Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 30

ذرا سوچئے

دنیا میں ازل سے طاقت کی حکمرانی ہے ۔تاج اسی کے سر پر ہوتا ہے جو سب سے طاقت ور ہے۔یہ طاقت تین طرح کی ہوتی ہے۔ جسمانی،مادّی ،یا پھر گروپ کی شکل میں کسی ملک پر حکمرانی صرف وہی کرتا ہے جس کے پاس طاقت ہو جسمانی طاقت کے تو زمانے لد گئے یا پھر شائید دنیا کا کوئی کونا ایسا بھی ہو جہاں اب بھی جسمانی طاقت کے ذریعے حکومت کی جاتی ہو کیونکہ جسمانی طاقت کی حکمرانی صرف گلی محلّے یا گروپ کی حد تک رہ گئی ہے ۔زیادہ تر حکمرانی پیسے کی طاقت پر ہوتی ہے۔ایک طاقت جسے گروپ کی طاقت کہا جاتا ہے یہ طاقت عوام کی ہوتی ہے۔لیکن یہ عوام حسّاس اور غیرت مند قوموں کی ہوتی ہے۔بے حس اور بے غیرت قومیں اپنے ہی جیسے حکمران چنا کرتی ہیں اور اگر کچھ ضمیر رکھنے والے لوگ کسی اچھّے حکمران کو لانے کی کوشش بھی کریں تو یہ بے حس لوگ ان کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ میں نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا۔کہ ہمارے ملک میں اعلی’ تعلیم یافتہ اور عقل مند ،اور دانش وروں کی کمی نہیں ہے پھر یہ حکومتیں جاہلوں کے ہاتھوں میں کیوں جاتی ہیں۔پھر مجھے یہ احساس بھی ہوگیا تھا کہ میں نے غلطی کی ہے کیوں کہ تاریخ شاہد ہے کہ حکمرانی صرف طاقت کے بل بوتے پر ہوتی ہے عقل پر نہیں۔بڑے بڑے شہنشاہوں نے طاقت کے بل پر حکمرانی کی اور بڑے بڑے عقل مندوں کو دربار میں ملازم رکّھا۔ حکومت حاصل کرنے کے لئے طاقت سے کسی نے اپنے ہی بھائیوں کو اور کسی نے چاچاو¿ں کو تو کسی نے باپ کو قتل کردیا ۔عقل کو تو لعل و جواہر کی طاقت سے خرید لیا گیا۔ اور سب سے بڑی مثال تو یہ ہے کہ جنگل کا بادشاہ شیر کو کہا گیا ہے کیونکہ وہ طاقت ور ہوتا ہے اگر جنگل کا بادشاہ عقل کی بنیاد پر تجویز ہوتا تو بندر جانوروں میں سب سے عقل مند ہوتا ہے۔بندر کو جنگل کا بادشاہ کہا جاتا۔میں نے دیکھا کہ امریکہ میں کسی سڑک کے کنارے چار پانچ افراد پوسٹر اٹھائے کھڑے ہیں۔ جس پر صدر اوباما کی مضحکہ خیز تصویر بنی ہوئی ہے ایک تصویر میں ہٹلر کی طرح مونچھیں بنائی ہو ئی ہیں۔کسی بات پر انہوں نے احتجاج کیا۔اور اکثر کرتے رہتے ہیں ۔ لوگ یہاں احتجاج کرتے رہتے ہیں ان میں مسلمان بھی ہوتے ہیں جو حکومت کی پالیسی کے خلاف عراق، افغانستان کی جنگ کے خلاف، ڈرون حملوں کے خلاف اور بھی بے شمار چیزوں کے خلاف احتجاج کرتے ہیں جو ہم نے دیکھے ہیں اور ان کو کوئی تنگ نہیں کرتا مغربی ممالک میں یہ عام بات ہے اسے جمہوریت کہتے ہیں۔چند ایک گنتی کے مسلم ممالک چھوڑ کر کسی مسلم ملک میں اس کا تصوّر بھی نہیں کیا جاسکتا۔مسلم ممالک میں بادشاہت آمریت کی بدترین شکل ہے ۔اسلامی قوانین کا ڈھونگ ہے۔بلکہ وہاں کے قوانین دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی قوانین کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔شاہی خاندان کے افراد کسی بھی قسم کے جرم کی سزا سے آزاد ہیں۔اصل جو اسلامی قوانین تھے ایسا لگتا ہے ان میں سے کئی اور اہم قوانین مغرب نے اپنائے ہوئے ہیں اور ہم نے صرف نام کے لئے بنائے ہوئے ہیں۔ دو سال پہلے میں نے دیکھا ،سنا اور پڑھا اور رنج و غم سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے ایک عالم کی گردن اڑادی گئی صرف اس بناءپر کہ وہ شاہی خاندان کی کچھ باتوں اور زیادتیوں کا مخالف تھا گوکہ وہ میرے مسلک سے نہیں تھا لیکن مسلمان تھا عالم تھا اور ایک اچھّا انسان تھا۔اور مجھے اس زیادتی پر رنج ہوا۔
کوئی اس حکومت سے پوچھنے والا نہیں ہے کہ جب طالبان نے کچھ امریکیوں کے سر قلم کئے تھے تو سعودی حکومت نے اسے وحشیانہ اور غیر انسانی سلوک کا نام دیا تھا اور سخت احتجاج کیا تھا۔اور آج صرف ذاتی مخالفت،مسلک،اور حکومت پر نکتہ چینی کرنے پر سر قلم کردیا گیا۔ اور اس طرح کے ایک اور وا قعے کو کچھ دنوں پہلے دہرایا گیا جس کی زیادہ تشہیر نہیں ہوئی۔چور کا ہاتھ کاٹ دو،ذانی کو سنگ سار کردو ،چرس افیم کوکین لانے والے کا سر قلم کردو۔میں مانتا ہوں یہ سب ہونا چاہئے۔لیکن سب کے ساتھ یکساں سلوک ہو چاہے وہ عام آدمی ہو یا شاہی خاندان کا کوئی فرد کون ایسا شخص ہے جو شاہی خاندان کے افراد کے کرتوتوں سے واقف نہیں ہے۔شہزادے جو بعد میں شاہ بھی بنتے ہیں وہ ذانی بھی ہیں شرابی بھی ہیں جواری بھی ہیں چرس اور کوکین کا نشہ بھی کرتے ہیں تمام کام کھلے عام کرتے ہیں ساری دنیا میں ان کے کرتوتوں کی فلمیں موجود ہیں۔ہمارے ملک میں ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاتا ہمارے سابقہ سربراہ ان کے نوکر تھے ان کی بیٹی کا سسرال بھی تھا۔جب چاہا شکار کے لئے پاکستان آگئے اور ممنوعہ غیر ممنوعہ شکار کئے اور چلے گئے ہمارے میڈیا والے چپ ہیں ان کے ریال آنا بند ہوجائیں گے دانش ور ڈرے ہوئے ہیں اکثر جانا رہتا ہے ہونٹ کھولیں گے تو ائیرپورٹ پر ہی دھر لئے جائیں گے کوڑے پڑیں گے اللہ سے زیادہ عرب والوں سے ڈر ہے عوام بے چارے ویزہ کھلنے کے انتظار میں ہیں ریال کمانے جانا ہے وہ ان جھگڑوں میں پڑنا نہیں چاہتے۔ اس بارے میں تحریک انصاف کی حکومت کیا قدم اٹھاتی ہے اس کا انتظار ہے۔ایک شہزادہ مرا تھا سب کو معلوم تھا کہ نشے کی ذیادتی سے مرگیا ہے یہ خبر دیتے ہوئے ہماری میڈیا کے پیر کانپ رہے تھے شیخ صاحب ناراض نہ ہوجائیں اگر اس کی جگہ کسی غریب ملک کے سربراہ کا بیٹا ہوتا تو مہینوں اس کی خبر میڈیا میں چلتی۔بہرحال اس سر قلم کرنے کے واقعے سے ساری دنیا حیران ہے یہ ہے اسلامی قانون میں سوچ رہا ہوں اور میری آنکھیں بھیگ رہی ہیں۔ یہ ان سرکار دوعالم کی سرزمین ہے جن پر کوڑا پھینکا گیا پتھّر مارے گئے اور انہوں نے معاف کردیا صرف آنے والی مسلم نسلوں کو درس دینے کے لئے جس کا ان نسلوں پر کوئی اثر نہیں ہوا مجھے خلیفہ اوّل کی وہ بات یاد آرہی ہے جو میں نے پڑھی تھی کہ خلیفہ بننے کے بعد فرمایا کہ اگر کوئی شخص میرے کام میں کوئی کوتاہی پائے تو وہ مجھے سب کے سامنے ٹوک سکتا ہے۔مجھے وہ تمام واقعات یاد آرہے ہیں کہ ایک شخص نے خلیفہ سے اعتراض کیا کہ آپ کے کرتے کا کپڑہ زیادہ کیوں ہے ۔مجھے حضرت علی رضیاللہ اور حضرت عمر رضیاللہ کا وہ واقعہ یاد آرہا ہے کہ دونوں دوست خوشگوار ماحول میں کھانا کھارہے تھے کہ ایک شخص آتا ہے اور حضرت علی کی طرف اشارہ کرکے حضرت عمر سے کہتا ہے کہ یہ شخص میرا مجرم ہے اور حضرت عمر اپنا رویّہ بدل کر حضرت عمر سے کہتے ہیں کھڑے ہوجاو¿ ابو حسن تم اس وقت ملزم ہو۔یہ تھی ہمارے خلفاءکی شان۔نہ کسی کی گردن کٹی اور نہ ہی کسی کو کوڑے پڑے صرف اس بناءپر کہ کسی کے کردار پر کسی کے عمل پر اعتراض کیا گیا ہے۔۔قصّہ مختصر موجودہ دور میں اللہ کی مقدّس زمین پر اللہ کے گھر پر ایسے لوگوں نے قبضہ کیا ہوا ہو اور تمام مسلمان ان کی چاپلوسی اور خوش آمد میں مصروف ہوں تو مسلمانوں پر عذاب ہی آسکتا ہے اور تمام دنیا میں ذلیل ورسوا ہی ہو سکتے ہیں جو کہ ہورہے ہیں۔دبئی یوروپ بن چکا ہے کچھ دوسری عرب ریاستیں بھی اسی راستے پر گامزن ہیں اور اب سعودی عرب بھی تبدیلی لانے کو مچل رہا ہے جب کہ ہمارے نئے سربراہ نے پاکستان کو مدینے کی ریاست کا عندیہ دے دیا ہے۔ کچھ غیر ممالک میں عرب بھی شامل ہے جس کا پاکستان کے معاملات میں کافی اثر ہے ۔ نئی حکومت کے لئے بہت سارے چیلینج ہیں امریکہ ،عرب،اور چین کے بارے میں کیا پالیسی رہتی ہے اور تعلقّات اور امداد میں کیا پیش رفت ہوگی یہ اور اس طرح کے بے شمار مسائل منہ کھولے کھڑے ہیں اگر موجودہ حکومت اپنے عزائم میں ثابت قدم رہتی ہے اور عوام کی حمایت حاصل رہتی ہے تو ان شاءاللہ بہتری کی امید ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں