71

اوقات پر آجاﺅ

ابھی عمران خان کو اقتدار حاصل ہوئے چند ہی دن گزرے ہیں اور بقول شخصے نواز شریف کے ”دور ابتلا“ کے کفن کو میلے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا ہے مگر اس دور کے پروردہ اور در دولت کے سگ بھونک بھونک کر اپنے گلے بٹھا رہے ہیں۔ نوارد وزیر اعظم کے ایک ایک لمحہ پر نظر رکھی جارہی ہے، ایک ایک سانس گنی جارہی ہے۔ ہر حرکت پر نگاہیں اور ہر آہٹ پر کان لگے ہوئے ہیں، وہ ”باخبر“ گرگے کہاں گئے جنہیں غاصب، کازب اور ابن الوقت صاحب اقتدار کے دور حکمرانی کی بڑی سے بڑی لغزیشن نظر آتی تھی۔اس کی کوئی بھی ملک دشمنی کی اطلاع انہیں ہوتی تھی، اس کی عیاریوں اور مکاریوں کو وہ ان کی ادا خاص سمجھتے تھے اور اس کی ایک ایک ادا پر جان و دل نثار کرتے تھے۔ اسے دنیا کی مثالی شخصیت قرار دینا اپنا فرض اولین سمجھتے تھے، اس کی جہالت کو دنیا کے تمام علوم سے اعلیٰ سمجھتے تھے، آج وہ اس شخص پر اپنے خودساختہ اظہار رائے کی آزادی کی آڑ میں ایسے ایسے تیر چلا رہے ہیں جس سے جسم تو جسم جاں بھی خونم خون ہوئے۔ یہ وہ گروہ منافقین ہے جو ہر راست گو کو، ہر حق پرست کو اور ہر سچ کہنے پر دار پر چڑھانے پر اپنا جواب نہیں رکھتے۔ ٹی وی کھول کر دیکھ لیجئے صاف پتہ چل جائے گا کہ پیٹ کی آگ کتنی ظالم ہوتی ہے۔ اربوں روپیہ کے اشتہار لینے والے، کروڑوں کے پلاٹ لینے والے، ہر غیر ملکی دورے میں ظل الٰہی کے تفصیل پانچ ستاروں، ہوٹلوں میں عیاشیاں کرنے والے اب آنے والے وقت سے خوفزدہ ہیں اور ہر ایک کے ماتھے پر لکھا ہوا ہے کہ ہمارا کیا ہوگا۔ وہ میڈیا مالکان جو اپنی مملکت میں خود کو حکمرانوں کو اقتدار میں لانے والا اور اٹھانے والا تصور کرتا تھا جو پاکستان کی سیاست میں خود کو بادشاہ گر ظاہر کرکے غیر ممالک بلکہ دشمن ممالک کے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے کروڑوں ڈالر اور پونڈ وصول کرکے بیرونی ملک اپنی جائیدادیں کھڑی کرکے خود کو ”محب وطن“ ظاہر کرنے کی قیمت وصول کرتا تھا۔ وہ میڈیا جو ملک کی مسلح افواج کے خلاف خبریں شائع کرکے مخالفین کو ریاست کے خلاف مواد مہیا کرتا تھا۔ وہ ٹی وی چینلز کے مالکان جو اربوں روپیہ ناجائز طور پر کما کر خود کو قارون سمجھتے تھے جن کے بینک منی لانڈرنگ میں پیش پیش تھے۔ اب وہ خوفزدہ ہیں کہ آنے والا وقت ان پر کتنا کڑا ثابت ہونے والا ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ سیاست دان جو سمجھتے تھے کہ 22 کروڑ افراد پیدا ہی ان کی غلامی کرنے کے لئے ہوئے ہیں اور وہ ان کے وہ مالک ہیں جنہیں تخلیق ہی اس کام کے لئے کیا گیا ہے اور اب ان کی ارض جنت ان کے لئے دوزخ بننے والی ہے۔ ان میں وہ نوکر شاہی بھی شامل ہے جسے حکمرانوں نے لوٹ مار کے نئے نئے طریقے وضع کرنے کے لئے اپنے گرد جمع کیا تھا اور یہ اپنے آقاﺅں کے لئے دولت کے انبار بنانے میں اپنی مثال آپ تھے اور خود بھی اس بہتی گنگا میں ڈبکیاں لگا رہے تھے اب وہ اپنے مختلف حربوں سے نئی حکومت کو بدنام کرنے اور ان سے متعلق جھوٹی کہانیاں گڑھنے میں مصروف ہیں جب کہ دشمن ممالک کے گرگے اپنے ان داتاﺅں کے اشاروں پر نئی حکومت کی کردار کشی کرنے میں اپنے کردار ادا کررہے ہیں مگر اب یہ لوگ شاید یہ سمجھ چکے ہیں کہ ان باتوں کے باوجود جو تبدیلی آچکی ہے وہ آنے والی نہیں ہے۔ اب عوام شاید اس گہری نیند سے بیدار ہوچکے ہیں جو حکمرانوں کے جھوٹے وعدوں، سبز باغات اور چکنی چپڑی باتوں کی حقیقت سے آگاہ ہوچکے ہیں اب اگر ایک عمران خان ختم بھی ہو جائے تو دوبارہ وہ دور واپس نہیں آسکتا جو لٹیرے اور غاصب حکمران گزار چکے ہیں۔
وہ شخص جو آج اپنے کرتوتوں کے باعث سلاخوں کے پیچھے ہے اور اس کے حالی موالی ملک کی دولت کو لوٹ کر اور اس کے اپنے بیٹے کھربوں کا سرمایہ ملک سے لے جا کر جائیدادیں بنائے ہوئے اپنے باپ کو باپ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ دراصل اقتدار کے نشے میں اتنا چور ہو چکا تھا کہ وہ خود کو کبھی امیر المومنین تو کبھی شہنشاہ معظم تصور کرتا تھا اور اس کے چاپلوس وزیر اور مشیر اس کی ہر لغو اور بیہودہ جملہ پر سبحان اللہ اور واہ واہ کے نعرے لگاتے تھے حالانکہ اس کی اوقات یہ تھی کہ ان کے مصنوعی باپ صدر جنرل ضیاءالحق نے جب بھارت کے دورے کے موقع پر اس کا تعارف جب بھارتی صدر سردار ذیل سنگھ سے کروایا کہ یہ پاکستانی پنجاب کے وزیر اعلیٰ اپنے امرتسر کے رہنے والے ہیں تو ذیل سنگھ نے پوچھا کہ کس علاقے کے ہو تو اس نے بتایا کہ جاتی عمرہ کے اور جب اپنے خاندان کے بارے میں بتایا تو سردار ذیل سنگھ نے کہا کہ ارے تمہارا باپ وہ لوہار تو نہیں تھا جو آبپاشی کے لئے ٹین کے ڈبے بناتا تھا اور تمہارا دادا ”کنجر خانے“ (اب تہذیب یافتہ نام بازار حسن) میں پھولوں کے ہار بیچتا تھا۔ یہ ان کی اوقات تھی مگر جیسے کہ ایک پرانی فلم ”پکار“ میں ادکار چندر موہن نے شہنشاہ جہانگیر کا کردار ادا کیا تھا وہ اس کردار میں اس قدر ڈوب گیا تھا کہ پھر ساری زندگی خود کو شہنشاہ جہانگیر ہی تصور کرتا رہا اور آخرکار وہ اسی تصور میں مرگیا اور خود شہنشاہ جہانگیر ہی سمجھتا رہا، یہی حال جاتی عمرہ کے رہائشی حال مقیم اڈیالہ جیل کا بھی ہے اور خود کو آج بھی پاکستان کا وزیر اعظم تصور کررہا ہے۔
اب سنا ہے کہ اس کا سمدھی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو اربوں ڈالر لوٹ کر فرار ہو کر لندن کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے ہوئے لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ ”میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں“ اور فرضی بیمار بنا ہوا ہے، نے ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ حاصل کرلیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مریض کی یادداشت ختم ہو گئی ہے اور اب اسے کوئی بات یاد نہیں ہے گویا
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
یہی نسخہ اب نواز شریف کو بھی استعمال کر لینا چاہئے اور وہ بھی اپنے حافظے میں سے وزیر اعظم کی یاد کھرچ کر اپنے ابا اور دادا کی یادوں کو تازہ کرلے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں