہت بڑے خطرے کا باعث ہیں۔ اس دور میں جب نیا سال کا نیا سورج ابھر رہا ہے، اپنے ساتھ تاریخ کو بھی سامنے لا رہا ہے، موجودہ دور کا مورخ ڈائناسوروں کی نسل کے بارے میں جو کچھ تحریر کررہا ہے، وہ سب کے سامنے عیاں ہے، مگر جب آنے والے دور کا مورخ موجودہ زمانے کے بارے میں لکھے گا تو وہ ان انسانی ڈائناسوروں کی نسل کو ابتدائی زمانے کے ڈائنا سوروں کی نسل سے زیادہ خطرناک قرار دے گا جو نہ صرف اپنے مخالف کی نسلوں کو تباہ و برباد کردیں گی بلکہ اس کے بعد خود ان کی نسلیں بھی اس تباہی کا شکار ہو جائیں گی جس کے لئے انہوں نے مہلک ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگائے ہوئے تھے کیونکہ یہ دنیا اب ایک گلوبل ولیج کی مانند ہو چکی ہے، ایک خطے کی تباہی کے اثرات تیزی سے اس خطے میں پڑ جائیں گے جن کو اب محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ داں یہ تحریر کرتے ہوئے جب ہمارے ملک پاکستان کے بارے میں بیان کرے گا کہ یہاں کی پرانی نسل نے کس طرح کے حالات پیدا کئے کہ آنے والی نسلوں کو ان کے نقصانات اٹھانے پڑے انہوں نے اپنی نسل کے لئے غذاﺅں میں ملاوٹ کرکے ان کی کھانے پینے کی اشیاءکو اس قدر مضر صحت بنا دیا کہ ان میں سے کچھ بچے تو دنیا میں آنے سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتے ہیں جو کچھ زندہ سلامت دنیا میں آ جائے وہ کچھ ہی عرصہ میں وقت سے پہلے ہی ہلاکت کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ معاشرے میں ابتری کا شکار سب سے زیادہ آنے والی نسلوں کو ہی بننا پڑتا تھا۔ یعنی معاشرتی سطح پر بھی زندگی کے ہر شعبہ میں ابتری سے سب زیادہ نئی نسل ہی دوچار ہوتی تھی جس کی وہ ایک صحت مند نسل کے طور پر اپنا مقام نہیں بناتی۔ دوسری طرف دہشت گردی کا شکار ہو کر وہ نہ صرف اپنی جانیں قربان کررہی تھیں بلکہ جسمانی طور پر معذور ہونے کے ساتھ ذہنی معذوری کا بھی شکار ہو رہی ہیں جب کہ موجودہ نسل کی ہمارے معاشرے میں طویل القامد اور صاحب حیثیت ہونے کے ساتھ صاحب اختیارات ہونے کے باوجود ان کی حیثیت اس معاشرے میں ڈائنا سور جیسی ہے جن کو اپنے بچوں کے مستقبل سے زیادہ اپنا حال عزیز ہے، وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ان کے حالات بہتر سے بہتر ہو جائیں گے اور ان کے بچوں کا مستقبل شاندار ہو جائے گا۔ یہ ان کی بھول ہے ان کا حشربھی ان ڈائنا سوروں کی نسل جیسا ہو گا اور ان کے بچے بھی ان حالات کی بھینٹ بن جائیں گے جو یہ اپنے آپ کو محفوظ بنانے کی خاطر اپنے بچوں کے مستقبل کو بھیانک بنا رہے ہیں جو نسل اب بچے گی ان کا انسانیت سے تعلق نہیں ہوگا بلکہ وہ بھی پرانے زمانے کے ڈائناسوروں جیسی ہو جائے گی۔ یہ انسانی ڈائنا سور کہلائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں