138

نئے صوبے بنانے ہیں تو سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیدا کریں، وزیراعظم

ملتان (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ نئےصوبے بنانے ہیں تو الیکشن کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے پیدا کریں۔ کوٹ مٹھن میں دریائے سندھ پر شہید بےنظیربھٹو پل کا افتتاح کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ نوازشریف اقتدارمیں آئے توپورے ملک میں ترقی کا سفرشروع ہوا، نوازشریف کی حکومت پہلی حکومت ہے جس نے ماضی کے منصوبے مکمل کیے۔ آج پاکستان کےبہت سے مسائل حل ہوچکےہیں، ہماری حکومت نے بجلی کا بحران حل کیا ، 10 ہزار 400 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوگئی ہے۔ جنوبی پنجاب کے لیے شہبازشریف کے اقدامات مثالی ہیں، صوبے بنانے کے حوالے سے تمام پارٹیاں الیکشن کے بعد قومی اتفاق رائےقائم کریں۔ اس سے قبل سکھر ملتان موٹروے کے ملتان شجاع آباد سیکشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب حکومت سنبھالی تو بہت سے مسائل درپیش تھے، دہشت گردی عروج پر تھی، عوام کو بدترین لوڈشیڈنگ کی عفریت کا سامنا تھا لیکن ہم نے مشکل حالات کے باوجود بھی وہ منصوبے مکمل کئے جو کئی عشروں سے رکے ہوئے تھے اور وہ کام کرکے دکھایا جس کا کوئی خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کوغیرمستحکم کرنے کے لیے دھرنے دیئے گئے،عدالتوں میں گھیسٹا گیا لیکن ہم نےکسی امپائر یا کسی کی انگلی اٹھنے کاانتظارنہیں کیا بلکہ ترقی کا سفر جاری رکھا، اور 5 سال میں وہ کام ہوئے جو 65 سال میں نہیں ہوئے، آج پورے پاکستان میں دیکھ لیں، ہرتحصیل اورضلع میں اربوں روپے کے کام کیے ہیں کسی بھی صوبے میں جائیں، آپ کو (ن) لیگ کے کام نظر آئیں گے، ہمارے پاس بھی اتنے ہی وسائل ہیں جتنےماضی کی حکومتوں کے پاس تھے لیکن کمی صرف نیت اورملک کی خدمت کی تھی، پرویز مشرف کے 10 سالہ آمرانہ دور میں بجلی کے 2 یا 4 کارخانوں کا صرف اعلان کیا گیا لیکن اس پر کوئی عملدرآمد نہیں ہوا جب کہ آصف زرداری نے تو اپنے دورِ حکومت میں کوئی اعلان ہی نہیں کیا تو کوئی منصوبہ مکمل ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہماری حکومت منصوبے کےاعلانات ہی نہیں، مکمل بھی کرکے دکھاتی ہے ہم نے نہ صرف آج بلکہ آنے والے کل کے لیے بھی کام کیا جو دنیا تسلیم کرتی ہے۔ شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ آج جنوبی پنجاب صوبے کا نعرہ لگایا جارہا ہے، جنوبی پنجاب کا نعرہ لگانے والے مشرف کے دائیں بائیں بیٹھے ہوتے تھے اس وقت صوبہ کیوں نہیں بنایا گیا، یہ لوگ اس وقت کہاں تھے؟ پاکستان میں مزید صوبے بننے ہیں توقومی اتفاق رائے ہونا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر جماعت کوحکومت ملی، کسی کو سندھ اور کسی کو کے پی میں حکومت ملی، لیکن پنجاب اور دیگر صوبوں میں فرق واضح نظر آتا ہے، اب انتخابات اورسیاست کا فیصلہ پولنگ اسٹیشن میں ہوگا اورجولائی میں عوام کے پاس فیصلہ آئے گا، ایک طرف وہ سیاست ہے جس کے پلیٹ فارم سے گالیوں اور الزامات کی سیاست ہوتی ہے اور ان سے کسی خیر کی توقع نہیں اور دوسری جانب مسلم لیگ (ن) ہے جو باتوں کے بجائے ملک کی ترقی اورعوام کی خدمت کا پلیٹ فارم ہے، اگرآپ چاہتے ہیں ملک میں ترقی ہوتوفیصلہ مشکل نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں