6

دوسری شادی اور حقوق

معاشرہ اور مذہب ہمیں جینے کے اصول دیتے ہیں۔ مذہب کو پہلے اس لئے نہیں لکھاکہ اکثر لوگ مذہب کو زبردستی کے معاملات ٹھہراتے ہیں۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ مذہب اور معاشرہ مل کے معاشرے کے قوانین کو مرتب کرتے ہیں۔ اخلاقیات اور انسانیت زندگی کے وہ پہلو ہیں کہ اگر ان کی مناسب نگہداشت نہ کی جائے تو کسی بھی قانون کو توڑنا مشکل نہیں۔ اور کچھ حقائق قدرت کے قانون کو چیلنج کرتے ہیں مگر انسان اپنی مدہوشیوں یا اپنے اشرف المخلوقات ہونے کے زعم میں شاید سوچ ہی نہیں پاتا کہ ایک ذات اوپر بھی ہے جو بے انتہا منصف ہے۔
پاکستان میں تو ایسے مسائل کی بھرمارہمیشہ رہی ہے مگر یہاں کینیڈا میں جب ایسے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں تو بہت افسوس ہوتا کہ ہماری مینٹیلٹی اتنے سال اس مہذب معاشرے میں رہنے کے بعد بھی رتی بھر نہیں بدلتی۔اتنے سال۔۔۔۔ ایک رفاقت میں رہنے والے جب اچانک راستہ بدل لیں تو جو اس راستے پہ ہی کھڑا رہ جائے اس کی زندگی بالکل ساکت ہوکے رہ جاتی ہے بلکہ تباہ ہی ہوجاتی ہے۔ مردوں کا اس میں کوئی قصور نہیں کہ وہ عمر کے کسی بھی حصے میں محبت کر بیٹھتے ہیں اور پھر اپنائے بغیر کچھ لوگوں کا گزارہ واقعی مشکل ہوجاتا ہے جس طرح سے معاشرے میں زنا اور دیگر مسائل، اخلاقی و جسمانی بیماریاں پھیل رہی ہیں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ شاید دوسری شادی سے ان مسائل کی روک تھام ہوسکے اور میں سوچتی ہوں دوسری کے بعد تیسری بھی اگر مسائل میں کمی کا باعث نہ بنی تو۔۔؟؟؟
دوسری شادی کا ہونا نہ ہونا مسئلہ ہوسکتا ہے مگر اصل مسئلہ دوسری شادی کے شوقین حضرات کی کم فہمی کا ہے جنھیں یہ لگتاہے کہ ان پر مذہب نے محض شادیاں فرض کررکھی ہیں اور کوئی فرائض اور ذمے داریاں نہیں اور سب سے بڑا مسئلہ ہی ادھر پیدا ہوتا ہے۔
شادی صرف دو انسانوں کے ملاپ پہ ختم نہیں ہوجاتی خصوصاً اگر دوسری یا تیسری ہو کیونکہ ادھر دل آزاری، حق تلفی اور بدگمانی جیسے بے شمار مسائل کا انبار لگا ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں بھی اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص اپنی بیویوں میں انصاف نہیں کرپائے گا وہ قیامت کے دن ایسے اٹھے گا جیسے آدھا جسم اس کے ساتھ ہے ہی نہیں۔ بیویوں کے حقوق تلف کرنے والے مرد حضرات کیلئے بہت بڑی دلیل ہے یہ۔ ان کو لگتا ہے گھر کی بات ہے جو مرضی کریں اور اگر ایک بیوی سے دل اٹھ گیا ہے تو اس سے کنارا بھی کر لیں تو کوئی حرج نہیں نظر آتا انھیں۔ کبھی انھوں نے یہ سوچا ہے کہ اگر یہی اختیار عورت کو دیا جاتا اور وہ یہ سب کرتی تو ان پہ کیا بیتتی۔۔؟ایک انسان کی نفی۔۔ اتنی آسان۔۔
نبی کی ازواج میں سے کسی ایک کی طرف ان کا رجحان کم تھا تو اس وقت ان پر آیت نازل ہوئی تھی جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ اگر آپ ان کے حقوق پورے نہیں کر سکتے تو انھیں چھوڑدیں۔ آپ نے جب ان سے یہ بات کی تو انھوں نے کہا آپ مجھے چھوڑیں نہیں، میں اپنے حقوق آپ کو معاف کرتی ہوں۔ شاید اس بات سے کئی گھر بچ سکیں، اگر لوگ اس بات کا ادراک کرسکیں اور پھر اگر انصاف سے رکھا جائے تو دوسری شادی اتنا بڑا مسئلہ نہ ہو اور بیواو¿ں اور مطلقہ خواتین کے گھر بسانا بھی اتنا مشکل نہ رہے۔
اسلام نے جب بھی عورت اور مرد کا ذکر کیا تو مرد کو عورت کا کفیل ٹھہرایا۔ کبھی عورت کو بے سہارا چھوڑنے کی ترغیب نہیں دی۔ آج یہاں اس مہذب سوسائٹی کا بھی یہی اصول ہے کہ جب عورت کو چھوڑا جاتا ہے تو اسے دھکے دے کے گھر سے نہیں نکالا جاتا بلکہ جائیداداور ہر چیز میں سے آدھا آدھا حصہ دیا جاتا ہے۔ اب کچھ لوگ اتنے ذہین ہوتے ہیں کہ گھر میں بیوی کانام ہی نہیں ڈالتے جس سے عورت آرام سے بلیک میل ہوجاتی ہے اور ان کی چاکری کرکے عمر گزارتی رہتی ہیں۔ عورت اور مرد کا رشتہ ایک پورے خاندان اور آنے والی نسلیں تشکیل دیتا ہے اور عورت اس تشکیل میں پستی رہتی ہے۔ نسلوں کو پیدا کرنے، آبیاری کرنے اور پال پوس کے جوان کرنے کے بعد جب اس کی عمر کے ساتھ اس کا وجود ڈھل جاتا ہے اس کی جسامت ایسی نہیں رہتی کہ وہ اپنے شوہر کا دل لبھا سکے ایسے میں ان کوکوئی اور مل جاتی ہے اور وہ پہلی والی کو ٹشو کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ مجھے بہت تکلیف ہے کہ یہ سب ہمارے لوگ یہاں اس ترقی یافتہ اور تہذیب یافتہ معاشرے میں بھی کرنے سے گریز نہیں کرتے تو پاکستان میں صورتحال کیا ہوگی۔۔؟
اس عمر میں مسترد شدہ عورت کدھر جائے۔۔؟ یہی سب اگر اس کے ساتھ جوانی میں ہوتا تو وہ بھی شریعت کے مطابق دوسری شادی کرکے گھر بھی بساسکتی تھی اور اپنی زندگی بھی انجوائے کرسکتی تھی۔ مگر شدید بڑھاپے میں کسی کو لاچار چھوڑنا کہاں کی انسانیت ہے اگر اس سے ویسے کوئی اور مسئلہ تھا تو کیا ساری عمر یاد نہیں آیا عین بڑھاپے میں ہی کیوں؟؟ ایسے میں جب وہ بیچاری محض ایک ہارٹ اٹیک کی مار ہے آپ نے اسے قبر میں اترنے کا راستہ دکھا دیا۔ خوف خدا نہ سہی عمر بھر کی رفاقت کا ہی کوئی خیال کر لیاجاتا چاہے جیسے بھی تعلقات رہے ہوں۔ بات یہی ہے کہ چھوڑنے کیلئے جوانی والی عمر زیادہ موزوں تھی کہ اگلی بھی کسی ٹھکانے لگ سکتی اس عمر میں تو وہ بیچاری سیدھی سیدھی کھڈے لائن لگ گئی۔
شاید کچھ مرد حضرت کو میرے اس کالم پہ اچھا خاصہ اعتراض بھی ہوسکتا ہے مگر اس کی دلیل کوئی نہیں ان کے پاس۔ عورت کو بھی انسان سمجھیں۔ خواہشات، ضروریات اور سب سے بڑھ کر جذبات کا مکمل مجسم۔ اور نکاح کے بعد خدا نے اس معاشرے نے اس کی ذمہ داری آپ پر ڈالی ہے ہر لحاظ سے۔ اس ذمے داری کو بوجھ سمجھ کے نہیں بلکہ احسان والے طریقے سے نبھائیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ضرورت سے بڑھ کر دیا جائے۔ اللہ نے مرد کو مضبوط بنایا ہے عورت سے ایک درجہ زیادہ دینے کی وجہ بھی یہ ہے کہ وہ معاملات کو خوش اسلوبی سے ہینڈل کرنے کی طاقت رکھتا ہے جبکہ عورت جذباتی ہوتی ہے۔ شادی چاہے ایک ہو یا چار۔ معاملہ رحم کا ہونا چاہئے اور خدا خوفی کا ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں