42

انجم گوہر بھی چلے گئے

دوست کےگھر سے آرہا ہوں، مونا، عدیل، فرخ اور ثمر سے بہت دیر تک دوست کی باتیں کرتا رہا، انہیں ان کے اچھے باپ کی اچھی باتیں بتاتا رہا ، اپنے آنسوں کو ضبط کر کے ان کے آنسوں کو نہ بہنے کو کوشش کرتا رہا مگر بچے بہر حال بچے ہیں، اپنی ھتیلیوں سے اپنی آنکھیں خشک کرتے رہے، یہ بچے اپنے باپ کی جدائی کے صدمے میں ہیں اور شاید رہیں گے بھی کہ باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا ہے، مگر میں ان کو یہ کہہ آیا ہوں کہ انہیں بہت بہادری کے ساتھ اب اس حقیقت کے ساتھ زندگی گذارنی ہے ، اپنا خیال بھی رکھنا ہے اور اپنی والدہ کا بھی۔
انجم گوہر بھی چلے گئے۔ ایک طویل بیماری کو بہت دلیری کے ساتھ انجم جھیل کر اس عارضی دنیا سے کوچ کر گیا اور اپنے بے شمار چاہنے والوں کو اداس کر گیا۔ شکاگو میں، انجم گوہر بہت معروف تھے، اچھی شہرت رکھتے تھے۔ مستقل کالم نگاری، شاعری، کامیاب نظامت وغیرہ تو انجم گوہر کی صلاحیتیں تھیں مگر میرے نزدیک یہ سب غیر اہم باتیں ہیں، اصل اہمیت، انسان کی انسانیت ہوتی ہے، اخلاق ہوتا ہے، دردمندی ہوتی ہے اور جو لوگ انجم گوہر سے واقفیت رکھتے ہیں وہ اس بات کے منکر نہیں ہو سکتے کہ اپنی شاعری یا کالم نگاری کی خصوصیت کے علاوہ، انجم کی سب سے بڑی خوبی بھی یہ ہی تھی کہ وہ بہت بڑا انسان تھا۔
بڑا انسان، رتبہ یا منصب سے کوئی نہیں بنتا، کالم نگاری سے نہیں بنتا، بڑے انسان کو چھوٹا ہو کر رہنا پڑتا ہے، انکساری کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ یہ ہی انکساری انجم گوہر کا تعارف تھی۔ انجم گوہر دوران گفتگو، شیخی نہیں مارتا تھا، اپنی نظامت کی خود تعریف نہیں کرتا تھا، اپنے کالم کو بہت اہم کالم نہیں کہلواتا تھا۔ لکھنا پڑ ھنا وہ ایک مخصوص ر فتار اور انداز سے کرتا رہتا تھا مگر اس میں کبھی بھی خود نمایءکا پہلو نظر نہیں آتا تھا۔
جو انجم گوہر کے قریب رہے ہیں وہ انجم گوہر کہ مہمان نوازی کو بھی کبھی نہیں بھول سکتے۔ ہم دو چار دوست جب کبھی ملنا چاہتے تھے تو سب سے پہلے انجم گوہر کی پیشکش ہوتی تھی کہ گفتگو ان کے گھر میں بیٹھ کر کی جاے۔ وہاں پہنچتے تو معلوم ہوتا تھا کہ یہ گفتگو صرف گفتگو تک محدود نہیں بلکہ پر تکلف کا بھی ہر بار اہتمام ہوتا تھا، اس بات پر اکڑ میں انجم گوہر سے ناراضی کا اظہار کرتا تھا کہ، بھابی، بیٹی مونا اور اپنی بہووں کے سامنے ہم لوگوں کو کیوں بدنام کر رہے ہو؟ وہ سنتا، مسکراتا اور اپنے دراز گیسوں کو اپنے مخصوص انداز سے جھٹک کر ہمیں کہتا کہ یہ سب تم لوگوں کے سوچنے کی بات نہیں ہے۔
انجم گوہر ، شکاگو میں سماجی تقریبات اور بالخصوص ایسی تقریبات میں جو وطن عزیز کے حوالے سے ہوتی تھیں، بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا تھا۔ وہ آزادی کا جشن ہو یا میلہ، پریڈ ہو یا یوم پاکستان کی تقریب، انجم گوہر کے اندر کا بے چین شعلہ بیان مقرر ان جگہوں پر اپنے حصہ کی نیکی ڈالتا ضرور نظر آتا تھا۔ شکاگو میں سماجی اور ادبی تنظیموں کے کاموں میں بھی انجم گوہر بلا تفریق کام کرتا نظر آتا تھا۔ وہ سبھوں کو ملا کر رکھنا چاہتا تھا اور یہ وہی انسان اکرتا ہے جو منافقت نہیں کرتا۔ انجم کو بھی منافقت سے بہت نفرت تھی، وہ رنجش نہیں پالتا تھا مگر بات دل میں بھی نہیں رکھتا تھا۔
انجم کی سب کو ملا کر رکھنے کی خوبصورت عادت سے سب واقف ہوں نہ ہوں، میں نہ صرف واقف ہوں بلکہ عینی گواہ بھی ہوں۔ شکاگو کی ایک بہت معروف سماجی ثخصیت سے میرے کچھ نظریاتی اختلافات تھے۔ ہم دونوں کو کوشش یہ ہی ہوتی تھی کہ ہم دونوں ایک دوسرے کا ا سامنا نہ کریں۔ یہ سب کچھ دو تین برس اسی طرح چلتا رہا،
میں اپنی اس رنجش کا کسی سے بھی ذکر بالکل نہیں کرتا تھا کیونکہ میرا مقصد کسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا کبھی نہیں رہا ہے۔ نہ معلوم کس طرح یہ خبر انجم گوہر تک پہنچ گئی، انجم نے مجھ سے اس کی تصدیق کے لئے مجھ سے رابطہ کیا۔ جو کچھ سچ تھا میں نے بیان کر دیا اور انجم گوہر نے بہت غور سے میرے تمام نکات س±نے بھی، اپنی عادت کے مطابق مجھ سے کوئی بحث بھی نہیں کی
کچھ ہفتوں بعد، بھائی انجم نے مجھ سے رابطہ کیا اور مجھے حکم دیا کہ اگلے روز وہ صبح میرے پاس آیں گے، ہمیں کہیں جانا ہے۔ اس قسم کی اوٹ پٹانگ تفریح ہم کرتے رہتے تھے سو میرے لئے یہ کوئی چونکنے والی بات نہیں تھی، میں نے بھی مزید کچھ دریافت نہیں کیا اگلے صبح انجم گوہر مقررہ وقت پر آے اور مجھے اپنی ہی گاڑی میں چلنے کو کہا۔ سارے راستے وہ اِدھر ا±دھر کی باتیں کرتے رہے، جب گاڑی رکی تو مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کون سی جگہ ہے۔ انجم نے مجھے دیکھا اور مسکرا کر دیکھا۔ میں خاموش رہا اور میں نے کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اب ہم دونوں اس شخص کے پاس بیٹھے تھے جس میری نہ معلوم کب سے رنجش تھی۔ انجم گوہر نے ہم دونوں کو گلے ملنا کا کہا، مجھے آج تک یاد ہے اسوقت انجم گوہر کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا، یہ پر خلوص سچی خوشی اس کے چہرے پہ بہت سج رہی تھی۔ اس نے یہ نیکی اپنے طور پر بالکل بے غرض ہو کر کی تھی۔ میری دوستی یا دشمنی اس دوسرے کے ساتھ ہونے سے انجم گوہر پر کوئی اثر نہیں ڈال رہی تھی مگر بات وہی تھی کہ انجم گوہر سب کو ملا کر رکھنے والا، محبتیں بانٹنے والا شخص تھا۔ نہ جانے دلوں کو ملانے والی جیسی نیکی کی طرح انجم گوہر اور کتنی ایسی نیکیاں خاموشی سے کرتا رہا ہو گا۔
انجم گوہر اور ہم متعدد بار شکاگو سے باہر تقریبات میں ایک ساتھ جاتے رہے ہیں، ہم کینیڈا بھی جاتے رہے ہیں۔ یہ سارے سفر اب خوبصورت یادوں کے ساتھ محفوظ ہیں، انجم گوہر کو جلدی تھی، اس نے بھی بھائی نیاز جعفری اور بھائی عترت حسین عترت کی طرح ہم سے پہلے سفر آخرت طے کر لیا۔
انجم گوہر تم بظاہر بہت دور چلے گئے ہو مگر دوست، تم ہمارے دلوں میں زندہ رہو گے۔ تماری محبتیں تماری عنایتیں ہمارے ساتھ رہیں گی۔ تم بھی ہمیں دیکھتے رہنا، ہم بھی تمہیں اللہ کی طرف سے دیے گئے تم کو اعلی درجات پر فائز ہونے کے بعد دیکھتے رہیں گے
دوست کے گھر اب بھی میں جاوں گا، مونا، عدیل، فرخ، ثمر اور بھابی سے بھی ملتا رہوں گا۰۰۰۰ہاں مگر میں جانتا ہوں وہاں تم نہیں ہوگے۰۰۰۰مگر میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم ہمیں دیکھ بھی رہے ہو گے اور سن بھی رہے ہو گے
انا الہ وانا الیہ راجعون

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں