37

مشکل حالات

امریکی وزیر خارجہ پومپیو کی پاکستان آمد کے موقع پر دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت بہت ہی نازک ہو چکی ہے۔ سیاسی طور پر پاکستان کے امریکہ سے تعلقات صدر ابامہ کے زمانے سے ہی خراب ہونا شروع ہوگئے تھے۔ امریکہ کی طرف سے پاکستان کی امداد میں مستقل طور پر کمی کی جاتی رہی اور بھارت کے لئے مراعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا مگر جب سے صدر ٹرمپ نے اقتدار حاصل کیا ہے پاکستان پر ان کا دباﺅ بے تحاشہ بڑھ چکا ہے۔ نوعیت یہ ہو چکی ہے کہ امریکہ نے اپنے ترکش کے آخری تیر بھی چلانے شروع کر دیئے ہیں۔ پہلے پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈلوایا گیا پھر آئی ایم ایف سے اس کی امداد یا قرض کے حصول میں رکاوٹ ڈالنے کا عندیہ دیا پھر وزیر خارجہ پومپیو کی آمد سے فوری طور پر پہلے پاکستان کے کولیشن سپورٹ فنڈ کے تیس کروڑ ڈالر بھی بند کردیئے۔ پاکستان اس وقت شدید ترین سفارتی تناہئی کا شکار ہے، ملک میں نئی حکومت مختلف طرح کے بحرانوں میں گھری ہوئی ہے، سیاسی محاذ آرائی اپنے عروج پر ہے، معیشت زبوں حالی کا شکار ہے، نئی حکومت کو اپنے پیر جمانے کے لئے بہت زور لگانا پڑ رہا ہے۔ ملک میں پہلی بار حکومت اور فوج ایک پیج پر دکھائی دینے کے باوجود حالات سے مقابلہ میں بہت کمزور نظر آرہے ہیں اور عوام ابھی تک خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہیں، وہ سب کچھ حکمرانوں کے حوالے کرکے خود کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں، خاص طور پر اپنے اپنے شعبوں کے وہ با اختیار لوگ اپنے آپ کو حالات کے مطابق تبدیل کرنے کو بالکل تیار نہیں۔ ہماری نوعیت یہ ہوچکی ہے۔
کبھی دنیا کے بازاروں کو ہم نے خریدا تھا
بکاﺅ مال اب دنیا کے بازاروں میں ہم بھی ہیں
یہی صورت حال اب ہمارے ملک کی ہے جہاں پر حالات ماضی کے مقابلے میں یک دم تبدیل ہو گئے ہیں، کبھی وقت ایسا تھا جب پاکستان کی ریاست کی حالات یہ تھی کہ وہ دنیا بھر کے ملکوں کی آنکھوں کا تارا تھی، دنیا کا ہر بڑا ملک پاکستان کے لئے اپنے دیدہ دل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔ آج حالات اتنے تبدیل ہو چکے ہیں کہ بنگلہ دیش اور افغانستان جیسے چھوٹے ملک بھی پاکستان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ کچھ گنے چنے ملک ہیں جن سے پاکستان کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں، یہی صورت حال ملک کے اندر بھی ہے جہاں پر بھی ریاست تنہائی کا شکار ہے اور بحیثیت ریاست پاکستان بیرون ممالک سے علیحدہ ہو کر سفارتی تنہائی کا بری طرح شکار ہو چکا ہے۔ تجزیہ نگار ایسا ہی کہتے ہیں۔ اس ہی طرح ریاست کو اندرون ملک ہر سمت سے مخالفت کا سامنا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ حکومت بھی ان ریاستی اداروں کے سامنے آکر کھڑی نظر آتی ہے۔ اس طرح ریاست کو اس چومکھی جنگ کا سامنا ہے جو اس کو ملک کے باہر بھی ہے اور ملک کے اندر بھی۔
بیرونی ممالک سے تعلقات میں سب سے زیادہ امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں سے تعلقات انتہائی کمزور ہیں۔ امریکہ پاکستان سے افغانستان میں اس کے کردار سے خوش نہیں۔ مغرب میں یہ پروپیگنڈا کیا جارہا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر امریکہ پاکستان سے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرکے اس کے ٹھکانے پاکستان سے ختم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جب کہ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ فضل اللہ کے گروپ کو امریکہ اور افغانستان نے پناہ دی ہوئی ہے جو کہ پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے۔ اس ہی طرح دنیا بھر میں ہونے والی تخریب کاری میں بہت سے پاکستانی ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی ہی خراب صورت حال برطانیہ کے ساتھ ہے جس نے پاکستان میں کراچی کے حالات کو خراب کرنے میں براہ راست حصہ لیا تاکہ ریاست کو تنہا کیا جا سکے۔ کراچی میں ریاستی سیکیوریٹیز کے ادارے ایک طرف ملک دشمن لوگوں کی سرکوبی سے نبردآزما ہیں جس میں ”را“ کے ساتھ ”ایم آئی سکس“ اور افغانستان انٹیلی جنس ”خاد“ کے ادارے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، اندرونی ملک میں دوسری طرف ریاستی ادارے سندھ کی دو بڑی جماعتوں کے خلاف کریک ڈاﺅن کررہی ہے جس کی وجہ سے ایم کیو ایم کو دیوار سے لگا دیا گیا جس کی چیخیں نکل رہی ہیں وہ بیرونی ممالک سے مدد کی طلب گار ہو گئی ہے۔ پیپلزپارٹی کیونکہ بہ نسبت ایم کیو ایم بڑی جماعت ہے وہ دفاعی پوزیشن میں ہونے کے باوجود اس انجام سے بچ گئی جس سے ایم کیو ایم دوچار ہے اس طرح سندھ میں بھی ریاستی ادارے ہر طرف سے محاذ آرائی کا شکار ہو کر ایک ایسی جنگ میں چلے گئے ہیں جس میں کامیابی کے امکانات نظر نہیں آتے۔ بلوچستان میں بھی کچھ اسی قسم کی صورت حال ہے کہ ایک طرف بیرونی ممالک کے عناصر سرگرم عمل ہیں جن کو اندرونی طور پر بلوچستان لبریشن آرمی کی مدد حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ نواب اکبر بگٹی کے پوتے اور نواسےے خیر بخش مری کے خانوادے بھی بھارت سے کھلم کھلا مدد کی درخواست کررہے ہیں۔ یہاں پر بھی ریاستی اداروں کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یہاں پر بھی ریاست حالت جنگ میں ہے، یہی وجہ ہے کہ یہاں کبھی ہزارہ شیعہ برادری تشدد کا نشانہ بنتی ہے، کبھی بلوچستان کے چوٹی کے وکیل پرتشدد واقعات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پولیس ٹریننگ اسکول میں تقریباً 60 سے زائد پولیس والے اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیں۔ اس طرح پورے صوبے میں بھی خلفشار کی صورت نظر آتی ہے۔ ایسے ہی خلفشار کا شکار سرحد کا صوبہ ہے جہاں پر کبھی ریاستی ادارے اپنے بھرپور لاﺅ لشکر کے ساتھ کامیابی حاصل کرتے ہیں، کبھی تحریک طالبان والے اپنی تخریبی کارروائیوں سے صوبے کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس طرح یہاں بھی ریاستی اداروں کا دہشت گردوں سے آنکھ مچولی کا کھیل چل رہا ہے۔ جب ریاستی ادارے کسی علاقے کا گھیراﺅ کرکے آپریشن کلین اپ کرتے ہیں تو ان کو کچھ کامیابی حاصل ہو جاتی ہے جب بھی تخریب کاروں کو موقع ملتا ہے وہ کسی بھی علاقے کو ٹارگٹ کرکے خودکش حملے کرتے ہیں۔ پھر اس کا کھلم کھلا اظہار بھی کرتے ہیں۔ ان تخریب کاروں نے اپنے محفوظ ٹھکانے جنوبی پنجاب کے علاقوں میں بنائے ہوئے ہیں۔ جہاں پر بھی صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں میں ایک کشمکش چل پڑی ہے کہ کون وہاں پر اپنی عمل داری کرنا چاہتا ہے کیونکہ صوبائی حکومت کو مرکزی حکومت کی حمایت حاصل ہے اس لئے ریاستی ادارے اپنے مقاصد صوبہ پنجاب میں اس طرح سے حاصل نہیں کر پائے۔
بیرونی محاذوں پر مقابلہ کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اندرونی محاذ پر مضبوط بنانا ہوگا۔ عمران خان نے یہ اعلان کردیا ہے کہ وہ ایک سال تک کسی بیرونی علاقے کا دورہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ وہ اپنی ساری توجہ اندرونی محاذ پر مرکوز رکھیں گے۔ اس ہی طرح بیرونی محاذوں پر مقابلہ کر سکیں گے۔ اس کے لئے پاکستانی عوام کے تمام طبقات کو اپنی سوچ میں تبدیلی پیدا کرکے ان کے ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ہر طرح کے مشکل حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہوگا۔ تمام سیاسی قوتوں کو بھی اپنے اختلافات مٹا کر ملک کو اس مشکل صورت حال سے نکالنے میں حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر چلنا پڑے گا۔ یہ ہی اس مشکل سے نکلنے کا ایک ہی حل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں