Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 110

تحفظات

عرصے دراز سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ سفید بھیڑوں میں ایک آدھ کالی بھیڑ بھی ہوتی ہے لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف میں کالی بھیڑوں کے درمیان عمران سمیت سفید بھیڑوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔خود عمران خان تو ایک بہت ہی بہادر پر عزم شکست نہ کھانے والا اور اپنے ارادے پر قائم رہنے والا شخص ہے 22 سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد اس نے اس تحریک کو کامیابی کی منزل تک پہونچادیا جس کا عزم لے کر وہ چلا تھا خدا کا شکر ہے کہ اس نے پاکستان سے موروثی سیاست یعنی بادشاہت کا خاتمہ کردیا اب یہ کالی بھیڑیں جو تحریک انصاف میں دور سے نظر آرہی ہیں ان کو پارٹی میں لینا ،عمران خان کی مجبوری تھی کیوں کے ان کے بغیر پاکستان کے کئی علاقوں سے تحریک انصاف کا جیتنا ایک مشکل بلکہ ناممکن امر تھا اس کا مطلب ہوتا کہ عمران خان حکومت میں نہیں آتا کیوں کہ ان علاقوں کے رہنے والے صدیوں سے لکیر کے فقیر اور با اثر لوگوں کے غلام چلے آرہے ہیں دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے یہ لوگ ووٹ ان کو ہی دیتے ہیں جو پاکستان بننے کے فورا” بعدجاگیر دار ،زمیندار اور شہروں کے سرمایہ دار اپنے اپنے علاقوں کے بدمعاش بن گئے تھے اور آج تک قائم ہیں لہذا ایسے علاقوں کے با اثر لوگوں کو پارٹی میں لینے کی مجبوری تھی۔آئیندہ کا لائحہ عمل کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔تیسری دنیا کے کئی ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی سیاست دانوں اور جرائم پیشہ افراد کا جنم جنم کا ساتھ ہے ان کے گٹھ جوڑ کے بغیر سیاست میں آگے بڑھنا اور حکومت کرنا نا ممکن ہوجاتا ہے جن ممالک میں یہ ریت پڑجاتی ہے اور سسٹم کا حصّہ بن جاتی ہے وہ ممالک پستی میں گرتے جاتے ہیں اور ایک دن صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں اور اگر قائم بھی رہتے ہیں تو ایک بھکاری ایک زندہ لاش کی طرح ہوتے ہیں۔دنیا کی کئی تحریکیں اس لئے د م توڑ گئیں کہ ان کی بنیاد خلوص اور نیک نیتی پر قائم نہیں تھی۔تحریکیں غربت سے جنم لیتی ہیں اور کامیابی کے قریب پہونچنے سے پہلے ہی اغوائ ہوجاتی ہیں ملکیت کے دعوے دار امیر اور جرائم پیشہ لوگ ہوجاتے ہیں اور اصل حقداروں کو یا تو ٹھکانے لگادیا جاتا ہے یا پھر صولت مرزا کی طرح جیل میں سڑنے کے لئے چھوڑدیا جاتا ہے غریب لوگوں کے پاس جلسے جلوس کے لئے پیسہ بھی نہیں ہوتا لہذا یہ امیر اور جرائم پیشہ قیمتی اسٹیج بناکر سب سے آگے بیٹھے نظر آتے ہیں۔بہرحال تحریک انصاف مکمل تو نہیں کچھ فیصد یرغمال بنی نظر آرہی ہے لیکن ابھی سے اگر کوشش کی جائے تو اسے بلیک میل ہونے سے بچایا جاسکتا ہے اور امید ہے مستقبل میں اسے کالی بھیڑوں سے چھٹکارا مل جائے گا۔ورنہ وہ پارٹیاں جو غلط ہاتھوں میں یرغمال بنی رہتی ہیں آہستہ آہستہ محدود ہوکر فنا ہوجاتی ہیں۔پیپلز پارٹی کی مثال ہمارے سامنے ہے ملک کی سب سے بڑی اور مضبوط پارٹی تھی لیکن اس کو مضبوط بنانے کے لئے ایسے وڈیروں اور جاگیر داروں کو شامل کرنا پڑا جن کا اپنے علاقوں میں اثر رسوخ بلکہ بادشاہت تھی ان میں سے کئی افراد کو بھٹّو ناپسند کرتا تھا لیکن ان کو شامل کرنا اس کی مجبوری تھی بھٹّو ایک منجھا ہوا اور زیرک سیاست دان تھا حکومت میں اور سیاست میں رہنے کے باعث سیاسی امور سے بخوبی واقف تھا۔سو فیصد ایمان دار اور محبّ وطن تو نہیں تھا لیکن سیاست کو اور سیاست میں اپنے فائدے کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ عوام کو خوش رکھنے کا فن بھی جانتا تھا اسے ایسے لوگوں کو پارٹی میں شامل کرنا پڑا جن کے بغیر نہ اس کی پارٹی چل سکتی تھی اور نہ وہ الیکشن میں جیت سکتا تھا۔اس کی مثال دینے کا مقصد یہ ہے کہ آج کے حالات اس سے بہت مطابقت رکھتے ہیں اس کی پارٹی کے اہم لوگ ڈاکٹر مبشّر ، حفیظ پیر زادہ ،مصطفے کھر،ممتاز بھٹّو ،جام صادق ،کمال اظفر نمایاں تھے۔ حفیظ پیرزادہ نے جو کہ وزیر قانون اور وزیر تعلیم رہے پی آئی اے جیسے بڑے بڑے محکموں میں اہم عہدوں پر ناکارہ لوگوں کو جو ان کے اپنے آدمی تھے بھرتی کروایا۔مصطفے کھر جو کہ پنجاب کا وزیر اعلی بنا اور اندر ہی اندر بھٹّو کی جڑیں کاٹ رہا تھا۔اور آخر کار بھٹّو نے تنگ آکر اسے نکال دیا۔جام صادق جو کہ ہر وقت شراب کے نشے میں دھت رہتا تھا لیکن اپنے قبیلے کا پیر اور بہت بڑا نمائندہ تھا ،بھٹّو نے اس کو سندھ کا صوبائی وزیر بنایا اور اس نے پولیس اور اپنے غنڈوں کی مدد سے بھٹّو کے مخالفین کو ٹھکانے لگایا۔بھٹّو کی پھانسی کے بعد اسے ملک سے فرار ہونا پڑا کیونکہ اس پر کئی سنگین الزامات تھے۔ 1980ءمیں جام صادق پیرس میں بے نظیر سے ملا اور پیپلز پارٹی سندھ کا صدر بننے کی خواہش ظاہر کی بے نظیر اسے اس لئے بھی پسند نہیں کرتی تھی کہ بھٹّو کی گرفتاری اور پھانسی پر جام صادق لا تعلق رہا تھا لہذا بے نظیر نے اس کی خواہش کو ٹھکرادیااور اس نے انکار کردیا بعد میں بے نظیر نے اسے پارٹی سے بھی نکال دیااس بات پر جام صادق بے نظیر کا دشمن بن گیا۔وہ نواز شریف کی پارٹی میں آگیا اور سندھ کا وزیر اعلی بن گیا ،وہ اس قدر کینہ پرور تھا کہ وزیر اعلی سندھ بن جانے کے بعد انتقاما” بے نظیر اور اس کے حامیوں پر جھوٹے مقدمات بنوائے اور ان کو بہت نقصان پہونچایا یہی نہیں بلکہ ایم کیوایم پر اور ن لیگ کے دوسرے مخالفین پر زندگی تنگ کردی۔۔ممتاز بھٹّو کرپٹ ترین وزیر اعلی سندھ سندھی مہاجر فساد کی وجہ بنا اور پھر اسے کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے وزیر اعلی کے عہدے سے فارغ کردیا گیا لیکن بعد میں گورنر بنادیا گیا آخر بھٹّو کا کزن تھا۔ ممتاز بھٹّو نے نواز شریف کی حکومت میں آنے کی بہت کوشش کی لیکن حوصلہ افزائی نہ ہوئی۔ ذوالفقار علی بھٹّو نے جن لوگوں کو وزارتوں سے نوزا تھا وہ کرپٹ ترین لوگ تھے لیکن اپنے علاقوں کے اثر رسوخ والے تھے اس لئے بھٹّو ان کے ہاتھوں بلیک میل ہوگیا لیکن اب بھٹّو کی پارٹی دم توڑ رہی ہے سندھ تک محدود ہوگئی تھی اور اب یہاں بھی مقبولیت کم ہورہی ہے۔ مستقبل میں عمران خان نے بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوں گے اور بلیک میل ہونے سے بچنا ہوگا۔عمران خان نے وزیر اعظم بننے سے پہلے جو وعدے کئے تھے ان پر قائم ہے اور اپنی پہلی تقریر میں ان کو دہرایا ہے۔اس سے پہلے اس نے حلف اٹھایا اگر وہ انگلش میں حلف اٹھاتا تو اس کے لئے زیادہ آسان تھا لیکن اس نے اپنی قومی زبان کو ترجیح دی اس پر بھی مخالفین نے اعتراضات کی بھرمار کردی زرداری اور نواز شریف نےماضی میں انگلش میں حلف لیا تھا جب کہ ان کے لئے اردو میں زیادہ آسانی تھی۔عمران خان کی حلف برداری کی تقریب میں دو مرتبہ مشکل الفاظ میں اٹک جانے پر مخالفین میں صف ماتم بچھ گئی سوشل میڈیا پر تابڑ توڑ حملے ہوئے کوئی کہہ رہا ہے اردو صحیح نہیں بولی جو کہ قومی زبان ہے کسی نے اس کو مذہب سے لاعلمی کا نام دیا غرض جتنے فٹے منہ اتنی باتیں حالانکہ یہ کوئی اتنی خطرناک بات نہیں تھی جس کے لئے اتنا واویلا مچایا جائے عربی اور فارسی میں کچھ پڑھتے وقت اٹک جانے کی غلطیاں بڑے بڑے عالم دین سے ہوجاتی ہیں حافظ قرآن نماز پڑھاتے وقت آئیتوں میں غلطیاں کرجاتے ہیں لیکن ان اعتراض کرنے والوں کو کبھی کسی عالم دین سے کچھ سننے کا اتّفاق ہو تو معلوم ہو۔اس کے علاوہ ہمارے کئی سابقہ وزراءاعلی اور وزراءاعظم اسمبلی میں ایک آسان سی آئیت سناتے ہوئے اٹک گئے اور باوجود کوشش کے سنا نہ سکے اسی طرح قومی اسمبلی کے ممبران کے ساتھ ہوچکا ہے جو کہ کثرت رائے سے وزیر اعظم بھی بن سکتے ہیں اور یہ لوگ قومی ترانہ تک نہ سناسکے بشمول فاروق ستّار جو اپنے آپ کو بڑا اردو دان سمجھتے ہیں۔بھٹّو، بے نظیر اور بلاول کی اردو اور دینی معلومات سے تو سب ہی واقف ہوں گے مخالفین کو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ کھجلی کم کرنے کی دوا استعمال کریں کیونکہ جو ہونا تھا وہ تو ہوچکا اب لکیر پیٹتے رہیں۔بہرحال اب تبدیلی آئی ہے اللہ کرے عمران خان پاکستان کے لئے ایک بہترین رہنما ثابت ہو ہماری نیک دعائیں تحریک انصاف کے ساتھ ہیں امیدیں اس وقت تک ہیں جب تک انصاف سے کام لیا جاتارہے۔کسی بھی پارٹی کی حمایت کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ اس پارٹی کے کچھ اہم لوگ اگر غلط کام کریں تو غلط نہ کہا جائے اور غلط دلیلوں سے دفاع کیا جائے تبدیلی جب ہی آسکتی ہے جب دلوں کو کشادہ کیا جائے اور اپنے ہی لوگوں کا محاسبہ کیا جائے۔خاص طور پر عمران شاہ کی بدمعاشی کا نوٹس لیا جائے اور پوری طرح تحقیقات کرکے اس کی سوتیلی ماں کو انصاف فراہم کیا جائے ،ورنہ سب کچھ ویسا ہی رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں