Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 26

ملک و عوام

گزشتہ پانچ سالوں میں کم آمدنی والے کچھ ممالک آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بعداب ان قرضوں میں اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ اصل رقم تو ایک طرف وہ اس رقم پر سود کی قسطیں بھی ادا کرنے کے قابل نہیں ہیں جو کہ نہ صرف ان کی معیشت کے لئے بلکہ ان کے عوام کے لئے ایک عذاب سے کم نہیں ہے۔اور یہ ایک تشویشناک بات ہے کہ ان ممالک کے عوام جو پہلے ہی غربت کی زندگی بسرکررہے ہیں مزید بھوک و افلاس میں گھر جائیں گے۔ جو ممالک بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں اور قرضہ ادا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو ان کے بجٹ میں قرضہ دینے والے کی پوری مداخلت ہوتی ہے وہ سب سے پہلے عوام کو مہیّا کرنے والے گورنمنٹ کے تمام پروگرام بند کروادیتے ہیں جن میں صحت، دوائیاں او رتعلیم کے شعبے بھی شامل ہیں۔مسعود احمد جو کہ گلوبل ڈیویلپمنٹ واشنگٹن ڈی سی تھنک ٹینک کے صدر ہیں۔اور پہلے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے افسر تھے انہوں نے 36 قرض دار ممالک اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک معاہدے کی قیادت کی انہوں نے بتایا کہ 24 ایسے ممالک ہیں جو بری طرح قرضے میں پھنسے ہوئے ہیں سب سے زیادہ بری حالت میں کانگو اور موزمبیق ہیں شکر ہے ان تمام ممالک میں پاکستان کا نام نہیں ہے اور وہ محفوظ ہے گو کہ پاکستان پر آئی ایم ایف کا کافی قرضہ ہے لیکن ادائیگی ہورہی ہے۔آج سے اکّیس سال پہلے جولائی 1997 میں ان قرضوں کی وجہ سے جنوب مشرقی ایشاءمیں معاشی بحران آیا تھا جس نے پوری دنیا کو معاشی مستقبل کی فکر سے دہلادیا تھا۔اس کی لپیٹ میں سب سے پہلے تھائی لینڈ آیا غیر ملکی افراط زر اور غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا کرنسی بالکل خاتمے پر تھی۔ساو¿تھ ایشیا کے اس شدید بحران کی لپیٹ میں کئی ممالک آئے ان میں انڈونیشیا، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، لاو¿س، ملیشیا اور فلپائن شامل تھے جب کہ برونائی، چین، سنگاپور، تائیوان، ویت نام کم متاثر ہوئے۔ جاپان پر بھی تھوڑا بہت اثر پڑا تھا لیکن وہ شدید مشکلات میں نہیں تھا ۔غیر ملکی قرضوں سے جی ڈی پی کی شرح 1993۔96 میں سو فیصد سے 167 فیصد تک اضافہ ہوا تھا ایشیاءکے کئی ممالک ابھی اچھی حالت میں تھے، آئی ایم ایف نے بھی بحران سے نکالنے کے لئے اور تھائی لینڈ جنوبی کوریا اور انڈونیشیا کی کرنسی کو مستحکم کرنے کے لئے 40 ارب ڈالر کا ایک پروگرام شروع کیا بہرحال یہ ایک لمبی کہانی ہے۔ہماری کہانی کا اصل کردار جنوبی کوریا ہے 1993 سے پہلے جنوبی کوریا میں کرپٹ ترین حکومتیں آئیں۔جن میں سے دو پچھلے حکمرانوں نے ملک کو خوب لوٹا بالکل ہمارے پچھلے دو حکمرانوں کی طرح ہوا۔1993 میں آنے والے صدر ” کم یونگ سیم ” نے ملک کو کرپشن سے پاک بنانے کا عہد کیا اور سابقہ دونوں صدر کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا کیس عدالت میں پہونچا اور عدالتی کارروائی شروع ہوگئی۔ بعد میں ان پر جرم ثابت ہونے پر دونوں کو سزا ہوئی۔کم یونگ سیم حقیقت میں ایک ایمان دار صدر تھا اور کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدہ تھا لیکن اس کی حکومت کے اعلی’ عہدے دار اور پارلیمینٹ کے ممبران سب کرپٹ تھے۔ رشوت کا بازار گرم تھا۔1997 میں جب اس کی حکومت کی مدّت پوری ہونے والی تھی ایک اسٹیل کمپنی ” ہانبو اسٹیل “کا ایک بہت بڑا اسکینڈل سامنے آیا اس کمپنی نے گورنمنٹ کے اعلی’ عہدے داران کو پارلیمانی ممبران کو بینکوں کے افسران اور صدر کے بیٹے کو ملاکر اور سب کی جیبیں گرم کرکے گورنمنٹ بینکوں سے قرضے کی مد میں کئی بلین ڈالر لئے اور بعد میں بینکرپسی فائل کردی، قرضہ حاصل کرنے کے لئے تمام جعلی کاغذات جمع کرائے گئے تھے۔ بینکرپسی فائل کرنے سے گورنمنٹ کے وہ بینک جنہوں نے قرضے دئیے تھے وہ بھی دیوالیہ ہوگئے اور یہ صرف ایک کمپنی نہیں تھی بلکہ دس اور کمپنیوں نے یہی گیم کھیلا تھا، تمام افراد بمعہ اسٹیل کمپنی کا مالک اس کا بیٹا کوریا کے صدر کا بیٹا بینک کے افسران جو اس میں ملوّث تھے اور حکومتی عہدے دار وزراءسب گرفتار ہوئے۔ کیس کا فیصلہ ہوا ہانبو کمپنی کا مالک جو کہ 74 سال کا تھا اسے 13 سال کی سزا ہوئی اس کے بیٹے کو 3 سال اور اسی طرح اس مقدمے میں ملوّث تمام افراد کو سزائیں ہوئیں۔کئی بینک دیوالیہ ہوئے جس کی وجہ سے کوریا شدید بحران کا شکار ہوگیا۔ تمام کاروبار بند ہوگئے، انٹریسٹ ریٹ بڑھ گئے جس کے باعث تمام غیر ملکی سرمایہ داروں نے اپنا پیسہ جو کہ اٹھارہ بلین کے قریب تھا، بینکوں سے نکال لیا اور سرمایہ کاری اور کاروبار بند کردئیے۔ دو بینکوں کے علاوہ تمام بینک دیوالیہ ہوگئے، ایکسپورٹ کے لئے جتنا مال پورٹ پر پڑا تھا وہ سب رک گیا، ہزاروں افراد بے روزگار ہوگئے۔ ماہر معاشیات کے مطابق کوریا قبرستان بننے والا تھا۔آخر کار 5 جنوری 1998 کو حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ ہمیں آپ کی مدد کی ضرورت ہے، اگر چار دن میں حکومت کے پاس دو بلین ڈالر نہیں آئے تو ملک دیوالیہ ہوجائے گا۔ حکومت کی اس اپیل پر اور ملک کو بچانے کے لئے دوسری صبح 3 لاکھ پچاس ہزار افراد {جو کہ کوریا کی کل آبادی کا چوتھائی حصّہ ہے جن میں امیر غریب مرد عورت بوڑھے بچّے سب شامل تھے اپنی تمام جمع پونجی سونے کے زیورات پن سونے کے قمیض کے بٹن تک اور چینیں نقدی جو جس کے پاس تھا لے کر باہر آگیا، حکومت نے چندے کے لئے جو سینٹر بنائے تھے وہاں لمبی لمبی لائنیں لگ گئیں اور لوگوں نے جو جس کے پاس تھا جمع کرانا شروع کردیا، پیلے رنگ کے ربن لگے ہوئے تھے اور جگہ جگہ بینر تھے جس پر لکھا تھا ملک بچانے کے لئے عوام کی مدد کی ضرورت ہے۔ مزید لوگوں نے آنا شروع کردیا فوری طور پر دو اعشاریہ دو بلین ڈالر کا سونا جمع ہوگیا، جسے پگھلاکر فوری طور پر آئی ایم ایف کے حوالے کیا گیا اور کوریا ایک بڑے بحران سے نکل آیا۔ اس کے بعد ساری قوم نے اتّحاد محنت اور قربانیاں دے کر 2001 تک آئی ایم ایف کا 58 بلین ڈالر کا قرضہ اتار دیا۔ کہتے ہیں حبّ الوطنی ایثار اور قربانی کی اس سے بڑی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، وہ ملک جو ڈوبنے کے بالکل کنارے پر تھا، عوام نے اسے بچالیا اور آج صرف سترہ سال کے عرصے میں کوریا دوبارہ خوشحال اور ترقّی یافتہ ملکوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی پچھلی حکومتوں نے جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے ملک کو بری طرح سے لوٹا گیا ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ ہے اندرونی حالات ابتر ہیں اور خزانہ خالی ہے، بیرونی امداد تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، ڈیم بنانا بھی بہت ضروری ہے، اس کے لئے عوام سے مدد کی اپیل ہوئی تو اس کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق اڑایا گیا، حکومت کو بھکاری اور نہ جانے کن کن خطاب سے نوازا گیا، حیرت کی بات ہے کہ یہ قوم دراصل حکومت کا نہیں بلکہ خود اپنا مذاق اڑارہی ہے، ڈیم بننے کا فائدہ کس کو ہوگا، کیا چند حکومت کے آدمیوں کو یا کسی غیر ملک کو یہ نہیں سوچا جارہا ہے کہ اس کا فائدہ پوری قوم کو ہوگا لیکن ہماری قوم سیاسی پارٹیوں میں اس طرح تقسیم ہوچکی ہے کہ اسے ملک کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ اسی پاویں مرجاواں پر لیڈر دی خیر ہووے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں