67

۔۔۔ ہائے ہم کیا ہو گئے (1)

یادش بخیر جب مہاجروں کے ”ناخدا“ مایہ ناز (بعد میں بے نیاز) قائد تحریک نے پاکستان سے برطانیہ کی طرف اپنے اباﺅ اجداد کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ہجرت فرمائی اور قوم کو یہ بشارت دی کہ اب ان کی آزادی کے دن دور نہیں ہیں اور عنقریب یہ قوم ایسی قوت بن کر اُبھرے گی کہ شاید وباید اور یہ کہ ان کی یہ عارضی ج دائی ایک دائمی رفاقت کا آغاز ہے اور یہ بھی کہ وہ بڑے بھاری دل سے قوم کی خاطر دُکھ اور تکالیف اُٹھائے گھر سے بے گھر ہو رہے ہ یں۔ اس پہ طرہ یہ ہے کہ دوسرے دن صحافیوں نے امریکی سفیر سے قائد محترم کی اس ہجرت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ہنس کے فرمایا کہ ”وہ اب وائسرائے بن کر واپس آئیں گے“ سو سادہ لوح ”بھیڑوں“ کو یقین آگیا کہ بھائی ایسے ہی واپس آئیں گے جس طرح برطانوی دور میں گورے ہندوستان میں برطانیہ عظمیٰ کے نمائندے بن کر تشریف لاتے تھے اور وائسرائے کہلاتے تھے۔ سو گھر گھر گھی کے چراغ جلے اور لوگوں نے ایک دوسرے سے گلے مل مل کر مبارکبادیاں گائیں۔ اب اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں رہ گیا کہ ”بھائی“ دراصل برطانیہ کے ہی ”فرزند دلسپند“ ہیں (برطانوی دور میں جو حکومت برطانیہ اور شاہ برطانیہ کا سب سے زیادہ نمک خوار ”تلوہ چاٹ“ بے ضمیر اور ملت فروش ہوتا تھا۔ شاہ برطانیہ کی طرف سے اسے ”فرزند دلسپند“ کے خطاب سے نوازہ جاتا تھا اور ہندوستان کی ریاستوں کے متعدد خواب اور راجہ اس خطاب سے نوازے جانے تھے اور یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ان اکثریت مسلم خواتین کی تھی جو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اپنی وفاداری کا یقین دلاتے تھے) سو قائد تحریک یعنی غیر مرئی طور پر برطانیہ کے ”فرزند دلپسند“ قرار پائے اور پھر تاریخ نے ثابت کردیا کہ بادشاہوں کی ناجائز اولادوں میں سے ایک اور کا اضافہ ہو گیا اور اب وہ خیر سے برطانوی شہری ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہزاروں افراد کے خون بہانے کے الزامات، منی لانڈرنگ، قتل اور اقدامات قتل کے نامزد برطانوی حکمرانوں کی گود میں بیٹھ کر دودھ ملائی کھا رہے ہیں تو جناب وہ اپنے طور پر اور ان کے حالی موالیوں کے بیانوں کے مطابق وہ برطانیہ میں بیٹھ کر مہاجر قوم کے لئے وہ کردار ادا کریں گے جو امام خمینی نے ایران کو شہنشاہیت سے آزاد کرانے کے لئے کیا تھا۔ چہ نسبت خاک راہ یا عالم پاک“ مگر صاحب وہ جو کہتے ہیں کہ پیر خود نہیں اڑتا اسے اس کے مرید اڑاتے ہیں اور ویسے بھی یہ ”ڈاڑھے منڈھے“ ”لونڈے“ لوگوں میں پیر صاح۶“ کے نام سے پکارے جاتے تھے اور یہ بھی باتیں لوگوں کے ذہن میں ہوں گیں کہ کبھی پیر صاحب کی تصویر ”کروٹن“ کے پتوں پر نظر آتی تھی تو کبھی ان کی شبہہ ”اونکس“ پر ابھر آتی تھی اس سلسلے میں ایک پرلطف بات یہ ہوئی کہ میرے کوئٹہ میں ”جیری“ قیام کے دوران جب یہ باتیں پھیلیں تو ہمارے ایک پٹھان دوست جن کی بلوچستان میں کوئلے کی کانیں ہیں نے ایک دن ہمیں ٹیلی فون کرکے کہا کہ ”جعفری صاحب ہماری کان میں معجزہ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا خان صاحب کانوں میں بھی معجزے ہوتے ہ یں کیا؟ کہنے لگے صاحب میرے ایک سپروائزر نے بتایا کہ کان میں کسی آدمی کا چہرہ نظر آرہا ہے اس کی شکل مہاجروں کے لیڈر سے ملتی ہے“۔ میں نے کہا کہ خان صاحب کراچی میں پٹھانوں کی پٹائی سے آپ کے دماغ پر اثر ہو گیا ہے جو بے تکی ہانک رہے ہیں جس پر وہ ہنسنے لگے۔
ایک دفعہ کراچی سے واپس آئے تو مجھ سے ملے اور کہا کہ جعفری صاحب خدا کا قسم کے جھوٹ نہیں بول رہا ہوں، میں نے صدر میں اپنی آنکھوں سے ایک بینر دیکھا ہے جس پر الطاف حسین کو ”محسن انسانیت“ لکھے دیکھا ہے جب کہ یہ لقب تو رسول پاک کے لئے مخصوص ہے۔ اس بات پر میں بھی بہت شرمندہ ہوا۔ اس طرح کی باتوں سے اس شخص کے لئے لوگوں کے دلوں میں ایک قسم کی کراہیت پیدا ہو رہی تھی مگر مہاجر قوم جو اس شخص کو سب کچھ مانتی تھی اس کی ہر بات اتنا صدقتاً سرتسلیم ختم کرنے کو تیار رہتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پڑھے لکھے ایک شائستہ تہذیب و ثقافت سے تعلق رکھنے والے جب اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس خطہ میں آئے تو ان کی توقعات بہت زیادہ تھیں اور پھر یہ کہ سب سے بڑھ کر یہ تصور کہ پاکستان ہم نے بنایا ہے ان کو ایک ایسی دنیا میں پہنچا دیا تھا جہاں ان سے برتر کوئی نہیں تھا مگر جب وہ اپنی دولت، صلاحیتوں، ہنر مندی، کاریگری اور جفاکشی کے ذریعہ اس خطے کو گل گلزار کرچکے تو وہ عناصر جو رات کو غلام سوئے اور صبح کو آزاد اٹھے انہوں نے انہیں درخور اعتناد نہ سمجھا اور سندھ کے وڈیرے اور نا اہل افراد کو حکومتوں سے نوازے کی پالیسی اختیار کی اور کبھی سندھی قوم پرستی، کبھی سندھ کارڈ اور کبھی اندرہ گاندھی کے ٹینکوں پر سوار ہو کر سندھ پر حکمرانی کی باتیں کرنے والوں کو سر کھجانے کی پالیسی نے اس آبادی کو جو اردو بولتی تھی مجبور کردیا کہ وہ اپنی ایک حیثیت منوائیں۔ پیپلزپارٹی جس کا دعویٰ سوشلزم تھا خالصتاً سندھی متعصب پارٹی کا روپ دھار چکی تھی اور بھٹو کے دور میں لسانی فسادات، سندھی مہاجر قتل اور اندرون سندھ سے مہاجرین کی جبری انخلاءسے اس احساسات کو مزید تقویت ملی جب کہ کراچی اور سندھ کی مذہبی جماعتوں میں فقہیی اختلافات اپنے عروج پر پہنچ گئے تھے، جماعت اسلامی جیسی جماعت میں پنجابی ازم کا دور دورہ تھا لہذا اب اس خلاءکو بھرنے کے لئے اگر شیطان بھی پہنچ جاتا تو یہ قوم اس کے ساتھ ہو جاتی اور یہی ہوا کہ جب ”اے پی ایم ایس او“ کی تخلیق کے بعد ”مہاجر“ کا نعرہ بلند ہوا تو سب اس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ (جاری ہے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں