Muhammad Nadeem Columnist and Chief Editor at Times Chicago and Toronto 363

مہاجروں کی تقسیم در تقسیم کا عمل جاری

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کامران ٹیسوری کی وجہ سے ایک نئی مشکل سے دوچار ہے۔ سونے کا تاجر اور ایک کاروباری شخص جو کہ مسلم لیگ فنگشنل کا طلاق یافتہ ہے، کیسے خاموشی سے تنظیم میں شامل ہوا اور نہایت چالاکی کے ساتھ معاشی طور پر کمزور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو دولت کی جھلک دکھا دی۔ ایسے نازک لمحے میں جب کراچی کے نوجوانوں کو اغواءکرکے بے دردی سے قتل کیا جارہا ہے اور ہماری رینجرز لاءاینڈ آرڈر کا بہانہ بنا کر کراچی کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے۔ ایسے میں کیا یہ مناسب ہے کہ صرف ایک سیٹ کے لئے باہمی دست و گریباں ہوا جائے۔ عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ جب عروس البلاد کراچی کے نمائندے کراچی کے عوام کی بات کرنے کے بجائے سینیٹ کی سیٹوں پر جھگڑتے نظر آتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ چہار جانب سے دشمن گھات لگائے بیٹھا ہے۔ حال ہی میں پروفیسر ظفر عارف کو کس قدر سفاکی سے قتل کر دیا گیا اور کسی نے مذمت تک نہیں کی۔ اس لئے کہ اُن کا قبلہ ایم کیو ایم لندن تھا۔ آج مزید گروپوں میں مہاجروں کے لیڈرز کی تقسیم نہایت خوفناک صورتحال کو جنم دیتی نظر آرہی ہے اور کئی لوگوں کی زندگی کا چراغ گل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اللہ رحم کرے کراچی شہر پہ اور کراچی شہر کے مکینوں پہ۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان میں کامران ٹیسوری کی شمولیت سے ہی اختلاف نے جنم لے لیا تھا اور عامر خان خاصے سیخ پا دکھائی دیئے تھے۔ کامران ٹیسوری کی مسلم لیگ فنگشنل سے آمد اور متحدہ میں شمولیت پھر نہایت تیزی کے ساتھ ڈپٹی کنوینر کے عہدے تک ان کا پہنچنا کئی ایک سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہاں ان کارکنوں کا کیوں نہیں سوچا گیا جنہوں نے ہر مشکل گھڑی میں متحدہ قومی موومنٹ کا ساتھ دیا ہے، ایک کاروباری شخص کو جو کسی اور جماعت سے آیا اور تمام پرانے کارکنوں پر سبقت لے گیا۔ یہی وجہ بنی عامر خان اور ڈاکٹر فاروق ستار میں کھنچاﺅ کی، وجہ سمجھ میں نہیں آتی کہ کیوں ڈاکٹر فاروق ستار اس بات پر بضد ہیں کہ پرانے تمام ساتھیوں کو چھوڑ کر کامران ٹیسوری کو سینیٹ کا ٹکٹ دینا چاہتے ہیں۔ خدانخواستہ ڈاکٹر فاروق ستار کو کچھ ہو گیا تو پوری متحدہ قومی موومنٹ کے ان داتا کامران ٹیسوری بن جائیں گے کیونکہ وہ ڈپٹی کنوینر ہیں، اور یوں پارٹی میں جو انتشار پیدا ہو گا وہ کراچی والوں کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا چنانچہ وقت کی ضرورت ہے کہ اپنی انا کو بالائے طاق رکھ کر تمام گروپوں بشمول مصطفیٰ کمال یک جان ہو کر حالات کا مقابلہ کریں۔ اپنی لیڈرشپ کے بجائے غریب اور مظلوم کراچی کے عوام کے بارے میں سوچا جائے کہ جن کے گھروں سے مرد اور بیٹے اٹھا لئے گئے ہیں اور آئے دن ان کی لاشیں ملتی ہیں۔ جسے چاہے انتظامیہ دہشت گردی کا ٹائٹل دے کر لے جائے، یاد رہے کہ اگر یہ گروپنگ ختم نہ ہوئی تو سب ختم ہو جائے گا۔ اپنی حماقت سے دشمن کے ہاتھوں میں اپنی موت کا پروانہ خدارا نہ دیں۔ ہوش کا ناخن لیں اور وقت کی پکار کو سمجھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں