Muhammad Nadeem Columnist and Chief Editor at Times Chicago and Toronto 36

شکاگو قونصلیٹ کی غیر ذمہ داری

7 ستمبر کو شکاگو کے مقامی بینکوئیٹ ہال میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان تحریک انصاف کے قائدین کے علاوہ کمیونٹی کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر یوم دفاع کے حوالہ سے تقاریر کی گئیں اور افواج پاکستان کی 1965ءکی جنگ اور دیگر خدمات کے حوالہ سے ڈاکیومنٹری بھی دکھائی گئیں۔ اس تقریب کا اہتمام شکاگو کے ایک لوکل ریڈیو پروگرام ”ریڈو اے زندگی“ کے روح رواں توصیف صدیقی اور ان کے ہم رکاب طاہر چوہدری نے کیا تھا جو کہ پاکستانی کمیونٹی کے فعال رکن ہیں۔
اس یوم دفاع کی تقریب میں کمیونٹی کی با اثر شخصیات نے شرکت کی جن میں حمید اللہ خان ، میجر حفظ الرحمن، راجہ یعقوب، یاسین چوہان، میاں ثقلین، ایسٹ ویسٹ یونیورسٹی کے چانسلر وصی اللہ خان، نفیس رحمان، احمد کریم جانگڈا اور بیرسٹر داﺅد غزنوی کے علاوہ شکاگو کے گرد و نواح کے شہروں سے بزرگوں، نوجوانوں اور خواتین نے شرکت کی اور پاک افواج کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہوئے۔ اس موقع پر جس کمی کو شدت سے محسوس کیا گیا وہ پاکستان قونصلیٹ شکاگو کی جانب سے کسی کا اس اہم تقریب میں شرکت نہ کرنا تھا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق شکاگو کے سابق قونصل جنرل فیصل نیاز ترمذی سفیر کا پروموشن لینے کے سبب شکاگو سے اپنا چارج چھوڑ چکے ہیں اور جلد قازکستان کے لئے روانہ ہو جائیں گے اور نئے قونصل جنرل جناب جاوید عمرانی اپنے عہدے کا چارج سنبھال چکے ہیں۔ تاہم یہ دونوں صاحبان اس قوالی کے پروگرام میں رات گئے تک موجود رہے، یہ پروگرام شکاگو کی ایک غیر منافع بخش تنظیم کی فنڈ ریزنگ کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔ اور یہ یوم دفاع کے لئے ہونے والی تقریب سے چند قدم فاصلہ پر ہوا۔ لیکن قونصلیٹ کے دونوں افسران نے یوم دفاع کے پروگرام کو یکسر نظرانداز کیا گیا۔
واضح رہے کہ Suzy Place جو کہ ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے اور جو مظلوم عورتوں کے لئے آواز اٹھاتی ہے کا فنڈ ریزنگ بھی اہم ہو سکتا ہے مگر کیا یوم دفاع پاکستان کے پروگرام کو یوں یکسر نظر انداز کر دینا قابل ستائش ہے؟ موجودہ قونصل جنرل جناب جاوید عمرانی کو ان باتوں کا احساس کرنا ہوگا اور اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا ہوگا کہ اپنے ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے پاکستان کے Image کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے اور ہم ان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ مستقبل میں اس بات کا خیال رکھیں گے کہ کمیونٹی میں ہونے والی دیگر تقریبات کے ساتھ ساتھ پاک وطن کے لئے قربانیاں دینے والوں کی تقریبات کو غیر اہم نہ سمجھیں گے اور ان میں بھی اسی دلجمعی اور عقیدت سے شرکت کریں گے۔
یاد رہے کہ پاک فوج ہے تو پاکستان ہے اور ہمیں اپنے پاک وطن کے محافظوں کو وہ عزت و توقیر دینی پڑے گی جس کے وہ حق دار ہیں۔ ماضی میں دیکھا جائے سابق قونصل جنرلز صاحبان ایک خاص گروپ اور ایک نام نہاد میڈیا ہاﺅس کے گرد گھومتے دکھائی دیئے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ نئے قونصل جنرل ان تمام لوگوں سے پرہیز کریں گے اور تمام کمیونٹی کو یکجا کرکے اور گروپنگ کو فروغ دیئے بغیر پاکستان کی بہتری اور کمیونٹی کی یکجہتی کے لئے کام کرتے رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں