Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 48

اب پاکستان وزیر اعظم بن گیا

پاکستان بدل رہا ہے، اس بدلاﺅ کی ابتداءنئی حکومت کی تشکیل اور اس کے انقلابی اعلانات سے ہو چکی ہے، جرم کی سرزمین پر کھڑی کی جانے والی سیاسی اور نیم جمہوری عمارت کی بنیادیں تیزی سے ہلتی جارہی ہیں اور جیسے جیسے عمران خان کی حکومت مزید اقدامات کرتی جائے گی ویسے ویسے سیاست سے بالخصوص اور جمہوریت سے بالعموم جرم کا خاتمہ ہوتا جائے گا۔ جس کے بعد ہی حقیقی معنوں میں نہ صرف قومی ادارے آزاد ہوں گے بلکہ قانون کا سورج بھی پورے آب و تاب کے ساتھ مملکت خداداد پاکستان میں طلوع ہو گا اور پھر کسی ریمنڈ ڈیوس کو نہ تو کھلے عام کسی پاکستانی کو قتل کرنے اور نہ ہی آزادانہ طریقے سے رہا کروا کر لے جانے کی جرات ہو گی۔ جی ہاں پاکستان بدل رہا ہے اگر یہ کہا جائے کہ اپنی اصلی پوزیشن پر آرہا ہے تو غلط نہ ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے گئے اس طرح سے وہ اب ملک سے باہر نہیں جا سکتے گرچہ وہ دونوں سزا یافتہ مجرم ہیں اور اڈیالہ جیل میں گیارہ اور آٹھ سال کی سزا بھگت رہے ہیں چونکہ دونوں کے وکلاءہائی کورٹ میں احتساب کورٹ کے فیصلے کے معطلی اور دونوں کی ضمانتوں پر رہائی کی اپیلیں کی ہیں جس کے بعد اس خدشے کے پیش نظر کہ اگر دونوں کی سزا معطل ہونے کے بعد ضمانت پر رہائی مل گئی تو وہ دونوں ملک سے فرار نہ ہو جائیں اسی وجہ سے ان کے نام ایگزسٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیئے گئے ہیں جسے مسلم لیگ نون نے نئی حکمت کے پہلے انتقامی فیصلے کا نام دیا ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو عمران خان نے وہی کیا ہے جس کی اجازت آئین اسے دیتا ہے ان مجرموں کے خلاف تو نیب نے دو ماہ قبل ہی وزارت داخلہ کو رپورٹ بھجوائی تھی کہ ان کے نام ای سی ایل میں ڈال دیئے جائیں مگر نگراں حکومت نے اس سے اجتناب برتا۔ وزیر اعظم عمران خان پہلے ہی اپنے ابتدائی تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ بہت ہی کڑا اور سخت احتساب ہو گا جس جس نے بھی قومی دولت لوٹ کر ملک کو مقروض کیا ہے سب کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ انہوں نے خطاب میں قوم سے کہا تھا کہ وہ تیار ہو جائیں کیونکہ اس طرح کے سیاستدان شور مچائیں گے اور سڑکوں پر نکل آئیں گے اور جمہوریت خطرے میں ہے کی دہائی دیں گے، میرے خیال میں عمران خان کی بات سو فیصد درست ہے اور شور مچائے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ پاکستان کے دو خودساختہ بابائے جمہوریت رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر نے وزیر اعظم عمران خان کے پہلے عوامی خطاب پر بیان داغ دیا کہ عمران خان اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کی سازش کررہے ہیں ان عقل کے اندھوں سے کوئی یہ پوچھے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کیا پاکستان کے صوبے مدر پدر آزاد ہو گئے؟ اور ان سے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں؟ اور عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں ایسی کون سی بات کی ہے انہوں نے پولیس کے نظام کو بہتر کرنے کا کہا ہے اور وہ کوئی غلط بات نہیں اگر صوبے اپنا کام بہتر طریقے سے نہیں کر پائیں گے تو مرکزی حکومت کو اس میں مداخلت کرنا پڑے گی۔ بات ملکی عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔ عمران خان پولیس سمیت تمام سرکاری اداروں کو سیاسی تسلط سے آزاد کروانا چاہتے ہیں یہ کون سی اٹھارویں ترمیم سے متصادم ہونے والی بات ہے اگر صوبے اپنے سرکاری اداروں میں اپنی مداخلت کو اپنا جمہوری اور آئینی حق سمجھتے ہیں تو پھر یہ جمہور کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی اس لئے کہ خود عوام یعنی جمہور بھی یہ نہیں چاہتی کہ صوبائی سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت ہو بلکہ وہ تو ہر کام میرٹ پر کرنے کے خواہش مند ہیں اسی وجہ سے انہوں نے اپنی آواز عمران خان کے آواز میں شامل کرلی ہے جب کہ رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر جیسے خود ساختہ جمہوریت کے داعی اس طرح سے اٹھارویں ترمیم کا سہارہ لے کر اداروں میں سیاسی مداخلت کے لئے راہیں ہموار کررہے ہیں جو کہ عوام کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے اور عوام کو اس طرح کی پارٹیوں کا بائیکاٹ کرنا چاہئے جو ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لئے ہر وقت تیار بیٹھے ہوئے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ عمران خان کے وزیر اعظم بن جانے کی وجہ سے ملکی عوام بھی عملی طور پر حکمرانی میں شامل ہو گئے ہیں اور 71 برسوں کے بعد اب ان کا ٹیکس سرکاری سرپرستی میں خود ان کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو سکے گا۔ عمران خان نے جتنے بھی اعلانات کئے ہیں وہ گرچہ ناممکن نہیں مگر مشکل ضرور ہیں اس لئے کہ ملک کا ایک طاقتور میڈیا اس فرسودہ سسٹم اور ان مجرم زدہ سیاستدانوں کی پشت پر کھڑا ہے جو ملک کو قرضوں کی دلدل میں ڈبو چکا ہے۔ وہ طاقتور میڈیا نئی حکومت اور خاص طور سے عمران خان کو ناکام کرنے یا ان کی مشکلات میں اضافہ کرنے کے لئے کوئی ایک بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہا ہے۔ اس لئے کہ خود اس طاقتور میڈیا اور ان مجرم زدہ سیاستدانوں کے مفادات ایک ہیں۔ وہ سیاستدان حکمرانی میں آنے کے بعد اپنی لوٹ مار سے ہونے والی آمدنی سے طاقت ور میڈیا کو بھی مستفیض کرتے رہے ہیں اس وجہ سے وہ طاقتور میڈیا خود اپنی بقاءکے لئے موجودہ حکومت کی مخالفت کرکے عوام کو گمراہ کررہا ہے اور اپوزیشن کے بیانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے جب کہ ملکی عوام میں عمران خان کے پہلے قومی خطاب سے آگے بڑھنے کی ایک امنگ پیدا ہوگئی ہے اور انہیں یقین ہو چکا ہے کہ ان کے اچھے دن آنے والے ہیں جب کہ ملک بھر میں ہر طرح کے جرائم کرنے والے خاص طور سے وہائٹ کالر مجرموں کی ہوا خراب ہو گئی ہے۔ انہیں اپنی گرفتاری کا ڈر ہو گیا ہے جب کہ کاروباری حلقوں خاص طور سے کسانوں اور ایکسپورٹرز میں خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی ہے وہ اب پاکستان کی سرزمین کو تجارت کے لئے زرخیز اور جرم کے لئے بنجر خیال کررہے ہیں۔ ملکی عوام کو چاہئے کہ وہ میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈے پر کان نہ دھریں بلکہ اپنے قائد کے احکامات پر عمل کرکے ان کی ٹیم کا حصہ بن جائیں اور ملک لوٹنے والوں کی نشاندہی کرکے حکومت کے کام کو آسان بنائیں اسی میں نیا پاکستان مضمر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں