15

ختم نبوت کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نہ ہوئی تو وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو نوٹس جاری کریں گے،جسٹس شوکت عزیز حکومت پر برہم

اسلام آباد: فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ جمع نہ کرانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں ،آپکو احساس نہیں ختم نبوت کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع نہ ہوئی تو نوٹسز جاری ہونگے،وزیراعظم وزیر داخلہ اور وزیر مذہبی امور کو نوٹسز جاری کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت کے دوران حکومت نے رپورٹ جمع کرانے کیلئے 15 دن کی مہلت مانگ لی، دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کمیٹی رپورٹ ابھی تک فائنل نہیں ہوئی،رپورٹ جمع کرانے کیلئے 15 دن کا وقت دیا جائے ،ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہناتھا کہ نازک معاملہ اس لئے وقت مانگ رہے ہیں۔
اس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ کب تک فائنل ہوگی ،یہ نہ ہو کہ وزیراعظم اور وزیرداخلہ کو طلب کرنا پڑے،کیوں نہ آج ذمہ داران کو توہین عدالت کا نوٹس جار ی کر دیں۔
جسٹس شوکت شوکت صدیقی نے کہا کہ وزیر داخلہ کے دستخط کے بغیر رپورٹ جمع کرانے کا حکم تھا،عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی کا کھیل نہ کھیلیں ،آپکو احساس نہیں ختم نبوت کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا،انہوں نے کہا کہ وزرا5 منٹ کے نوٹس پر عدالت میں پیش ہوتے ہیں،حکومت احکامات نہیں مانے گی تو دوسرے کیا کریں گے۔
جسٹس شوکت عزیز نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور آپ پیش ہو کر عدالت پر احسان کرتے ہیں،آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع نہ ہوئی تو نوٹسز جاری ہونگے،وزیراعظم وزیر داخلہ اور وزیر مذہبی امور کو نوٹسز جاری کریں گے ،عدالت نے سماعت 20 فروری تک ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں