100

گلوبل وارمنگ سے جنوبی ایشیا کے دریائی پانی میں اضافہ متوقع

اسلام آباد: ماہرین نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے تمام بڑے دریاو¿ں میں پانی کی فراہمی اور بہاو¿ میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا۔
اقوامِ متحدہ کے تحت بین الحکومتی پینل برائے اب و ہوائی تبدیلی (آئی پی سی سی) کی پانچویں تجزیاتی رپورٹ میں ماہرین نے کہا ہے کہ نمی سے بھرپور مستقبل جنوبی ایشیائی دریاو¿ں کا منتظر ہے اور اس کےلیے ماہرین نے 1976 سے 2005 کے درمیان خطے کے دریاو¿ں کا ایک بیس لائن سروے کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2046 سے 2075 کے درمیان جنوبی ایشیا کے تمام بڑے دریاو¿ں میں پانی کی مقدار 20 سے 30 فیصد تک بڑھ جائے گی۔ اس بات کا انکشاف رپورٹ کے مرکزی مصنف ہونگ ڑنگ زینگ نے کیا ہے جس کی تفصیلات جرنل آف ہائیڈرولوجی میں شائع ہوئی ہیں۔
اس وقت جنوبی ایشیا کے جو علاقے خشک ہیں وہاں نمی دو فیصد سے زائد اور موجود نمی سے بھرپور علاقوں میں ڈیڑھ سے دو فیصد نمی بڑھ جائے گی۔ ماہرین نے 29 برس تک جنوبی ایشیا کے دریاو¿ں کے بہاو¿ میں کمی بیشی کو احتیاط سے نوٹ کیا ہے۔
جنوبی ایشیا 54 بڑے دریاو¿ں کی سرزمین ہے جن میں دریائے سندھ، دریائے گنگا اور دریائے برہم پترا اور اس کے طاس بہت مشہور ہیں۔ ان کا ظہور چین علاقے تبت سے ہوتا ہے۔ دریائے سندھ کا طاس چین کو افغانستان، پاکستان اور بھارت سے ملاتا ہے جبکہ برہم پترا اور گنگا سے جڑنے والے ممالک میں بنگلہ دیش، بھوٹان، بھارت اور نیپال شامل ہیں۔
سروے کے دوران ماہرین نے زمینی اور سیٹلائٹ ڈیٹا اور تصاویر سے دریاو¿ں کا مستقبل نامہ تخلیق کیا ہے جو نئے مطالعے سے ہم آہنگ بھی ہے۔

دریائے سندھ کا پانی 10 فیصد بڑھ جائے گا
ماہرین نے کہا ہے کہ مستقبل میں دریائے سندھ کے پانی کا بہاو¿ 10 فیصد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ گنگا اور برہم پترا میں پانی کی مقدار 15 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ سری لنکا کے نرمدا تاپتی علاقے کے دریاو¿ں میں پانی میں 20 فیصد تک اضافہ ہوگا۔
پاکستان کے بالائی علاقوں میں ہزاروں گلیشیئر موجود ہیں اور ان کا پگھلاو¿ تیزی سے جاری ہے۔ برف گھلنے سے گلگت، استور اور دیگر علاقوں کا پانی بھی دریائے سندھ میں شامل ہوجائے گا۔ اس طرح پورے دریائے سندھ میں پانی کی مقدار اور بہاو¿ بڑھے گا۔
لیکن ماہرین نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو اس کی وجہ قرار دیا ہے جس سے سردیاں بھی گرم ہوں گی اور گرمیوں میں اوسط درجہ حرارت بڑھے گا جس کا مشاہدہ ہم آج بھی کررہے ہیں۔ اس ضمن میں بین الاقوامی مرکز برائے پہاڑ اور ترقی (آئی سی آئی ایم او ڈی) سے وابستہ دریائی طاس کے نگران ارون شریستہ کہتے ہیں کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جنوبی ایشائی دریاو¿ں میں پانی کم ہورہا ہے لیکن خود ان دریاو¿ں سے حاصل ڈیٹا، فیلڈ رپورٹس اور سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ تمام دریا کے پانی میں اضافہ ہوگا۔
شریستا کےمطابق اگر اس پانی کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو جنوبی ایشیا میں غربت کے خاتمے اور معاشی ترقی میں مدد مل سکے گی کیونکہ خطے میں آبادی کا انحصار زراعت پر ہے۔ تاہم دریائی بہاو¿ سے سیلاب، زمینی کٹاو¿، سیم اور خشک سالی کے خطرات بھی بڑھیں گے۔
پاکستان کے 145 اضلاع میں سے 50 ایسے ہیں جو براہِ راست سیلابی راستوں کی زد میں آتے ہیں۔ دوسری جانب گلیشیئر پگھلنے سے بھی پاکستان کے بالائی علاقوں میں غیرمتوقع اور فوری سیلاب کا خطرہ اپنی جگہ موجود ہے۔
پاکستان محمکہ موسمیات کے ڈائریکٹر جرنل اور جنوبی ایشیا میں آب و ہوا میں تبدیلی کے ممتاز ماہر ڈاکٹر غلام رسول نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کو سیلاب جھیلنے والی زراعت، پانی میں اگنے والی فصلوں اور انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ غلام رسول نے جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون اور سیلاب سے بروقت خبردار کرنے والے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ خبر سائنس اینڈ ڈویلپمنٹ نیٹ ورک لندن کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں