Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 136

کرپٹ معاشرہ

معاشرے کو کرپٹ یعنی بدعنوان بنانے کے لئے کوشش کی جاتی ہے محنت کرنا پڑتی ہے۔محروم،بد دیانت،ذہنی مجرموں کو ایک جگہ جمع کرنا ہوتا ہے ،یہ کوئی آسان یا سستا کام نہیں ہے۔اس کے لئے پیسہ اور افرادی قوّت دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔خیر چھوڑیں آپ کو میں ایک پرانی کہانی سنا تا ہوں ا نڈیا کے اس دور کی جب وہاں انگریز کی حکومت تھی۔
قدرت ا للہ سات سال کے تھے جب ان کے والد کا سایہ ان کے سر سے اٹھ گیا والدہ ایک چھوٹی بہن اور ایک چھوٹا بھائی یہ ان کا ایک مختصر سا خاندان تھا آمدنی کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا لہذا ان کی کفالت کی ذمّہ داری اکلوتے ما موں کے سر آگئی۔ماموں صاحب حیثیت تھے ۔اور ان کے کوئی اولاد بھی نہ تھی چنانچہ ان کی پرورش میں بھی کوئی کمی نہ رہی۔قدرت اللہ بچپن ہی سے بہت ذہین تھے لہذا پڑھائی میں خوب دل لگایا۔ہمیشہ اپنے سے بڑی عمر کے لوگوں کے درمیان بیٹھے لہذا سیکھنے کا بہت کچھ موقع ملا۔چھوٹے بھائی نصرت اللہ کا پڑھائی میں کبھی بھی دل نہ لگا۔لہذا وہ اعلی’ تعلیم حاصل نہ کرسکے۔قدرت اللہ کی بہن ایک خوبصورت خاتون تھیں ۔ایک نواب خاندان کو پسند آگئیں یوں وہ نواب زادے کی دلہن بن کر رخصت ہو گئیں۔نواب زادے بڑی جا گیروں کے مالک تھے کھانا ،پینا ، گھومنا ،پھرنا،شکار کھیلنا یہی ان کے کام تھے۔قدرت اللہ نے تعلیم تو حاصل کرلی تھی لیکن ان کا ذہن کاروباری تھا وہ ذرا سا بھی نوکری کی طرف مائل نہ تھے۔محنتی آدمی تھے کاروبار میں ہاتھ ڈالا محنت اور اللہ کی مدد سے کاروبار میں ترّقی کرتے ہی چلے گئے۔اس کہانی کو میں مختصر سے مختصر کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔کیونکہ موضوع سے اس کہانی کا تعلّق واجبی سا ہے۔بہرحال ایک وقت ایسا آیا کہ قدرت اللہ کے نواب بہنوئی کا دل ان کی بہن سے بھر گیا ،پانچ بچّے ہوچکے تھے نواب صاحب کو دوسری شادی کرنے کی ٹھانی کوئی عجوبہ بات نہیں تھی نواب جگیردار کئی کئی شادیاں کرتے تھے ۔اور سب کو ساتھ میں ہی رکھتے تھے لیکن یہ نواب صاحب پہلی بیوی اور پانچ بچّوں کو ساتھ رکھنا نہیں چاہتے تھے ،طلاق ایک معیوب چیز سمجھی جاتی تھی لہذا طلاق بھی نہیں دینا چاہتے تھے بہرحال قدرت اللہ ان سب کو اپنے گھر لے آئے۔اب ان کے سر کافی ذمہّ داری آچکی تھی۔ اپنی شادی کے بعد بھی انہوں نے بھانجوں کو کوئی کمی نہیں محسوس ہونے دی۔اور ان کو اچھّی تعلیم دلوائی۔اسی دوران تقسیم ہند کا شوشہ اٹھ کھڑا ہوا اور اس زور شور سے کہ اب مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔بہت جوش خروش تھا بھائی چارگی ،ایک دوسرے کے لئے قربانی دینے کا جذبہ ،محبّتیں،الفتیں ،خلوص اور پاکستان کے وجود میں آتے ہی ایسا محسوس ہوا سب کچھ بدل گیا ،کچھ ہی دنوں میں یکدم کایا پلٹ گئی ،محبّتوں کی جگہ نفرتوں نے لے لی۔خود غرضی ، چاپلوسی، دھوکہ دہی عام ہوگئی علاقائی اور لسّانی باتیں شروع ہوگئیں۔بڑے لوگوں میں کرسی کے لئے کھینچا تانی شروع ہوگئی ہر شخص دوسرے کا گلا کاٹ کر صرف اپنی غرض کو زندہ رکھنا چاہتا تھا۔ذہن یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ہم تو اس وقت پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ آنے والی نسلیں گزری نسلوں کے کارناموں سے بے خبر نہیں رہتی ہیں۔آج جو کچھ ہورہا ہے آنے والی نسلیں اسے کس انداز سے دیکھیں گی ہم اس بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتے۔ بہرحال قدرت اللہ کی شادی کافی دیر سے ہوئی تھی بچّے چھوٹے تھے۔کاروبار بھی پہلے جیسا نہ رہا بھانجے سب شادی شدہ ہوکر علیحدہ ہوچکے تھے۔اور اچھّے اچھّے عہدوں پر فائز تھے۔قدرت اللہ کے بچّے بڑے ہوئے تعلیم سے فارغ ہوئے تو روز گار کی فکر ہوئی اس وقت تک ہمارا معاشرہ غلاظت سے بھرا ہوا تھا رشوت اور سفارش کے بغیر کوئی بھی کام ہونا ناممکن تھا ،نوکری ملتی تھی ،تو علاقے یا زبان کی بنیاد پر لیکن قدرت اللہ کو اپنے بھانجوں پر بڑا مان تھا کہ وہ ضرور اپنے ماموں زاد بھائیوں کے لئے کچھ کریں گے لیکن یہ صرف ان کی خام خیالی تھی۔بھانجے اپنے ماموں کے احسانوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ماموں کی اولادوں کو اپنی اولادوں سے آگے بڑھتا ہوا دیکھیں کیونکہ ماموں کی اولادیں کسی بھی مقام پر پہونچ جائیں بھانجوں کی گردنیں ماموں کے احسانوں سے جھکی ہی رہیں گی۔لہذا وہ تمام بھائی صرف آپس میں ہی ایک دوسرے کی اولادوں کی مدد کرتے تھے۔کیونکہ وہ بھی اسی کرپٹ معاشرے میں رہ رہے تھے۔کرپشن کا لفظ سنتے ہی ہر کسی کا ذہن فوری طور پر حکومت یا بڑے عہدے داروں کی طرف جاتا ہے ،کرپشن ہے کیا؟ کرپشن کا لفظ خراب ٹوٹے ہوئے یا عیبی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ،مشہور فلسفی ارسطو نے سب سے پہلے اسے بد عنوانی کے معنوں میں استعمال کیا۔رشوت لینا،اپنے اختیارات سے فائدہ اٹھاکر ناجائز کاموں میں مدد دینا،حکومتی شعبوں میں حکومتی طاقت استعمال کرکے اپنے ذاتی مفادات پورے کرنا۔اس بد عنوانی کے مختلف پیمانے ہیں۔چھوٹے پیمانے سے لے کر حکومتی سطح تک کرپشن کا جال بچھا ہے۔چھوٹی چھوٹی بدعنوانی میں نوکری پیشہ افراد اپنے افسران کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے موقع بے موقع تحائف پیش کرتے ہیں اور پھر اپنے ذاتی تعلّقات بناکر اپنے کام نکلواتے ہیں۔حکومتی عہدے داروں میں۔بڑے بڑے ٹھیکے منظور کروانا اہم اور ذّمہ داری والے کاموں کے اور ایسی چیزوں کے لائسنس حاصل کرنا جن کی مانگ زیادہ اور ترسیل کم ہو۔بڑے بڑے عہدوں یا حکومتی شعبوں میں ملازمت کے لئے اعلی’ سفارش یا بھاری رشوت۔اس کے علاوہ محکموں میں پبلک ٹیکس کا پیسہ جو مختلف ترقّیاتی یا فلاحی کاموں کے لئے مختص ہوتا ہے ذّمہ داران اس میں خرد برد کرکے ایک بڑا حصّہ ہضم کرجاتے ہیں۔کبھی کوئی انگلش میں پیغام لکھتے ہوئے کوئی ایسا لفظ آجاتا ہے جو انگلش ڈکشنری کے لئے نیا ہوتا ہے تو آپ سے پو چھا جاتا ہے کہ کیا آپ اسے ڈکشنری میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔اور ہم نے اپنے سسٹم کی ڈکشنری میں کرپشن کو بہت پہلے شامل کرلیا تھا جب ہی تو ہمارے ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے وزیر نے ٹی،وی پر بڑی معصومیت سے کہا تھا کہ کرپشن تو سب کرتے ہیں کیا ہمارا حق نہیں ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ہر شخص کرپشن کرپشن کا شور مچارہا ہے لیکن ہر شخص اگر اپنے گریبان میں جھانکے تو وہ کہیں نہ کہیں کرپشن میں ضرور ملوّث ہوگا چاہے بڑے پیمانے پر ہو یا بہت چھوٹے پیمانے پر نظر ضرور آئے گی۔حد تو یہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم کرپشن میں ملوّث عدالت سے نا اہلی کا پروانہ لئے بیٹھا ہے پھر بھی شرم سے منہ چھپانے کے بجائے دندناتا پھررہا ہے جلسے کررہا ہے اور عوام میں اتنا حوصلہ نہیں کہ جلسے گاہ ہی میں اسے جوتے ماریں۔زرداری جیسا لٹیرا ابھی تک سندھ کی زمینوں پر لوٹ مار مچائے ہوئے ہے غریبوں کی زمینوں پر زبردستی قبضے کررہا ہے اور اس کے تمام ساتھی جو چاہ رہے ہیں کررہے ہیں کوئی روکنے والا نہیں وجہ صرف یہ ہے کہ 70 فیصد عوام کرپٹ زندگی گزارنا چاہتے ہیں حق حلال سے کمانے کا زمانہ عرصہ ہوا چلا گیا یہ قوم خود سے تو سنبھلنے سے رہی کوئی جوتے لگانے والا حکومت میں آئے تو شاید ملک کی قسمت بدل جائے ہر شخص جس کے پاس اس کی اپنی حیثیت کے مطابق کرسی ہے وہ اپنے اختیارات کا نا جائز فائدہ اٹھاکر لوٹ رہا ہے وزیر ہو یا کوئی معمولی آدمی بدعنوانی ڈنکے کی چوٹ پر کررہا ہے اور بقیہ عوام کو لعنت دکھا کر کہہ رہا ہے کرلو جو کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں