88

ز خم جگر کا مرہم

ملک میں انتخابات کے بعد عمران خان وزیر اعظم کے عہدے کے لئے تیار ہیں۔ خیبرپختونخواہ سمیت پنجاب اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی حکومت کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔ بلوچستان بھی ایک عرصہ سے کراچی کی طرح محرومیوں کا شکار چلا آرہا ہے، وہاں پر سب سے پہلے جنرل رحیم الدین نے ان کی محرومیاں ختم کرنے کی کوشش کیں کیونکہ بلوچستان کے لوگ بھٹو کے فوجی آپریشن کے بعد گلے شکوے کررہے تھے، اس کے بعد صرف دوچار ان کی آرزوﺅں اور تمناﺅں کو سمجھنے والے دو افراد سامنے آئے جس میں سب سے پہلے جنرل رحیم الدین خان نے بلوچوں کے زخموں پر مرہم رکھا بعد میں جنرل ناصر جنجوعہ نے بلوچستان اور بلوچوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کیں۔ بلوچستان میں وہ وقت بھی گزر گیا جب وہاں پاکستان کا پرچم لہرانا ناممکن ہو گیا تھا ایک عرصے تک فوجی آپریشن جاری رہا، بلوچ سردار پہاڑوں پر جا کر اس کی مزاہمت کرتے رہے ان کے بچے بیرونی ملک میں بیٹھ کر علیحدگی کی تحریک چلاتے رہے، جب جنرل ناصر جنجوعہ نے بلوچستان کے مسائل کو حل کرنے کی کوششیں کیں تو وہاں کے حالات بہتر ہونا شروع ہو گئے، بلوچوں نے بھی مزاحمت سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن ان کی شکایات اپنی جگہ قائم و دائم رہیں۔ شکایات تو بلوچوں کی قائم رہیں مگر اس طرح کی شکایات تو اقلیت کو ہمیشہ سے تھیں، بلوچ بھی پاکستان میں کم آبادی کی وجہ سے اکثریت سے شکایت کنندہ رہے۔ اس ہی طرح کی شکایات پختون کی تھیں، سندھ کے رہنے والے بھی اکثریتی صوبے سے شاکی رہتے۔ اکثریت کے رویہ کی شکایت پر برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں بھی نظر آتی ہے اور اس کا حل بھی تاریخ میں تحریز کردیا گیا تھا۔
برصغیر میں انگریز کی حکمرانی نے جہاں وہاں کے عوام کو جدید نظرات سے روشناس کروایا وہیں انہوں نے حکمرانی کے انداز بھی ان لوگوں کو بتائے جو اپنے اپنے علاقوں میں حکمرانی کو قائم و دائم رکھنا چاہتے تھے۔ ہندوستان کے راجے مہاراجوں کے ساتھ مسلمانوں کے نوابین کو انداز حکمرانی سے روشناس کروایا یہ تو وہ تھے جو اپنے اپنے علاقوں پر حکمراں تھے، ساتھ میں مذہبی حکمرانوں کو بھی یہی انداز حکمرانی سکھائے، ہندوﺅں میں برہمن اعلیٰ ہندو ذاتوں کو نیچ ذات کے لوگوں پر اپنی حاکمیت کے طریقہ بھی انگریز کے دور سے پہلے ہی سامنے آئے اس طرح مسلمانوں میں مذہبی حکمرانوں کو اپنے اپنے عقیدے کے لوگوں پر حکومت کرنے کے انداز بتائے گئے۔ ہندوستان کے وسطی علاقوں میں راجوں مہاراجوں نے اور سرحدی علاقوں میں جاگیردار وڈیرے سرداروں کے ذریعہ حکمرانی کی گئی جب انگریز نے ہندوستان کی آزادی کا ارادہ کیا تو اس نے علاقے بھر میں انتخابات کے ذریعہ حاکمییت کو منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ اس طریقہ کے مطابق اکثریت کو اقتدار حاصل ہو جاتا اس طرح یہ طریقہ ہندو رہنماﺅں کے لئے بہت خوش آئند تھا، کیوں کہ ہندو اکثریت کی بناءپر تمام ہندوستان پر ہندو اکثریت حاصل ہو جاتی، اور غیر ہندو جن میں مسلمان بھی تھے وہ حکمرانی سے دور رہتے، مسلمانوں کے رہنما اس ساری صورت حال کو بھانپ چکے تھے، اس ہی وجہ سے قائد اعظم نے جداگانہ انتخابات کی تجویز دی۔ یہ صرف ایک تجویز ہی نہیں بلکہ ہندوستان کے عوام کے لئے ایک بہترین فارمولا تھا، جس کے تحت اکثریت کو اقلیت پر اپنی عددی برتری کی وجہ سے اقتدار سے دور رکھنے سے روکنے کا ایک فارمولہ پیش کیا، آج پورے علاقے میں اکثریت سے اقلیتوں کو شکایت پیدا ہو رہی ہے اس کا حل اس میں موجود ہے، موجودہ دور میں بھارت میں مسلمان ہندو اکثریت کے ہاتھوں کس قدر استحصال کا شکار ہو رہے ہیں آج کس طرح مسلمان بھارت میں بیس کروڑ کی آبادی رکھنے کے باوجود نریندر مودی کے انتہا پسند ہندو نظریات کی وجہ سے نہ صرف اقتدار میں اپنا حصہ نہیں لے پا رہے ہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبہ میں وہ بہت نیچے اور پیچھے نظر آتے ہیں حالانکہ اس کا حل قائد اعظم کے جداگانہ انتخاب کی صورت میں آزادی سے پہلے پیش کیا گیا تھا جس میں آبادی کے ہر طبقے کو نمائندگی حاصل ہو جاتی۔ بالکل اس ہی طرح کی صورت حال موجودہ پاکستان کے صوبے سندھ میں دکھائی دے رہی ہے جہاں پر ہندوستان سے ہجرت کرکے سندھ میں بسنے والے افراد کو ان کی تعداد کے اعتبار سے اقتدار میں شامل نہیں کیا جارہا حالانکہ ان کی آبادی قدیم سندھیوں کے برابر ہے لیکن اقتدار میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہی حال سرکاری اداروں کا ہے جہاں ان کو ان کی آبادی کے اعتبار سے بہت کم ملازمتیں حاصل ہیں۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان بنتے ہی اقتدار اور اختیارات ان ہی ہجرت کرنے والوں کے ہاتھ تھا لیک انہوں نے اصول کے مطابق اقتدار میں قدیم سندھیوں کو بھرپور نمائندگی دلوائی مگر جب اقتدار کلی طور پر ان سندھی نمائندوں کے ہاتھ آیا تو انہوں نے ہجرت کرنے والوں کو دودھ کی مکھی کی طرح سے نکال باہر کیا۔ اور اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرکے پناجب کی اکثریت کا گلہ کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سندھ پر قبضہ سندھ کے حقیقی عوام کا نہیں بلکہ سندھ کے با اثر وڈیروں کا ہے جنہوں نے ہجرت کرنے والے افراد کے ساتھ سندھ کے قدیم عام لوگوں کو بھی اقتدار و اختیار سے دور رکھا۔ وقت آنے پر وہ پنجاب کی بالادستی کی شکایات بھی کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ پنجاب کے عام لوگ بھی اس ہی طرح جاگیرداروں، سرمایہ داروں کے چنگل میں پھنسے ہوتے ہیں جس طرح دیگر صوبوں کے عوام وڈیروں سرداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ ان تمام شکایات کا سدباب اس فارمولہ میں موجود ہیں جو قائد اعظم نے اب سے سو سال پہلے پیش کیا تھا۔ یعنی جداگانہ انتخاب کا نظریہ جس میں آبادی کے ہر طبقے کو اپنی آبادی کی بنیاد پر نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح ہر علاقے کے نمائندے حکومت میں شامل ہو کر انصاف کے مطابق اقتدار اور اختیار حاصل کرسکتے ہیں آج اگر پاکستان میں قائد اعظم کے پیش کئے ہوئے اس جداگانہ انتخابات کے فارمولہ پر منصفانہ انداز میں عمل درآمد کیا جائے، بلوچستان سے لے کر خیبرپختونخواہ کے علاقے فاٹا تک، دوسری طرف سندھ کے کراچی سے لے کر ملتان اور لاہور راولپنڈی تک سب انصاف کے مطابق اپنی نمائندگی حاصل کرکے پاکستان کو ایک ایسی فلاحی مملکت کے طور پر پیش کرسکیں جو دنیا میں ایک قابل رشک حیثیت حاصل کرسکے اور آپس میں عام لوگ آسودہ زندگی گزار کر ایک دوسرے کے ساتھ اس ہی طرح پیار محبت سے رہ سکیں جیسے قیام پاکستان کے موقع پر ایک دوسرے کے ساتھ محبت تھی بشرط کہ وہ قائد اعظم کے اس فارمولہ پر عمل پیرا ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں