104

اثاثہ جات ریفرنس: اسحاق ڈار کے خلاف پاناما جے آئی ٹی سربراہ کا بیان قلمبند

احتساب عدالت میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے سلسلے میں قائم کیے گئے نیب ریفرنس کی سماعت کے دوران پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کا بیان قلمبند کرلیا گیا۔
احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔
احتساب عدالت نے آج پاناما کیس کے سلسلے میں شریف خاندان کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سربراہ، ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء اور تفتیشی افسر نادر عباس کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا۔
8 فروری کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں اصل جے آئی ٹی رپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے واجد ضیاء کا بیان قلمبند نہیں ہوسکا تھا۔
واجد ضیاء نے پاناما جے آئی ٹی کی اصل رپورٹ کا والیم 1 اور 9 عدالت میں پیش کردیا۔اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’20 اپریل 2017 کو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا، جس کے لیے ایف آئی اے نے میرا نام بھیجا۔
ڈی جی ایف ا?ئی اے واجد ضیاء نے بتایا کہ ‘5 مئی کو سپریم کورٹ نے میری سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی، ‘جے آئی ٹی نے 10 جولائی 2017 کو حتمی رپورٹ پیش کی تھی۔
واجد ضیاء نے بتایا کہ ‘جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ اسحاق ڈار کے اثاثے ذرائع آمدن سے زیادہ ہیں جبکہ وہ اپنی آمدن سے زائد اثاثوں کا کوئی جواز پیش نہ کرسکے۔
واجد ضیاء کا بیان ریکارڈ ہونے کے بعد عدالت نے اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 14 فروری تک کے لیے ملتوی کردی۔
قبل ازیں سماعت کے آغاز پر واجد ضیا ءکے نہ پہنچنے پرسماعت میں ساڑھے 11 بجے تک وقفہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں