114

وزارت داخلہ پرویزمشرف کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے رابطہ کرے، عدالت کا حکم

اسلام آباد: خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کا 8 مارچ کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت پرویز مشرف کو گرفتار کرکے وطن واپس لائے اوراس حوالے سے انٹرپول سے بھی رابطہ کیا جائے۔

سنگین غداری کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہونے لگا ہے ، خصوصی عدالت کی سماعت کا تحریری حکم نامہ 4 صفحات پر مشتمل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف کی واپسی کے لیے حکومت کے اب تک کے اقدامات مایوس کن ہیں، پرویز مشرف 7 روز میں وطن واپسی پر سیکورٹی کے حوالے سے وزارت داخلہ کو تحریری درخواست دیں، اگر پرویز مشرف کی طرف سے تحریری درخواست نہ دی جائے تو حکومت انہیں گرفتار کرکے واپس لائے، عدالت نے اپنے حکم نامے میں ہدایت کی کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک تمام جائیداد ضبط کی جائے، وزارت داخلہ پرویز مشرف کا پاسپورٹ اور قومی شناختی کارڈ بھی معطل کرسکتی ہے۔

خصوصی عدالت کے تحریری حکم نامہ کے مطابق پرویز مشرف عدالتی مفرور اور اس وقت دبئی میں رہائش پذیر ہیں، پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان مجرمان کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے، معاہدے کے تحت پرویز مشرف کی گرفتاری اور دبئی کی جائیداد ضبطی ہوسکتی ہے، عدالت نے حکم دیا ہے کہ وزارت داخلہ پرویز مشرف کی گرفتاری کیلئے انٹرپول سے بھی رابطہ کرے۔
دوسری جانب سابق صدر پرویز مشرف نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور عدالت میں پیشی کے لیے انہوں نے حکومت سے سیکیورٹی مانگ لی ہے، اس حوالے سے سابق صدر کے وکیل اختر شاہ ایڈووکیٹ نے وزارت داخلہ اور دفاع میں سیکیورٹی کے لیے درخواست بھی دے دی، جس میں کہا گیا کہ پرویز مشرف وطن واپس آ کر عدالتوں میں اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہتے ہیں اس لیے سابق صدر کو واپس آنے اور دبئی واپس جانے کیلئے سکیورٹی فراہم کی جائے۔

درخواست میں کہا گیا کہ ملک میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال میں پرویز مشرف کو خطرات ہیں،2014 میں اسلام آباد کچہری اور 2016 میں کوئٹہ کچہری میں دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں، انہیں سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر میرے موکل کو سیکیورٹی فراہم کی جائے۔

واضح رہے کہ 8 مارچ کو دوران سماعت پرویز مشرف کے وکیل نے عدالت کے روبرو موقف اپنایا تھا کہ ان کے موکل عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں تاہم انہیں سیکیورٹی خطرات لاحق ہیں، اگر وطن ا?نے اور دبئی واپس جانے کے لیے سیکیورٹی فراہم کیا جائے تو سابق صدر عدالت میں پیش ہوجائیں گے۔ عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل کو سیکیورٹی کے لیے وزارت داخلہ کو تحریری درخواست دینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں