105

منی بجٹ پیش؛ وزیراعظم، وزرا اور گورنرز کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کردیا گیا جس میں وزیراعظم، وزرا اور گورنرز کو حاصل ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے فنانس بجٹ میں ترامیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کو بچانا ہے، بجٹ میں تبدیلی نہ کی گئی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں اور خسارہ 27 سو ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔

سگریٹ، موبائل فون، بڑی گاڑیاں مہنگی
اسد عمر نے وزیراعظم، وزرا اور گورنرز کو ٹیکس سے حاصل استثنیٰ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اب ان اعلیٰ حکام سے بھی ٹیکس لیا جائے گا، پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے اور کم از کم پنشن 10 ہزار روپے ہوگی، مہنگے موبائل فونز پر ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے، بجٹ میں سگریٹ پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، 1800 سی سی سے زیادہ کی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 10 سے بڑھا کر 20 فیصد کردی گئی۔

ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب کا ریلیف
وزیر خزانہ نے کہا کہ ریگولٹری ڈیوٹی کی مد میں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں، پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی ٹیکس میں حالیہ اضافہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ پٹرولیم ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے، نان فائلرز کے لیے بینکنگ ٹرانزیکشن پر 0.4 فیصد ٹیکس کو 0.6 فیصد کیا جارہا ہے اور اب ان پر ملک میں جائیداد خریدنے پر پابندی بھی ختم کردی گئی ہے۔

12 لاکھ آمدن پر اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا
وزیر خزانہ نے کہا کہ سالانہ 12 لاکھ تک آمدنی والے افراد سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جارہا، چار لاکھ روپے سالانہ آمدن والے افراد کو ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے، چار سے آٹھ لاکھ آمدن پر ایک ہزار روپے ٹیکس، 8 سے بارہ لاکھ پر دو ہزار روپے، بارہ لاکھ سے 24 لاکھ سالانہ آمدن پر 5 فیصد ٹیکس، 24 سے 30 لاکھ روپے آمدن پر 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ 30 لاکھ سے زائد آمدن پر 15 فیصد ٹیکس، 40 سے 50 لاکھ آمدن پر 25 فیصد اور 50 لاکھ سے زائد آمدن پر 29 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

کراچی کیلئے 50 ارب روپے مختص
اسد عمر نے کہا کہ یوریا کی ترسیل بڑھانے کے لیے 1 لاکھ ٹن کھاد درآمد کی جائے جس میں سبسڈی دی جائے گی، دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائے گا، مالی سال 2018 میں ترقیاتی منصوبوں پر 6 سو 61 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جسے اس سال بڑھا کر 725 ارب روپے کردیا گیا ہے، اس میں سے 50 ارب کراچی کی ترقی کے لیے مختص کیے گئے ہیں، مزدوروں کے 8276 گھروں کی تعمیر کیلیے ساڑھے 4 ارب روپے جاری کیے جائیں گے، خیبر پختونخوا میں متعارف کروائے گئے صحت پروگرام کو قبائلی علاقوں اور اسلام آباد میں بھی شروع کیا جائے گا۔

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس
اسد عمر نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، حکومت نے نان فائلرز پر بوجھ ڈالا ہے، تمام اقدامات کے نتائج آنے میں تھوڑا وقت لگے گا، کرنٹ اکاو¿نٹ خسارے کا تخمینہ 18 سے 21 ارب ڈالرز ہے، تنخواہ دارطبقے کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس 25 فیصد کردیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں