182

نمود و نمائش

عمران خان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم سے پہلے خطاب کے دوران اپنے جس طرح کے خیالات اور منصوبوں کا اعلان کیا وہ سب عوام کے دل کی آواز تھی تمام پاکستانی دل کی گہرائیوں سے ان کی آواز سے آواز ملانے کے لئے تیار ہو گیا۔ ان کے مقاصد کسی حد تک پورے ہو سکتے ہیں وہ سب کچھ ان منصوبوں اور اداروں پر عمل درآمد پر منحصر ہے۔ یہ سب کچھ اس ہی طرح ممکن ہے کہ ہر فرد اپنے آپ کو ان مقاصد کی تکمیل کے لئے اس طرح وقف کردے جس طرح حکمراں ان پر عمل پیرا ہوں یعنی معاشرے کے تمام طبقات کو نمائشی نہیں بلکہ خلوص دل سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ اب تک ہمارے معاشرے میں نمائشی اقدامات ہی اٹھائے گئے۔ تمام عرصہ نمود و نمائش میں گزار کر وطن کے ستر سال برباد کردیئے۔ اب بحیثیت قوم نمود و نمائش کے بجائے عملی جدوجہد کرنا پڑے گی۔ یہی وقت کی ضرورت ہے۔
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک اللہ والے بزرگ نے خواب میں دیکھا کہ ملک کا حکمراں تو جنت کے باغوں کی سیر کررہا ہے اور ایک دنیا پرست درویش دوزخ کی آگ میں جل رہا ہے، بزرگ نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ کیسا عجب ماجرا ہے، لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ حکمراں جہنم کی آگ میں جلے گا۔ پرہیز گار جنت میں جائے گا، لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے، حکمراں جنت میں، پرہیز گار جہنم میں۔ صدا آئی اس کا باعث یہ ہے کہ حکمراں ہمیشہ متقی لوگوں کی عزت کرتا اور ان کی صحبت میں بیٹھ کر ان کی باتیں سن کر خوش ہوتا لیکن یہ پرہیز گار ہمیشہ اس فکر میں رہتا کہ کس طرح بادشاہ کے دربار میں حاضر ہو جائے اور اس سے انعام و اکرام کے ساتھ ستائش حاصل ہو جائے۔ شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ
خدا محبوب رکھتا ہے نہ گدڑی کو نہ کمبلی کو
اسے محبوب رکھتا ہے جو نیک کام کرتا ہے
اب نیک کام تو مغربی ممالک میں ہو رہے ہیں جو عوام کی خدمت کے لئے ہوتے ہیں جیسا کہ کینیڈا کے قوانین تین سطح کے ہیں سب سے اوپر فیڈرل قوانین ہیں۔ جنہیں ہم ملکی یا قومی سطح کے قوانین کہتے ہیں دوسرے درجے پہ صوبائی قوانین ہیں، تیسرے درجے پر شہری قوانین ہیں۔ ہر طرح کے قوانین اپنے اپنے دائرے میں نافذ ہوتے ہیں۔ یہ قوانین اس طرح ان کے معاشرے کا حصہ بن جاتے ہیں کہ یہاں کا معاشرہ اس طرح سے تعمیر ہوا کہ یہ یہاں کے افراد کی عادات میں یہ قوانین شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسے معاشرے کی تشیل دے رہے ہیں کہ باہر سے آنے والے بھی ان کی معاشرت میں مدغم ہوتے چلے جاتے ہیں اور اپنے آپ کو اس معاشرے کا حصہ سمجھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ان کے معاشرے میں اتنی وسعت ہوتی ہے کہ ہر طرح کی تہذیب کے مثبت پہلوﺅں کو اپنی معاشرت کا حصہ بنا لیتے ہیں اس لئے یہ اب ایک ایسی سوسائٹی بن چکی ہے جس میں دنیا کے مختلف ملکوں سے آنے والے ان کی معاشرت میں گھل مل جاتے ہیں۔ اس طرح یہاں کی معاشرت بڑی مضبوط بنیادوں پر نہ صرف کھڑی ہو رہی ہے بلکہ اس میں بہت تیزی سے وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ اس کے برخلاف جب ہم اپنے آبائی علاقوں کی تہذیب و تمدن کا جائزہ لیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے اس ملک کی ابتدائی دنوں کے مقابلے میں یہاں کی معاشرت دن بہ دن زوال پذیر ہے۔ یعنی اس علاقے کے رہنے والوں میں پاکستان کے قیام کے موقع پر جو اقدار تھیں بہت تیزی سے زوال کا شکار ہونا شروع ہو گئیں اس طرح اب ستر سال کے بعد معاشرہ تتر بتر ہو چکا ہے۔ مثبت اقدار تیزی سے ختم ہوتی جارہی ہیں۔ منفی رجحانات تیزی سے پروان چڑھتے جارہے ہیں، زندگی کے ہر شعبہ میں ٹوٹ پھوٹ صاف نظر آرہی ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ حکمراں عوام کو ذمہ دار سمجھ رہے ہیں عوام حکمرانوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، ہر شعبہ زندگی کے لوگ اپنی خرابی کا ذمہ دار دوسرے طبقے کو سمجھتے ہیں یعنی تمام خرابیاں ان میں بحیثیت مجموعی خود ان میں ہی پائی جاتی ہیں جن کی وہ دوسرے شعبہ زندگی کے لوگوں میں سمجھ کر ان کی خرابیوں کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں یعنی ہر ایک شعبہ زوال کی جانب تیزی سے گر رہا ہے۔ خود کو اس سے مبرا سمجھ رہا ہے پاکستان میں قدر نمود و نمائش کے ذریعہ ان منفی اقدار کو فروغ دیا جارہا ہے، کوئی ایک طبقہ ایسا نہیں دکھائی دیتا جس کے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ شاید ان میں سے کچھ لوگ اس زوال سے نکال سکیں۔ کسی معاشرہ کی کل کی شکل میں دیکھا اور سمجھا جاتا ہے اس کا کوئی جزو اگر کچھ بہتر بھی ہے تو بھی کلی طور پر اس معاشرے کو منفی شمار کیا جائے گا۔ پاکستان میں سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ حکمرانوں سے مراد ہر شعبہ کا با اختیار طبقہ۔ ان میں سیاستدانوں، جنرلوں، عدلیہ، مذہبی ذمہ داروں اور معاشرے کے دانشوروں طبقہ کو سمجھا جاتا ہے۔ اگر ان کا الگ الگ تحریر کیا جائے تو ان میں مجموعی طور پر وہ تمام خامیاں نمایاں طور پر نظر آئیں گی جو کہ معاشرے میں واضح تو دکھائی دے رہی ہوں، کسی ایک طبقہ سے یہ توقع رکھنا کہ یہ ملک کو یا معاشرے کو درست سمت دے سکے گا، غلط ہوگا کیونکہ خرابیاں اس قدر زیادہ اور گہری ہو چکی ہیں کہ کوئی ایک طبقہ با اختیار ہو کر باقی تمام طبقوں کو درست کر سکے۔ پاکستان میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ فوج ملک کا اقتدار سنبھالے تو شاید ملک کی تقدیر بدل جائے۔ خرابیاں اس قدر پھیل گئیں ہیں کہ فوج معاشرے کے ہر طبقے کے لوگوں کے دماغوں کی سمت کو درست نہیں کر سکتی۔ اس ہی طرح سیاستدان بھی۔ اس ہی طرح کی اہلیت نہیں رکھتے کہ وہ فوج سمیت تمام معاشرے کو ان کے صحیح مقام کا تعین کروا سکیں۔ نہ ہی عوام ان کی بات ماننے کو تیار، نہ ہی فوجی قیادت ان کی حکامیت تسلیم کرنے کو تیار کیونکہ سیاستدان خود نا اہل ہیں۔ ان میں بھی وہ ہی خرابیاں ہیں جو معاشرے کے ہر طبقہ میں موجود ہیں۔ نہ ہی مذہبی رہنماﺅں میں وہ اہلیت ہے جو کہ اولین دور کے علماءکرام میں تھی جن کی حکمرانوں سے لے کر عوام تک بہت عزت و تکریم تھی اس ہی طرح عوام کے مختلف طبقات میں وہ خصوصیات نظر نہیں آتی سب ہیں جو پرانی نسل یا ان کے بزرگوں کی عزت اور تکریم کا باعث ہوتی تھی اس کے لئے سب کو مل کر اپنے اپنے اندر سے وہ خرابیاں اور خامیاں نکالنی ہوں گی۔ جس نے ان سے پہلے کی نسل بہت دور تھی۔ اب بزرگ خواب کی تعبیر یہ نظر آتی ہے کہ جس میں یہ کہ یورپ کے حکمراں جس سادہ انداز میں زندگیاں بسر کرتے ہیں اور اپنے عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر اپنی تمام توانائیاں صرف کردیتے ہیں ان کی زندگی کو دیکھ کر اپنے ان اکابرین کی سیرت نظر آتی ہے جو ہم نے ایک پاکستانی یا مسلمان کے فراموش کردی ہیں لیکن ان مغربی حکمران نے ان وصف کو اختیار کرکے نہ صرف اپنے عوام کی سہولت کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ان کے بارے میں ان بزرگ کے خواب کی تعبیر نظر آتی ہے جو جنت کے باغوں کی سیر کررہے ہیں۔ اس کے برخلاف ہمارے لوگ یہ بھی دیکھ رہے ہیں جو اپنے آپ کو پرہیزگار بنا کر پیش کررہے ہیں ان کے انداز کا حال جان کر ہی ان کو جہنم کی آگ میں ڈالا جارہا ہے ہمارے معاشرے میں جو ظاہری طور پر بڑے پرہیز گار بن کر عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں