37

جہل کے پرستار

پاکستان فرشتوں کی سرزمین، مومنو کی سرزمین، خود کو اللہ کے مقربین سمجھنے والوں کی سرزمین، گناہوں سے پاک جن کے دامن نچوڑنے سے فرشتے وضو کریں۔ یہ وہ خود ساختہ مسلمانوں کی سرزمین جن کے علاوہ کسی اللہ کی مخلوق کو زندہ رہنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ منافقت سے پاک معاشرہ جہاں جہاں پر صاحب ایمان ہاتھ میں تلوار لئے کفار کی تاک میں رہتا ہے۔ جہاں نمازی نماز میں بھی اپنے عقیدے کے علاوہ ہر عقیدے والے کی موت کی دعائیں مانگتے جہاں حج پر جانے والے شیطان کو پتھر پھینک کر سمجھتے ہیں کہ ان کی ساری بد ذاتیوں کا ذمہ دار یہ پتھر ہے جسے پتھر مار کر وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے شیطان مردود کو فنا کردیا۔ یہ معاشرہ میں اپنی ذات کی نفی کرکے ہر ایک سے توقع رکھتے ہیں کہ سب سچ بولیں، پورا تولیں، خالص اشیاءفروخت کریں، سود نہ لیں، بے ایمانی نہ کریں، ملاوٹ نہ کریں اور وہ سب کچھ کریں جو یہ خود کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے دو معیار بنا رکھے ہیں ایک اپنی ذات کے لئے ایک دوسروں کے لئے۔ یہ خود کو ایسا پاک و صاف نورانی اور افضل اعلیٰ سمجھتے ہیں جس کے برابر پوری کائنات میں اور کوئی نہیں ہو سکتا، ان کی رائے اور ان کا کہا ہوا فرمان الٰہی ہے۔ حدیث جنکے اوپر سے اترا ہوا کلام ہے جو اس کی مخالفت کرے یا اس سے روگردانی کرے وہ زندیق گردن زدنی واجب القتل ہے اسے زندہ رہنے، آہ بھی کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ نور کے سانچے میں ڈھلے ہوئے لوگ ساری دنیا کے ”کشف“ افراد سے بالاتر ہیں۔ یہ ہی عقل کل ہیں یہی وہ اہل دانش ہیں جن کا ایک ایک لفظ کوثر و نسیم میں دھلا ہوا ہے۔ ان کی مغلضات اور دشنام ترازیاں وہ انمول موتی ہیں جس کی آب و تاب سے آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں۔ یہ خود ساختہ خلائی مخلوق اپنی جہالت کے کنویں میں مینڈک بنے ہوئے آج تک اس حقیقت سے آشنا نہیں ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات پوری کائنات کے لئے ہے، نہ کہ ان جہلاءکے لئے جو خدائی قانون کو اپنی کم عقلی کے پیمانے پر ناپتے ہیں۔ یہ ابھی تک نہیں سمجھ پائے ہیں کہ خدا کی نظام عقل پر نہیں علم پر چلتا ہے اور یہ کندہ نا تراش ان اقوام کو گردن سمجھتے ہیں جنہوں نے عقل و دانش کے بل بوتے پر ساری دنیا کو مسخر کرکے قرآن کی اس بات کو صحیح ثابت کردیا ہے۔ تم تفکر کرو تم غور کرو تم کائنات کا مطالعہ کرو تاکہ تم حق تک پہنچ سکو، آج انسان خلاءکو مسخر کر رہا ہے۔ آج انسان زمین کے پاتال سے خزانے برآمد کررہا ہے، آج انسان سمندر کی گہرائیوں سے موتی نکال رہا ہے آج ان نعمتوں کو استعمال کررہا ہے وہ خدائے ذوالجلال نے انسانوں کے لئے ودیعت کی ہیں، وہ سیاروں پر پہنچ رہا ہے، وہ ”ٹائم“ اور ”اسپیس“ کے عقدے حل کررہا ہے۔ جس سے خدا نے اپنے بندے کو معراج پر پہنچایا اور آج خدا کا وہ کلام کہ ہر انسان جسے فرشتوں سے افضل قرار دے کر فرشتوں سے سجدہ کردیا اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر مجھ سے آملے گا اور آج انسان اس کلام کے حق کو ثابت کرنے کے لئے مریخ پر جارہا ہے۔ چاند پر اتر چکا ہے۔ اب زہرہ، مشتری اس کی دسترس میں ہیں اور تو اور اب انسان سورج کو اپنا ہدف بنائے ہوئے ہے۔ کیا یہ سب ”کفار“ خدا کے کارخانے میں خدائی احکامات کے خلاف کردار ادا کررہے ہیں اور کیا وہ خود کو اللہ کے خاص بندے قرار دینے والے ان کے ہمسر ہیں۔ کیا خدا نے نہیں فرمایا کہ کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہے؟
کیا علم والوں کے مقابلے میں یہ نہ جاننے والے محض جانور نہیں ہیں یہ جو آج چاند کو دوربینوں سے ٹٹول ٹٹول کر دیکھ رہے ہیں ان سے بہتر ہیں جنہوں نے چاند کو اپنے قدموں تلے روند کر رکھ دیا ہے۔ کیا یہ ان سے افضل و اعلیٰ ہیں جنہوں نے خدا کے بندوں کے لئے آسانیاں پیدا کر دی ہیں، کیا یہ ان سے بہتر ہیں جنہوں نے بھوکوں کو کھانا، ننگوں کو کپڑا اور بے آسماں والوں کو سائے میسر کیا ہے، کیا یہ ان سے بہتر ہیں جو بغیر کسی تفریق سے خدا کے بندوں کے کام آرہے ہیں۔ یہ ان سے بالا ہیں جو بغیر ایثار و خدمت و ملت دنیا بھر کے لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں مگر کون ان کوڑھ مغزوں کو سمجھائے کہ اللہ کے پیارے وہ ہیں جو اس کی مخلوق سے پیار کرتے ہیں، کیا اللہ اس کو رزق نہیں دینا جو اسے نہیں مانتے؟ مگر آج یہ بے عقل اور مذہب کے نام پر تجارت کرنے والے محض اس بنیاد کو کہ کوئی ان کے عقیدے کا نہیں ہے اسے گردن زدنی سمجھتے ہیں ایک قابل ترین شخص کو محض یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ وہ اس عقیدے سے مختلف ہے جو ان کا ہے۔ یہ آج جہالت کی تاریکی میں گھرے لوگ زوال پذیر معاشرے کو مزید تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔ ان کے دین سے ٹھیکیداروں نے کافر بنانے کے کارخانے لگا رکھے ہیں اور یہ اس فرد پر ذرا سا بھی شبہ ہوتا ہے کہ وہ ان کی جہالت کو ظاہر کر دے گا، کافر کا ٹھپہ لگا کر اسے خارج کر دیتے ہیں۔ آج لاکھوں کی تعداد میں غیر ممالک میں اپنے علم کی بنیاد پر اعلیٰ مقام حاصل کرنے والے عدم رواداری، تفریق اور تعصب کی بنیاد پر وطن سے نکلے ہیں اور جو کچھ باقی ہیں وہ بھی الزامات کی صلیبوں پر مصلوب ہو رہے ہیں اور اگر یہی چلن، کم نظری، تعصب اور جہالت باقی رہی تو یہ خطہ جسے خدا کے نام پر حاصل کیا گیا ہے خدا کے علم سے بہرہ ور ہونے والوں سے خالی ہو کر شیطانوں کے پیروﺅں، جہل کے پرستاروں اور ظلمت کے حامیوں کے لئے رہ جائے گا اور یہ وہ عناصر ہوں گے جو علم سے دور اور اس کے نور سے آشنا نہ ہوں گے اور پھر اپنی قسمت کو کوسیں گے اور کفار کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ اللہ اہل علم کو ان جہلاءسے محفوظ رکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں