65

دل کی بھڑاس

وطن عزیز، بہت اچھا لگتا ہے یہ لفظ لکھا ہوا، سو ہم بھی تقریباً دو سال کے بعد ”وطن عزیز“ کی طرف روانہ ہوئے، دل میں خوشیاں ہلکورے لے رہی تھیں، بالکل اس بچے کے دل کا سا حال تھا جو اپنی بچھڑی ہوئی ماں سے ملنے کو ترس رہا ہے اور اسے امید ہے کہ وہ ماں کی گود میں جلد ہی پہنچ جائے گا۔ پاکستان جسے ہم وطن عزیز سمجھتے ہیں اور زندگی جس کی گود میں گزری جس میں سرد و گرم حالات پریشانیاں اور مشکلات بھی درپیش رہیں اور اسی وطن میں چین و سکون بھی پایا۔ عروج حاصل کیا، ترقی کی اور دنیا کی ہر آسائش حاصل کی۔ وہ وطن جسے ہم نے بنتے دیکھا اور اسی کے ساتھ ساتھ ہی ہم نے لڑکپن سے جوانی کا سفر طے کیا۔ سخت محنت و مشقت سے جدوجہد کرکے کامیابیاں حاصل کیں اور اس ملک عزیز کی ترقی و ترویج دیکھ دیکھ کر دل شاد ہوا مگر پھر کیا ہوا کہ اس ملک کو جانے کس کی نظر لگ گئی۔ آہستہ آہستہ وہ پرسکون زندگی جسے ہم نے سمجھا تھا کہ اسی کے ذریعہ زندگی کا سفر کا اختتام ہوگا یکدم تاریک سے تاریک تر ہوتی چلی گئی۔ وہ روش اور تابناک نظر آنے والا مستقبل آہستہ آہستہ اندھیروں میں گم ہوتا نظر آیا اس ملک کے عوام جنہیں امید تھی کہ اس سرزمین کو گل و لالہ سے سجا دیں گے، ببول کے کانٹوں سے بھرنے لگی جسے نفرت، خودغرضی، بدعنوانیوں اور غلیظ سیاست کی دیمک لگ گئی اس ملک کو جسے حاصل کرنے کے لئے لاکھوں افراد نے اپنی زندگیاں قربان کردیں ایک ایسے جنگل میں تبدیل کردیا گیا جہاں اگر جنگل کا ہی قانون ہوتا تو لوگ سکون سے زندگی بسر کر لیگے مگر ان انسانی درندوں نے جو حال اس ملک کا کردیا اس سے ہر شریف انسان کی زندگی عذاب بن کر رہ گئی۔ ان حالات کو وہ لوگ شاید محسوس نہ کرسکیں جو دور بیٹھے ہوئے محض ٹی وی اسکرین ر ہونے والے مناظروں اور مناظر سے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ اصلی مسئلہ ان مٹھی بھر افراد کا نہیں ہے جو اقتدار کے حصول، عہدوں کی دوڑ، مالی کرپشن، اخلاقی گراوٹ اور ضمیر فروشی کی ریس میں اندھا دھند بھاگے چلے جارہے ہیں جہاں اب لاکھوں اور کروڑوں کی کرپشن کوئی معنی نہیں رکھتی بلکہ بات اربوں، کھربوں، پدم دس پدم، بیل اور دس تیل تک پہنچ گئی ہے۔ (کھربوں کے بعد کے اعداد آج کے لوگوں کو معلوم نہیں ہیں یہ بھی گنتی کی حد ہے) اب معاملہ یہ نہیں ہے کہ میں نے کتنا لوٹا ، معاملہ یہ ہے کہ سامنے والے سے زیادہ کیسے لوٹا جائے گا۔ آج ایک لٹیرا جو اقتدار سے ہٹ کر اور ملک کی صدارت حاصل کرنے کے بعد (اس ملک سے کروڑوں افراد کی قسمت کہ ایک بدکردار زانی، لٹیرا ان کا صدر بنا) اب پاکستان کی پاک سرزمین کو نگل رہا ہے اور ایک مرتبہ پھر ”گھوڑوں“ کو خرید اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس شخص جس کے متعلق ہر فرد جانتا ہے کہ اپنی بیوی کو راستے سے ہٹا کر اور اس کا جعلی وصیت نامہ لہرا کر اور سندھ اور بالخصوص کراچی میں 27 دسمبر 2007ءکو جس دن بے نظیر قتل ہوئی تھی، خون اور آگ کی ہولی کھیل کر اقتدار پر قبضہ کرنے کی راہ ہموار کی تھی اب پھر بلوچستان کے اراکین اسمبلی کو خرید کر سینیٹ پر قبضہ کرنے اور اپنی ”پھولن ڈاکو“ بہن کو سینیٹ کا چیئرمین اور اپنے ”زنخے“ بیٹے کو وزیر اعظم بنوانے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کے بعد وہ اس بچے کچھے پاکستان کو بھی فروخت کرنے سے دریخ نہیں کریگا جیسے کہ اس نے حسین حقانی (سابق امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اب ہندوستان کے بندہ بے دام) کے ذریعہ فوج کے خلاف میمو اسکینڈل بنایا تھا اور امریکہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ میں تو آپ کا گلام ہوں مگر فوج مجھے آپ کا ایجنڈا پورا نہیں کرنے دیتی اور اسی حسین حقانی اور ہندوستانی لابی کے ذریعہ امریکہ سے پاکستان کو امداد بند کرانے کی کامیاب سازش کی ہے۔ نہ مسئلہ اس شخص کا ہے جس نے اقتدار میں رہتے ہوئے اربوں روپیہ لوٹ کر غیر ممالک بھی جائیدادیں بنائیں، ہندوستانی لابی کو پاکستان کے معاملات میں اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور فوج کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی اور جب عدالت عالیہ نے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کیا تو ”مجھے کیوں نکالا؟“ کے نعرے لگاتے ہوئے خود اور اپنی بیٹی کے ذریعہ فوج اور عدلیہ کے خلاف مہم چلائی اس سلسلے میں قومی خزانے کو بے دریغ استعمال کیا گیا غیر ملکی قرضے لے لے کر ملک کو اتنا زیر بار کر دیا کہ کسی بھی لمحے اسے دیوالیہ قرار دیکر دشمن اپنا وار کر سکتا ہے اس شخص نے نہ صرف ملکی وسائل کی لوٹ مار کی بلکہ فوج کو ساری دنیا میں بدنام کرنے کی بھی شرارت کی اب یہ اس کوشش میں ہے کہ ایک بار پھر اقتدار حاصل کرکے ہندوستان اور امریکہ کے عزائم کو کامیاب بنائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہی پاکستانی میڈیا ایک ایسی طوائف کا کردار ادا کررہی ہے جسے پیسے دیکر کوئی بھی خرید سکتا ہے اور یہ کرائے کے ٹٹوں رات دن بدعنوان لٹیرے، جرائم پیشہ اور بد کردار سیاستدانوں کے قیصدے پڑھتے رہتے ہیں اور اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرتے رہتے ہیں اگر وہ مظلوم ہے تو وہ بیس کروڑ عوام جو ان سیاستدانوں کے تختہ مشق بنے ہوئے ہیں کوئی ان کی بات نہیں کرتا اور نہ کوئی انہیں پوچھتا ہے اور اگر سچ پوچھا جائے تو یہ ہیں ہی اس قابل کہ ہر مرتبہ ان سیاستدانوں کو منتخب کرتے ہیں جو ان ہی کی ایسی تیسی کرتے ہیں۔
یہ بیس کروڑ چوپائے آج بھی ”شیر آوے ہی آوے“ اور ”آج بھی بھٹو زندہ ہے“ کے نعرے لگاتا رہتا ہے یہ دو پیروں والے گدھے جنہیں ہر مرتبہ سبز باغات دکھا کر سیاستدان اقتدار میں آتے ہیں اور پھر انہیں پوچھتے نہیں اس قابل بھی کہ ان کی اور درگت بنے۔ اور یہ حالات دیکھ کر ”وطن عزیز“ جاتے ہی دل پر ایسا بوجھ ٹھہرتا ہے کہ طبعیت چاہتی ہے کہ یہاں سے بھاگ جاﺅ اور پھر لوٹ کر واپسی نہ آﺅ مگر غالباً ہم بھی ان کروڑوں چوپاﺅں میں شامل ہیں جو بار بار یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ غلطی نہیں کریں گے اور پھر کر بیٹھتے ہیں۔ دو ماہ کے تلخ تجربات، حادثات، لوگوں کی مجبوریاں، غریبوں کی محرومیوں کا مداوا تو نہیں ہو سکتا البتہ ان کے لئے یہی کہہ سکتے ہیں اللہ ان کی مدد کرے مگر اللہ بھی یہی کہتاہے کہ اس کی مدد کی جائے گی جو خود کچھ کرنے کی ہمت کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں