130

”بہادر بچے“ کا بھی باپ

آخر بول ہی پڑا، بے ڈھب بولا اور بعد میں لیپا پوتی کررہا ہے۔ اس نے بولنا تو تھا ہی آخر اپنے نمک خواروں کے لئے بے ضمیر سے بے ضمیر بھی کچھ درد رکھتا ہے۔ ساری زندگی جو خونی کھیل کھیلتا رہا جس کے چشم ابرو سے نہ جانے کتنے کشتہ تیغ اجل بنے۔ نہ جانے کتنے سروں کے آسرے چلے گئے، کتنے بچے یتیم ہو گئے (خود کے بچوں سمیت) وہ جو انسان کو وجود سے عدم بھیجنے پر خود کو قادر سمجھتا ہے۔ جس کا اصول ہے کہ میکاولی کی طرح جب کام نکل جائے تو پھر ثبوت مٹا دو صرف اس وقت تک نزدیک رکھو جب تک تم اپنا مقصد حاصل نہ کرو اور ان سے واقعی میکاولی کی ”پرنس“ کو حفظ کرکے اس پر ایسا عمل کیا کہ ان الفاظ کا محرر بھی دیکھتا تو دانتوں میں انگلیاں دبا لیتا اور شاید ایسے ہی فرد کے لئے کہا گیا کہ شیطان کہتا ہے شاباش میری لال تو نے تو مجھے بھی مات کر دیا۔ چالاکی، بدفطرتی، بداعمالی اور بدکرداری میں اپنی مثال آپ جس نے بڑے بڑے عیاروں کے کان کتر لئے اور اپنے داﺅ پیچوں سے بڑے بڑے سیانوں کو رگڑ کر رکھ دیا۔ اپنے ہتھکندوں سے شاطروں کو شاہ مات دیدی اور دوست بن کر دغا اور رفیق بن کر رقیب کا ولا بدلنا والا اپنے مفاد کی خاطر اپنے پیاروں کو خون میں نہلا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بدطولی رکھنا والا یہ شخص بڑے درد بھرے لہجے میں 440 افراد کے قاتل کو ”بہادر بچہ“ کہہ کر اس کے مشق ستم کی داد دے رہا ہے اور بصد فخر کہہ رہا ہے کہ ایم کیو ایم کے خلاف آگ و خون کی ہولی کھیلنے والے 54 قاتلوں میں میرا بہادر بچہ واحد ہے جو زندہ بچا ہے۔ یہ اس قاتل کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ جس نے سینکڑوں بے گناہ جوانوں کو دہشت گرد قرار دیکر انہیں قتل کر دیا۔ یہ سفاک قاتل شخص جسے دنیا راﺅ انوار کے نام سے جانتی ہے اس مہذب معاشرے میں ایک ایسا سفاک قاتل ہے جسے اس حکمران کی سرپرستی حاصل رہی جس کی اپنی ذات اور اس کے حالی موالیوں نے اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے ہنستے کھیلتے گھر اجاڑ دیئے، یہی شخص تھا جو متعدد بار جعلی پولیس مقابلوں کے جرموں میں ملازمت سے معطل ہوتا رہا اور اس کے آقا ولی نعمت اسے پھر ملازمت پر بحا کردیتا تھا۔ اسے ملیر کا ایس ایس پی مقرر کیا گیا جس کی اوقات ایک سپاہی کی بھی نہیں تھی مگر چونکہ یہ اپنے آقا اور اس کے عزیز ترین ساتھی زمین خور کے لئے زمین خالی کرواتا تھا ان پر ناجائز قبصے کرکے اس سے لوگوں کو بے دخل کراتا تھا اور جو اس کی راہ میں آتا تھا اسے جعلی پولیس مقابلوں میں ختم کرتا تھا۔ یہ شخص جس کے اشارے پر چنگیز خان کو بھی شرما دیا ان اردو بولنے والے نوجوانوں پر موت بن کر گرتا تھا جن سے خطرہ ہوتا تھا کہ وہ ان کی راہ میں حائل ہو سکتے ہیں ۔ کراچی میں ایم کیو ایم کے نوجوانوں کو اندھا دھند گرفتار کرکے ان پر شدید تشدد کرنے کے بعد انہیں درندوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا جسے رینجرز کہا جاتا تھا۔ وہ ان بدنصیبوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیتے تھے کچھ کو لاکھوں روپیہ وصول کرکے ادھ مری حالت میں سنسان علاقوں میں پھینک دیا جاتا تھا اور کچھ درندہ راﺅ کے سپرد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا تھا۔ خون کی اس ہولی کی ہدایت کاری وہ ہی کررہا تھا جو آج اسے ”بہادر بچہ“ کہہ کر خراج تحسین ادا کررہا ہے۔
جب اسے اپنے ان بیہودہ الفاظ کا ادراک ہوا تو ازلی مکاری کے ساتھ اس کی تاویلیں کررہا ہے کہ آئی جی سندھ کی رپورٹ درست نہیں ہے وہ تو وفاق کا آدمی ہے جب سپریم کورٹ کے احکامات کا ذکر ہوتا ہے تو کہتا ہے سپریم کورٹ تو خود متنازعہ ہے اس طرح وہ اپنے ”بہادر بچے“ کو بچانے کے لئے نہیں بلکہ خود کو بچانے کے لئے ڈرامے بازی کررہا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر راﺅ انوار پکڑا گیا تو اس کا سارا کچا چھٹا کھول کر رکھ دے گا اور وہ (راﺅ انوار) یہ بھی جانتا ہے کہ جس طرح اس کی بیوی کے قتل کے سلسلسے میں جتنے بھی افراد اسکرین پر تھے ان کو کس کے حکم پر ہلاک کیا گیا جن سے شہنشاہ خالد سے لے کر اسد تنج اور ان کا چیف سیکورٹی افسر تک شامل ہیں۔ لہذا راﺅ انوار سمجھتا ہے کہ اس کی جان اس وقت تک بچی ہوئی ہے جب تک وہ اس کے ہاتھ نہیں آتا۔ یہ معاملات محض 440 افراد کے قتل کے نہیں ہیں بلکہ بات بہت دور تک جائے گی اور اس میں صرف اس کا آقا ہی نہیں بلکہ بہت سے سرکردہ افراد بھی گرفت میں آسکتے ہیں۔ زرداری جو ان دنوں ”گھوڑوں“ کی خریداری میں مصروف ہے تاکہ سینیٹ پر قبضہ کرکے ایک مرتبہ پھر حکومت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، یہ معاملہ دبا دیا جائے مگر سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد یہ ممکن نہیں ہو رہا ہے لہذا وہ بھی ان شریفوں کی ہمنوائی کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو متنازعہ کہنے لگا ہے کیونکہ دونوں کا درد مشترک ہے۔ دونوں ہی ڈاکو ہیں مگر وہ اس سے بھی آگے نکل چکا ہے اور شاید یہ بھی قانون قدرت ہے کہ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر قدرت کا قانون اپنا عمل شروع کر دیتا ہے۔
بے زبان مہاجروں کے قتل پر تو کسی کی رگ انسانیت نہیں پھڑکی مگر ایک پختون کے قتل پر جرگے اور مظاہرے شروع ہوئے تو عام آدمی کو پتہ چلا کہ کیا قیامت گزر گئی ہے۔ بے گناہوں کا خون رنگ لا رہا ہے اور اب وہ زرداری جو خود کو مطلق العنان سمجھتا تھا اب اس کی اپنی عزت سر بازار لٹ رہی ہے اور مقتول پختون اور اس کی بیٹی کا نام ایک ساتھ لیا جارہا ہے، اللہ اپنا رحم کرے مگر ظلم کا انجام یہی ہوتا ہے اب بھی وقت ہے کہ عبرت حاصل کرے اور سمجھ لے کہ
وقت گردش میں ہے اک حشر اُٹھا سکتا ہے
آج مجھ پر ہے تو کل تجھ پر بھی آسکتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں