91

پردیسی برادر

پچھلے دنوں ہفتہ ہمارے شہر میں برف کا ایک طوفان آیا اور سارے شہر کو برف سے ڈھانپ گیا اور پورا شہر کا شہر سفید ہوگیا۔ اب سے کچھ دن پہلے ان کا تہوار جس کو کرسمس کہتے ہیں یہاں کے قدیم رہنے والے اس تہوار کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں جن میں ایک طبقہ سفید کرسمس کا بھی متمنی رہتا ہے یوں اس برف کے طوفان نے ان کی مراد پوری کردی مگر اس طوفان نے ہمیں سرد و گرم کردیا۔
ہوا یوں کہ عین طوفان کے وقت پر بخار نے آن کھیرا، ہمیں اور کچھ تو سمجھ میں آئی نہیں تو پردیسی برادر کو فون کردیا کہ اس طوفان میں ہم اپنے آپ کو کس طرح سے دوبارہ گرم کریں۔ ہمارے ان پردیسی برادر نے پہلے تو بخار کی اس پریشانی سے بچنے کے لئے کچھ ٹوٹکے بتائے اور کچھ تدبیریں بتائیں۔ 1857ءکی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ ہوئی تو مرزا غالب کو تفتیش کے لئے کرنل براﺅن کے روبرو پیش کیا گیا۔ مرزا غالب مغلیہ وضع قطع کے انداز میں پیش ہوئے۔ کرنل براﺅن نے ان کو دیکھ کر سول کیا
”ویل مرزا صاحب تم مسلمان ہو؟“
مرزا صاحب نے نہایت متانت سے جواب دیا۔ ”آدھا مسلمان ہوں“۔
کرنل براﺅن نے تعجب سے کہا، آدھا مسلمان، اس کا مطلب؟ دارو پیتا ہوں، سور نہیں کھاتا، مرزا فوراً بولے۔ یہ سن کر کرنل براﺅن بہت محظوظ ہوا اور مرزا صاحب کو اعزاز سے رُخصت کیا۔ ان تین برادر میں سے صفدر رضوی کی فارمیسی کا ہر زبان میں ترجمہ کیا ہوا انگلش، عربی، اردو، ہندی میں۔ ان میں ہندی کا ترجمہ بہت پسند کیا جاتا ہے۔ جس میں فارمیسی کو داروخانہ کہا جاتا ہے۔ اس سے یہ مغالطہ نہ ہو جائے یہ کہ LCBO کی طرح کوئی ساقی خانہ ہے مگر اس دارو خانہ میں ساقی کی جگہ یہ تین برادر وہ ہی کام کرتے ہیں اور اپنے پاس آنے والے ہم جیسی رندوں کو جام بھر بھر کر پلانے کے بجائے چھوٹی چھوٹی ڈبیوں میں دارو پیش کرتے ہیں۔
رند کے رن رہے
ہاتھ سے جنت نہ ملی
مجھے پردیسی ہوئے زیادہ عرصہ نہیں گزارا لیکن ایسا پردیسی پورے ٹورنٹو میں کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ تینوں پردیسی بھائی بہت ہی ہمدرد انسان ہیں حالانکہ یہاں کا نظام ایسا ہے کہ تمام لوگ اپنے اپنے معاملات کو نمٹانے میں مصروف رہتے ہیں جن میں ہم خود بھی شامل ہیں۔ یہ بھائی سب سے مختلف اور مخلص ہیں۔ سب کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں۔ انہوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایک طویل عرصہ تک پاکستان میں رہنے کے باوجود اس شہر میں یہ تین بھائی کیوں اتنے پسندیدہ ہو گئے۔ بات یہ ہے کہ ان تینوں پردیسی بھائیوں کے ساتھ ساتھ پورا پردیس ہی دل کو بھا گیا ہے۔ ہماری حالت منیر نیازی جیسی تھی، جو ہر شہر سے بیزار رہتے تھے۔ ایک عادت سی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا
شاید منیر نیازی کی بیزاری پاکستان کے ان شہروں کے متعلق تھی جن میں وہ قیام پذیر رہے۔
انشاءجی تو ہر وقت شہر سے کوچ کرنے کے درپہ رہے۔
انشاءجی اُٹھو اب کوچ کرو
اس شہر میں جی کو لگانا کیا
مگر جب سے ہم اس شہر میں آئے ہیں تب سے آبائی شہر کو جانے کے لئے دل نہیں کررہا۔ جہاں ماں باپ کے آثار اور دیگر بھائی ابھی موجود ہیں۔ یہاں آنے سے پہلے ہماری نوعیت کٹی پتنگ کی طرح تھی جو مختلف زمانوں اور مکانوں سے گزرتی ہوئی کینیڈا کے اس شہر میں آکر ٹک گئی تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہماری صدیوں کی بے قراری کو قرار آہی گیا، ہماری روحیں جو اب تک مختلف علاقوں میں بھٹک رہی تھیں اب اس کو چین آگیا۔ ہمیں اب سکون آگیا کہ کینیڈا کے اس شہر ٹورانٹو میں آکر بس گئے ہیں، اب ہماری طویل ہجرتوں کا سائیکل مکمل ہو گیا۔ ہماری ہجرت کا آخری شہر آہی گیا۔ وطن سے ساتھ لائی ہوئی بری عادتوں کو بھی اپنے ساتھ لائے ہیں۔ ڈاکٹر ارتضیٰ کہتے ہیں آپ کی بیماریوں کا سبب یہ ہے کہ آپ پاکستان سے یہاں آکر ابھی تک پاکستن میں جی رہے ہیں یعنی آپ پاکستان سے نکل آئے ہیں مگر پاکستان آپ کے اندر ہی موجود ہے۔ جب سے ہماری ان تین پردیسی بھائیوں سے محبت کا رشتہ قائم ہوا ہے پاکستان کی بیماریاں ہم سے دور ہوتی جارہی ہیں کیونکہ ان میں سے ہر بھائی کے پاس ہماری ہر بیماری کا علاج موجود ہے۔ ان تینوں بھائیوں سے اپنی جسمانی بیماریوں کی دوا لیتے ہیں جو ہمارے لئے دارو کا کام کرتی ہے، اکثر ہم ان سے کہتے ہیں
دوا کا فائدہ کیوں اے دوا دے
مجھے اے چارہ گر خاک شفا دے
ڈاکٹر ارتضیٰ ہماری ذہنی بیماریوں کا علاج اس طرح کرتے ہیں جیسے پاکستان میں لوگ جن کو اتارنے کے لئے کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ یہ ہمیں سلاخوں سے داغنے کے بجائے ذہن میں کلبلانے والے کپڑوں کو اپنے منہ اور مسوڑوں کی سلاخوں سے اغتے ہیں کہ دماغ کا بھوٹ خود اتر کر فرار ہو جاتا ہے۔ داروخانہ کی روایت یہ بھی ہے کہ اس داروخانہ کے تحت ہر سال ایک تقریب کا ایسے ہی اہتمام کیا جاتا ہے جیسا کہ مختلف آستانوں پر عرس کی تقریبات منائی جاتی ہیں۔ اس عرس کی خصوصیات میں یہ بھی شامل ہے کہ ان کے داروخانہ کی طرف سے لنگر دارو جو پیش کی جاتی ہے اس کے لئے پرسکرپشن ضروری ہے۔ صفدر رضوی، ڈاکٹر ارتضیٰ اور کاظم بھائی محبت محبت کا ایک ہی پرسکرپشن سب کے لئے ایک ہی سب کا درد اپنے دل میں رکھتے ہیں، سب کے غموں کا علاج ہیں ہم لوگ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں