60

جب گونگا بولا

کیا واقعی خدا نے اس قوم کو اپنی رحمت سے نوازنے کا فیصلہ کرلیا جو ہر کام سے بے نیاز ہو کر ”بے عملی“ کے نشے میں چُور سب کچھ ذات کریم کے ذمے کرکے بھنگ کی پنک میں زندگی گزار رہی ہے جو خدائی احکامات کو پس پشت ڈال کر جنت کا ٹکٹ ملنے کی اُمید میں اور مولویوں کی ستر ستر گز کی حوروں کے چکر میں رال ٹپکا رہی ہے اور وہ قوم جس نے اس کا نام لے کر یہ خطہ حاصل کیا مگر سارے کرتوت شیطانوں کو شرما رہے ہیں۔ وہ قوم جو ہوس دنیا میں آخرت کو بھول کر اپنوں کے گلے کاٹ رہی ہے جس قوم کے بچے بھوک سے مررہے ہیں، جہاں غریب اور لاچار ایک روٹی کے لئے اپنی عزت بیچ رہا ہے، ہاں مگر شاید شان کریمی جوش میں آگئی ہے اور اس بے راہ قوم کو اب راہ راست پر لانے کے لئے حرکت میں آگئی کیونکہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر قانون قدرت اپنا عمل شروع کر دیتا ہے۔ وہ ”اسلامی“ ملک جہاں انصاف نام کی چیز میسر نہ ہو، جہاں قانون بڑوں کے لئے کچھ اور چھوٹوں کے لئے کچھ تھا جہاں دولت مند برسرعام لوگوں کو قتل کرکے انگلیوں سے ”وی“ کا نشان بنا کر فاتحانہ انداز میں قانون کے رکھوالوں کے جھرمٹ میں جیل جاتا اور پھر دولت کے بل بوتے پر کچھ ہی دن ہنستا بولتا باہر آجاتا۔ جہاں حکمران بے گناہ افراد پر گولیاں برسا کر انہیں خاک و خون میں غلطاں کر دیتے اور ان کے اہل خانہ خواتین او ربچے انصاف حاصل کرنے کے لئے دربدر مارے مارے پھرتے، جہاں کے حکمران اپنے عیش و عشرت میں اس قوم کو فراموش کر دیتے جس کا نام لے کر، جنہیں سیڑھی بنا کر وہ اقتدار حاصل کرتے، وہ جو ان بیچاروں کے مرے ہوئے بچوں کو فراموش کرکے اپنی معمولی معمولی بیماریوں کا علاج بھی بیرون ملک کراتے اور وہ جو قوم کا خزانہ ہڑپ کرکے ملک کو کشکول تھما کر بھیک مانگنے پر مجبور کر دیتے مگر غالباً مکافات عمل شروع ہو چکا ہے وہ صاحب اقتدار جو تخت کو اپنے باپ دادا کی میراث سمجھ کر اس پر رونق افروز ہونا اپنا حق سمجھتے تھے آج سلاخوں کے پیچھے ہیں اس ملک نے انہیں ایسی حالت میں دیکھا جس کا تصور انہوں نے خواب میں بھی نہیں کیا ہوگا۔ کہتے ہیں کہ کوئی کوئی بات کوئی کوئی بے تکا، ایسی تک کی کردیتا ہے کہ جس کا تصور اس سے کیا ہی نہیں جا سکتا اور شخص بھی کون جس نے پائے، حلیم، نہاری اور بریانیاں کھلا کر صدارت حاصل کی ہو جو صحیح معنوں میں ”صم بکم“ کی تصویر ہو۔ جن کی آواز سننے کو بیس کروڑ کے چالیس کروڑ کان ترستے ہوں مگر کہتے ہیں کبھی کوئی انہونی بھی ہو جاتی ہے یا قدرت اس کے منہ سے نکوالتی ہے، یہ بات ایسے آدمی نے کہہ دی اور بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی جس پر اپنے تو اپنے غیر بھی شک نہیں کر سکتے تھے کہ ”بھولا“ بھی بول سکتا ہے۔ ہوا یوں کہ جب بدنام زمانہ پنامہ لیکس کا معاملہ کھلا تو جو پنجایت اللہ ہی تھا اور جس کے متعلق صاحب معاملات کہتے تھے کہ ”اوئے کوئی گل نہیں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہے“ تو ملک پاکستان کے ”گونگے“ صدر ممنون حسین (جس کے لئے پوری قوم ان کی ممنون ہے) ایک تقریر میں کہا بلکہ الہامی کلمات ادا فرما دیئے کہ جو کہ کسی ولی اللہ کا کشف ہو یا کسی ماہر ترین نجمی کی پیش گوئی، انہوں نے فرمایا کہ ”پانامہ لیکس کا معاملہ قدرت نے اٹھایا ہے آپ دیکھیں گے کہ سارے لوگ اطمینان سے بیٹھے ہیں جو کہہ رہے کہ ہم نے پکا انتظام کر لیا ہے اب ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، انہوں نے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ کیسا کیسا آدمی پکڑ میں آتا ہے، کچھ زیادہ کچھ نارمل اور کچھ ایکسٹرا اوڈنری کرپٹ ہوتے ہیں، کبھی ان کے چہروں کو غور سے دیکھئے گا یہ کرپٹ لوگ ایک دن لازمی پکڑے جائیں گے۔ جنہوں نے کرپشن کے بڑے معرکے مارے ہیں لیکن یہ کہتے ہیں کہ ان سے بڑا ملک کا ہمدرد کوئی نہیں ہے انہوں نے تو کوئی غلط کام نہیں کیا ہے۔ صدر صاحب نے اپنے الہامی کلام میں کہا کہ وہ وقت آرہا ہے یہ پانامہ لیکس قدرت کی طرف سے اٹھا ہے، نجانے کیسے کیسے لوگ پکڑ میں آئیں گے۔ میری بات یاد رکھئیے، کوئی واقعہ دو ماہ بعد ہو گا، کوئی چار ماہ اور کوئی چھ ماہ بعد، کوئی ایک سال بعد ہو گا۔ یہ اللہ کا نظام ہے جو چوروں، لٹیروں اور ملک دشمنوں کے خلاف حرکت میں آچکا ہے۔ دراصل ہمارے نظام میں صدر کا عہدہ ایک نمائشی عہدہ ہوتا ہے لیکن بعض صدور کی کہی ہوئی باتیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں اور نہ بولنے والے صدر ممنون حسین کی باتیں بھی تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔ آج ان کی کہی ہوئی ایک ایک بات صحیح ثابت ہو رہی ہے اور واقعی چور، لٹیرے اور ملک دشمن کیفر کردار کو پہنچنے والے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ گویا کوئی غیبی طاقت اس بے زبان شخص سے یہ کہلوا رہی تھی۔ یہ بھی قدرت کی طرف سے ایک اشارہ ہے کہ وہ چاہے تو سنگریزوں کو زبان دے دے اور تائب کردے کہ ظلم ایک روز ظالم کو تختہ دار پر لے آتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں