323

اور اب خودکار ہوائی ٹیکسی بھی آ گئی

ایئر بس کمپنی ویسے تو ہوائی جہاز بنانے کے لیے مشہور ہے لیکن اب اس نے ہوائی ٹیکسیاں بھی بنانا شروع کر دی ہیں۔
اس بلاہواباز الیکٹرک ٹیکسی کا نام وہانا ہے۔ امریکی ریاست اوریگن میں اس کا پہلا کامیاب تجربہ کیا گیا۔
یورپی ہوائی کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ٹیکسی زمین سے 16 فٹ بلند ہوئی اور پائلٹ کے بغیر کچھ دیر اڑنے کے بعد کامیابی سے اتر گئی۔اڑنے والی گاڑی، اوبر میں ناسا کے انجینیئر کی بھرتی
ایئربس کو امید ہے یہ ٹیکسی شہروں میں لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے فرائض سرانجام دے گی۔
ائیر بس کے مطابق اس آٹھ پرویپلر والی ہوائی ٹیکسی میں ایک سواری کی گنجائش ہے اور یہ گنجان ٹریفک کے مارے شہروں میں لوگوں کو سہولت سے ان کی منزل تک کم وقت میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سائنس فکشن فلموں میں ایک عرصے سے ذاتی گاڑیاں شہر کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان اڑتی نظر آتی رہی لیکن اس خواب کو عملی جامہ پہانے کی کوششیں اب تک ثمر آور ثابت نہیں ہو سکیں۔
اب ائیر بس اس خواب کو حقیقت کا روپ دینا چاہتی ہے۔ اس نے اس ٹیکسی کی تیاری میں دو برس صرف کیے۔
کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ برسوں میں خودکار ڈرائیونگ کے میدان میں خاصی ترقی ہوئی ہے، اور کئی بڑی ٹیکنالوجی اور موٹر کمپنیاں اپنی گاڑیاں بغیر ڈرائیور کے سڑکوں پر چلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ دوسری طرف الیکٹرک ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث اب اڑنے والی خودکار الیکٹرک گاڑیاں بنانا بھی ممکن ہو گیا ہے۔
گذشتہ برس ٹیکنالوجی کمپنی اوبر نے بھی اڑن ٹیکسیاں بنانے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں