Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 91

حربے بمقابلہ حربے

امریکہ نے دنیا میں کمزور ممالک پر اپنا رعب و دبدبہ بٹھانے کے لئے نائن الیون کے خود ساختہ ڈرامے کے بعد پہلے افغانستان پر حملہ کرکے اسے تہس نہس کردیا اور اس کے بعد عراق کو نیست و نابود کردیا۔ اس طرح سے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیاءپر بیک وقت امریکہ کا خوف طاری ہو گیا۔ اقوام متحدہ سمیت دوسری عالمی طاقتیں یہ خونی تماشہ خاموشی سے دیکھتی رہی اور امریکہ اپنی اس بدمعاشی کے بعد ایک ٹیلی فون کالز کے ذریعے کمزور ممالک سے جو چاہتا کروالیا کرتا تھا۔ چین اور روس نے بڑی مشکل سے طاقت کے اس غیر منصفانہ استعمال کا کڑوا گھونٹ پیا لیکن اس کے فوری بعد امریکی دبدبے کے اثر کو زائل کرنے کے لئے انہوں نے شمالی کوریا کو امریکہ کے مدمقابل لاکھڑا کردیا اور آئے روز دونوں نے ایک دوسرے کو دھمکی دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔ شمالی کوریا نے تو امریکہ کو میزائل کے ذریعے تباہ کرنے کی بھی دھمکی دی تھی اس کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ امریکہ کے افغانستان اور عراق کی طرح سے شمالی کوریا کو بھی عبرت کا نشان بنا دے لیکن دنیا کا واحد سپرپاور ایسا نہ کرسکا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں اسے حقیقی معنوں میں خود اپنی تباہی کا ڈر تھا۔ اس لیے وہ شمالی کوریا کی دھمکیوں کو نظر انداز کرکے اسے صلح پر آمادہ کرتا رہا اور آخرکار وہ اس میں کامیاب ہو گیا ان سارے واقعات کا ذکر میں یہاں اس لیے کررہا ہوں کہ جب بھی کوئی اچھا یا برا کام تواتر کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے تو اس کے اثر کو زائل کرنے کے لئے اس کے برعکس اس طرح سے کام کروا دیا جاتا ہے کہ اس سے قبل کیے جانے والے سارے کاموں کا اثر ہی ختم ہو جاتا ہے۔
پاکستان میں پچھلے دو سالوں سے احتساب کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا ہے اور بڑے بڑے طاقتور اور اپنے وقت کے فرعون بھی اس کی زد میں آنے سے بچ نہ سکے۔ جس کے نتیجے میں شریف خاندان اڈیالہ جیل میں جب کہ زرداری خاندان جیل سے چند قدموں کے فاصلے پر ہے اور دوسرے با اثر ملزمان بھی مختلف ریفرنسز کی شکل میں اسی راہ کے مسافر بنتے جارہے ہیں۔ اس طرح سے احتساب کا اچھا خاصا ماحول بن گیا ہے اس ماحول کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہی ملک کی سب سے بڑی عدالت کےناک کے نیچے قانون کا کھلواڑ کیا گیا، جی ہاں میں ذکر سندھ اسمبلی کے ایم پی اے اور سابق وزیر اطلاعات شرجیل میمن کے سب جیل قرار دیئے جانے والے ضیاءالدین ہسپتال کے کمرے پر چیف جسٹس آف پاکستان کے چھاپہ مارنے اور وہاں سے شراب کی دو بوتلوں کے برآمدگی کا کررہا ہوں۔ اگر یہ چھاپہ دن کے بجائے رات کو مارا جاتا تو وہاں سے شراب کے ساتھ عریاں تتلیاں بھی مل جاتیں۔ خیر جس طرح سے شراب کی ان بوتلوں کو شہد اور زیتون میں تبدیل کیا گیا ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ اس ساری کارروائی کے ذریعے اشرافیہ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ قانون شہادتوں کا محتاج ہے اور انصاف شہادتوں کے آگے بے بس ہے۔ اگر چیف جسٹس آف پاکستان کھلی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ انہوں نے چھاپے کے وقت شراب کی بوتلیں برآمد کی تھیں لیکن اب وہ ایگزامنر کی رپورٹ کو کسی بھی صورت میں رد نہیں کر سکتے اور نہ ہی پولیس کی ضبط کردہ بوتلوں کو جھٹلا سکتےہیں یہ ہی اس ملک کا قانون اور دستور ہے کہ جس مقدمے کا گواہ خود چیف جسٹس ہو وہ بھی اس مقدمے میں واقعاتی شہادتوں کے آگے بے بس ہیں اور وہ اس مجرم کو سزا نہیں دے سکتے۔ بالکل امریکہ کی طرح سے اب انہیں بھی صلح کی جانب یا کم از کم خاموشی کی جانب قدم بڑھانا ہوگا۔ میرے خیال میں یہ اچھا نہیں ہوا۔ اوّل تو چیف جسٹس کو خود اس طرح کا قدم اٹھانا نہیں چاہئے تھا اور اب جب وہ ایسا کر ہی چکے ہیں تو اب انہیں انصاف کا سر اونچا رکھنے کے لئے اس مقدمے کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ چیف جسٹس نے ہسپتال کے سب جیل کمرے میں جس طرح کی رنگینیاں دیکھی یہ کوئی نئی بات نہیں ایسا ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ خود سابق صدر جو گیارہ سال جیل میں رہنے کی بات کرتے ہیں انہوں نے بھی گیارہ برس اسی طرح کی موجیں کرتے ہوئے گزارے چونکہ اس طرح کے جرائم کے کوئی شواہد نہیں ہوتے یا پھر انہیں ریکارڈ پر نہیں لایا جاتا۔ اس وجہ سے ان کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی لیکن اب چیف جسٹس کو اس مقدمے کو ہر حال میں اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔ ورنہ لوگوں کا انصاف اور قانون سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ اور قانون کے بجائے طاقتور اشرافیہ کا رعب اور دبدبہ ان پر بیٹھ جائے گا۔ عام لوگ یہ ہی سمجھیں گے کہ ہمارے سیاستدان قانون اور انصاف سے بالاتر ہیں۔ دیکھو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے شرجیل میمن کے کمرے سے شراب کی دو بوتلیں برآمد کرکے کیا کرلیا۔۔۔؟؟؟ طاقتور لوگوں نے شراب کو شہد اور زیتون میں بدل دیا۔ یہ ایک بہت بڑا مذاق ہے اور اس مذاق کو اگر ادھر ہی نشان عبرت نہیں بنایا گیا تو جس کڑے احتساب کی شروعات دھوم دھام سے کی گئی تھی اس کا جنازہ بھی اتنے ہی دھوم دھام سے نکل جائے گا۔ اس لیے چیف جسٹس ثاقب نثار کو چاہئے کہ فوری طور پر شرجیل میمن کے مقدمے کی ٹرائل سندھ کے بجائے پنجاب یا کسی دوسرے صوبے میں کرنے کے آرڈر جاری کرے اور شراب کی بوتلوں کی برآمدگی اور اس کو شہد اور زیتون میں بدلنے کے معاملے کی چھان بین ایماندار افسروں کے ذریعے کروائیں تاکہ سارے حقائق قوم کے سامنے آئیں۔ اس سلسلے میں حکومت کو بھی اقدامات کرنے چاہئے اور احتساب کے سلسلے کو تیزی سے اس کے منطقی انجام تک پہنچائیں۔ اس لئے کہ ملک کو قرضوں سے زیادہ اپنے لوٹی جانے والی رقم کی واپسی کی ضرورت ہے۔ یہ ہی نئے پاکستان کی پہلی سیڑھی ثابت ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں