97

بھرم کھل گیا

لو صاحبو تو اب بات یوں بنی کہ بقول ان کے جو دعوے کرتے تھے کہ یہ خطہ پاک، ارض جنت، یہ پاک سرزمین جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہا دینے کے خواب دکھائے تھے ان کے بزرگوں نے حاصل کی تھی اور انہوں نے ہی اپنی جان، مال، عزت اور وقار اس کے لئے قربان کردیا تھا لہذا اب ہم یعنی ان کی اولادوں کو حق ہے کہ اس احسان کا بدلہ وصول کریں جو ان کے اگلوں نے اس ملک پاک سرزمین حاصل کرکے کیا تھا۔ چلئے جناب بزرگوں کے ورثے ان کی اولادوں کو ہی ملتے ہیں اور ملنے چاہئیں مگر بھائی جہاں پہلے اپنا حق جتانے سے پہلے خود کو ان کے اصل وارث کا دعویٰ تو سچا کرکے دکھاﺅں، کچھ دستاویزی ثبوت پیش کرو اور کچھ نہیں تو اب D.N.A موجود ہے اس کے ذریعہ جی جدید تکنیک کے ذریعہ اپنا خون ان کے خون سے میچ کرالو۔ تو حضرت آدمؑ سے لے کر اپنی دم تک کے ”جینز“ میچ کرائے جاتے ہیں۔ تو یہی کرالو، تم جو خود کو کراچی بلکہ بقول تمہارے ہی کرانچی کو پاکستان گراندتے ہو تو بھائی یہاں ”پرائے مال پہ یا حسین“ کے مصداق اپنی چوہدراہٹ جما رہے ہو۔ تمہیں معلوم ہے کہ پاکستان صرف تمہارے اباﺅ اجداد نے نہیں بنایا تھا بلکہ اس کے بنانے میں بنگال پیش پیش تھا۔ پنجابی، پٹھان، بلوچی اور سندھی بھی شامل تھے۔ آپ کے بزرگوں نے کراچی کو اس سلسلے میں اولیت دی کہ یہ خطہ بندوﺅں کی نقل مکانی کے بعد ترقی کے وسیع مواقع فراہم کررہا تھا، یہاں کے کاروبار، یہاں کی ملازمتیں اور پھر جدید ترین جائیدادیں جن پر مہاجرین (کہ آج تک 70 سال کے بعد بھی خود کو یہی کہلوا رہے ہیں) کا حق تھا مگر یہ بھی دیکھا کہ وہ کون لوگ تھے اعلیٰ تعلیم یافتہ انتہائی قابل بیوروکریٹ، منظم، سچے، ایماندار اور نوزائیدہ مملکت کے سچے خادم۔ انہوں نے اپنی ذات کی نفی کرکے خود کو اس مملکت کی خدمت کے لئے وقف کردیا۔ ان میں راجہ صاحب محمود آباد جیسے وائے ریاست بھی شامل تھے جنہوں نے اپنی پوری دولت اس ملک کو دیدی اور پھر اس سے کچھ لئے بغیر رُخصت ہوگئے۔ ان میں سردار نشتر، راجہ غضنفر علی خان، آئی آئی چندریگر، اے ٹی نقوی، کاظم رضا نقوی اور ہاشم رضا جیسے افراد بھی تھے جنہوں نے خود اسی مملکت کے لئے جان توڑ کوششیں کیں اور اسے بغیر کسی قسم کے مفادات حاصل کئے بغیر اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ یہ شہر جہاں ہندوستان کے ذہین اور فطین افراد نے آکر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جس کی مثال پورے ملک میں دی جاتی تھی یہاں کے شرفاءپورے ملک کے لئے مثال تھے یہاں کا تعلیمی معیار سارے تعلیمی اداروں کے لئے ایک مثالیہ تھا۔ کراچی والوں کی سارے ملک میں عزت کی جاتی تھی، ہر جگہ ان کی پذیرائی ہوئی تھی۔ بلوچستان میں سردار اکبر خان بگٹی نے بلوچستان یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کے لئے کرار حسین صاحب کو منتخب کیا اسی طرح کراچی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پورے ملک کے لئے باعث افتخار تھے۔ یہاں کے تعلیم یافتہ افراد میرٹ اور صرف میرٹ پر اعلیٰ عہدوں پر منتخب ہوتے تھے۔ کیا سائنسدان، انجینئر، ڈاکٹر، وکلاءاور ماہرین تعلیم صرف کراچی تک محدود نہیں تھے بلکہ اس پاکستان کے ہر حصے میں خدمات انجام دے رہے تھے اور داد وصول کررہے تھے۔ انہیں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور ہر شعبہ انہیں ترجیح دیتا تھا۔
پھر کیا ہوا؟ اس عروج کو زوال لگنا شروع ہو گیا۔ جہاں سے سارے ملک میں امن اور محبت کا پیغام جاتا تھا۔ وہاں سے نفرت، تشدد، خون اور بارود کی باتیں ہونے لگیں ان تعلیم یافتہ تہذیب یافتہ، قابل اور شائستہ افراد پر جہلا مسلط ہونے شروع ہو گئے تو یہ ایک المیہ تھا مگر اس کے پس پشت وہ عناصر تھے جنہوں نے اس المیے کو جنم لینے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ جنہوں نے شہری اور دیہی کی تفریق پیدا کی، جنہوں نے کوٹہ سسٹم نافذ کرکے قابل اور اصل طلباءکے مقابلے میں نا اہل اور نقل مافیا کے ذریعہ آنے والوں کو راستے دیئے۔ جہاں سندھ گریجویٹ ایسوسی ایشن (سگا) کے ذریعہ شہری نوجوانوں پر ملازمت کے دروازے بند کردیئے گئے اور نا اہل افراد کو ملازمتیں فراہم کی گئیں۔ ادھر دیہی علاقوں کے حکمرانوں نے شہری علاقوں کو دوسرے شہر کے شہری تصور کرتے ہوئے ان کے حقوق سلب کرلئے اس طرح ایک ردعمل کے طور پر جو عناصر پیدا ہوئے اور ان نا انصافیوں کو ختم کرانے کے دعوئے کئے تو پسے ہوئے مجبور شہریوں نے انہیں سروں پر بٹھایا اور پھر وہی ہوا جو کسی کم ظرف کو اگر ظرف سے زیادہ مل جائے تو پھر وہ فرعون بن جاتا ہے اور کند ذہن اور بے اصول فرد ن ے اس مقبولیت کو کیش کراتے ہوئے ایک ایسی تنظیم مسلط کردی جن کا کام عام آدمی سے نہیں بلکہ اپنے مفادات کے لئے کام کرنا تھا۔ انہیں حکمرانی بھی ملی اور بھرپور اکثریت کے ساتھ اسمبلیوں میں اکثریت بھی حاصل ہوئی مگر انہوں نے زمین خوری، بھتہ خوری اور کرپشن کے ایسے ریکارڈ قائم کئے جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس شہری آبادی کو جس کے ذریعہ انہیں عروج ملا انہوں نے اسے یرغمال بنا لیا اور آج وہ بچارے ہر کسی کا منہ تک رہے ہیں۔ نہ انہیں کوئی پوچھتا ہے نہ وہ کسی گنتی میں شمار ہیں۔ تعصب کی آگ نے انہیں نگل لیا ہے، دیہی حکمرانوں نے ان پر زمین تنگ کردی ہے جب کہ ان کے نام نہاد نمائندے آج بھی اقتدار کی جنگ میں مبتلا ہیں جب کہ ”شیطان بزرگ“ لندن میں داد عیش دے رہا ہے اور یہاں ”چھٹ پھٹے“ ”ٹیسوری ٹیسوری“ کھیل رہے ہیں۔ یہاں سینیٹ کی سیٹ پر سر پھوٹ رہے ہیں۔ تھپڑ پڑ رہے ہیں کیونکہ فاروق ستار ”بھائی“ چانتے ہیں کہ آج کل ایک سینیٹرایک ارب میں بکتا ہے۔ میمن بھائی ہیں، بیوپار کی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں لہذا انہوں نے ”سونے کی انڈے“ دینے والے ٹیسوری پر داﺅ لگا دیا۔ ہائے یہ اس اشرافیہ کے نمائندے بنتے ہیں جن کی پاکبازی کی قسمیں کھائی جاتی تھیں۔ افسوس صد افسوس
اپنی عریانی چھپانے کے لئے
تونے سارے شہر کو ننگا کردیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں