Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 40

نور مور ڈو مور۔۔۔ امریکا

بڑا ہی دُکھ ہوتا ہے اس وقت جب ہمارے دانشور نما صحافی اپنے کرپشن اور بدعنوانی کے تبصروں میں زرداری، نواز شریف اور عمران خان کو ایک ہی قطار میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ اس طرح سے کرکے جہاں وہ گدھے اور گھوڑے کے فرق کو ختم کر دیتے ہیں وہی وہ صحافتی بددیانتی کے سنگین جرم کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح سے کرکے جہاں وہ اپنی کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستگی کا اعتراف کرلیتے ہیں وہیں وہ اپنے غیر جانبدارانہ صحافت پر بھی ایک سوال کھڑا کردیتے ہیں؟ مجھے معلوم ہے کہ ایسا کرتے ہوئے انہیں احساس ہو رہا ہو گا کہ وہ غلط کررہے ہیں، لیکن وہ بھی انسان ہونے کے ناطے اپنے لاشعوری دباﺅ کے آگے مجبور ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر اس لیے قلم اٹھایا کہ ان دنوں اس طرح کی وارداتیں روزانہ کی بنیاد پر کی جارہی ہیں اس لیے اس سلسلے میں عوام کو آگاہ کرنا اور اس جانب ان کی توجہ دلانا ضروری ہے کہ وہ اس طرح کے نیم حکیم نما دانشور صحافیوں کے تبصروں اور ان کے تجزیوں کے ذریعے غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو، اب دوسرے اہم ترین موضوعات کی جانب آتے ہیں۔ پاکستان ان دنوں خارجہ پالیسی کے لحاظ سے اپنی سمت بدل رہا ہے اور اس جانب تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے کہ جس سے خطے میں عالمی طاقتوں کا توازن برقرار رہے اس لیے کہ امریکی مائی باپ کی یہ خواہش ہے کہ جنوبی ایشیاءمیں بھارت سب سے بڑی طاقت بن کر ابھرے۔ اسی مقصد کے لیے امریکہ کے سیکریٹری خارجہ پومپیو پچھلے دنوں بھارت کا دورہ کر چکے ہیں ان کی بھارتی حکام کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقاتوں میں ایک اسرائیلی تھنک ٹینک کا وفد بھی شامل تھا ان دونوں کا مقصد بھارت کو علاقے میں طاقت کا غلبہ دلانا ہے تاکہ اس کے ذریعے چین کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکا جا سکے۔ اسی وجہ سے امریکہ، بھارت کے ساتھ دھڑا دھڑ دفاعی معاہدے کررہا ہے اور اسے جدید سے جدید ٹیکنالوجی فراہم کررہا ہے۔ اس سلسلے میں اسرائیل بھی ان کے ساتھ برابر کا شریک ہے۔ بھارت کو علاقہ کا ”غنڈہ“ بنا کر امریکہ چین کی سب سے بڑی ترقی ”سی پیک“ کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب امریکہ پاکستان پر بھی بالواسطہ یا براہ راست طور پر دباﺅ ڈال رہا ہے کہ وہ بھارت سے تعلقات کو بہتر کرے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان جب بھی کشمیر کے مسئلے پر آواز بلند کرتا ہے تو امریکہ بھارت کی ایماءپر پاکستان سے ”ڈو مور“ کا مطالبہ کرتا ہے۔ ”ڈو مور“ کا واضح مطلب یا اشارہ یہ ہوتا ہے کہ پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو روکنے میں کردار ادا کرے۔ یہ تو خدا کا شکر ہے کہ پاکستان سے شریف خاندان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا ورنہ انہوں نے تو اپنے دور حکمرانی میں پاکستان کو بھارت کا تابع یا پاکستان کو اس کا ایک صوبہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جس کے بڑے شواہد کشمیر پر اور کلبھوشن یادیو کے گرفتاری پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا تھا۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی امریکہ سے ہونے والی پہلی ملاقات میں اس پر واضح کردیا کہ اب ویسا نہیں ہو گا جیسے وہ چاہتے تھے۔ اب پاکستان کی خودمختاری ہر تعلق پر مقدم ہو گی، اب پاکستان کسی کی جنگ لڑنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ اسی لیے امریکی ”ڈور مور“ کی خواہش کو رد کردیا گیا۔ امریکی سیکریٹری خارجہ کو جس طرح کا پروٹوکول دیا گیا۔۔۔ وہ بھی دشمنوں سے زیادہ خود اپنوں کو کھٹک رہا ہے بحرحال پاکستان نے بڑے عرصے بعد خود کو امریکہ کی غیر سرکاری غلامی سے نکال دیا ہے اور عمران خان نے ٹھوک بجا کر دنیا پر باور کرادیا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی نہ تو کسی کے دباﺅ پر بنائی جائے گی اور نہ ہی کسی کی خواہش پر۔ بلکہ اب خارجہ پالیسی ملک اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھ کر بنائی جائے گی۔ یہ وہ پیغام تھا جس کے لیے پاکستانی عوام کے کان بالخصوص اور ریاست پاکستان بالعموم عرصہ 71 برسوں سے ترس رہے تھے۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے امریکہ اور بھارت کی اربوں ڈالرز کی وہ انویسٹمنٹ بھی ختم ہو گئی جو انہوں نے اپنے این جی اوز اپنے زرخرید پاکستانی میڈیا اور سیاستدانوں کے ذریعے بھارت اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے پر خرچ کی تھی۔ ان کی یہ پوری کوشش تھی کہ پاکستانی فوج اور حکمران ایک دوسرے سے لڑتے رہیں لیکن عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی ”ڈان لیکس“ کے حربوں کے ذریعے مصنوعی طور پیدا کی جانے والی دوریاں بھی چٹکی بجاتے ہی ختم کر دی گئیں۔ یہ وہ تلخ صورت حال ہے جس سے بھارت اور امریکہ براہ راست دوچار ہیں۔ اس لئے کہ ان کی ساری چالیں ہی نواز شریف کی گرفتاری سے الٹ گئی اور وہ جس طرح کی طاقت کا غلبہ خطے میں چاہتے تھے ان کا یہ خواب تو اب دور دور تک شرمندہ تعبیر ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہا۔ کالم کی ابتداءجن سطور سے کی تھی میں اسی میں کچھ اضافے کے ساتھ کالم کا اختتام کرنے جارہا ہوں، ہمارے ان دانشور صحافیوں کو چاہئے کہ وہ عمران خان کا زرداری اور نواز شریف سے موازنہ کرکے نہ تو زرداری اور نواز شریف کی بے عزتی کریں اور نہ ہی عمران خان کا ان سے موازنہ کروا کے خود عمران خان کی توہین کریں۔ اس لئے کہ ان میں اتنا ہی فرق ہے جتنا زمین اور آسمان میں۔ ان دانشوروں سے گزارش ہے کہ پاکستانی قوم پر رحم فرمائیں اور انہیں مزید گمراہ نہ کریں، ملک کو درست سمت میں چلانے پر عمران خان کا ساتھ دیں اور ان پر تعمیری تنقید کریں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بہتر کام کرسکے۔ آخر میں کلثوم نواز کی وفات پر اپنے اور اپنے ادارے کی جانب سے شریف فیملی سے افسوس کا اظہار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاءفرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں