121

ندامت کے آنسو

ٹورانٹو کے علاقے مسی ساگا میں ہماری رہائش گاہ کے قریب سڑک پر ایک چار سالہ بچہ حادثہ کا شکار ہوگیا۔ یہ حادثہ عین اس دن اور تقریباً اس ہی وقت ہوا جب پاکستان کے شہر راولپنڈی کے علاقہ راجہ بازار میں ایک ہی مذہب اور شاید ایک دوسرے کے ہمسایہ ا یک دوسرے کے گلے کاٹ رہے تھے۔ ایک دوسرے کی املاک جلا رہے تھے اور اپنے اپنے جذبات کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ یہ کوئی دہشت گرد حملہ نہیں تھا اس میں مرنے والا بھی کلمہ گو تھا اور مارنے والا اسلام کا نعرہ لگا رہا تھا۔ یہ سب عام انسان تھے، مسلمان تھے، جو اپنے اپنے فقہہ کو صحیح سمجھتے تھے جو کہ اپنے آپ کو ان اکابرین اور اسلام کے ان جلیل القدر ہستیوں سے رابطہ کررہے تھے جنہوں نے اپنی ذات اور اپنے خاندان کو ان اصولوں کی خاطر قربان کردیا جو اپنے خون کا ایک ایک قطرہ اسلام اور نبی کی ذات کی خاطر بہانے کے درپہ رہتے۔ جنہیں آل محمد اور اصحاب نبی سب ہی شامل تھے۔ ان اکابرین میں حیدر کرار، شیر خدا، ابو تراب، حضرت علی مرتضیٰ بھی تھے۔
کیا اہتمام بارگاہ مرتضیٰ کا تھا
بستر جو رسول کا تکیہ خدا کا تھا
جن کی بہادری اور حکمت کے کارناموں سے اسلامی تاریخ بھری پڑی ہے جن کو ہم بچپن سے پڑھتے آئے ایک جنگ میں حیدر کرارؓ نے دشمن کے جری پہلوان کو پچھاڑ دیا اور چاہتے تھے اس کا سر قلم کردیں جو کہ اس وقت جنگی روایات میں شامل تھیں۔ اس پہلوان نے آپؓ کے رخ روشن پر اپنا لعاب دھن تھوک دیا، بجائے اس کے شیر خداؓ اس کا سر غصہ سے قلم کرتے وہ اس کو چھوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ اس پہلوان کی حیرت زدہ نظروں کا سوال پڑھ کر آپؓ نے جو جواب دیا وہ ہم شیعہ سنی بریلوی وہابیوں اور تمام مسلمانوں اور ان کے علاوہ تمام انسانیت کے لئے کیا درس تھا ان کا جواب تھا۔
”میں جنگ ایک عظیم مقصد کی خاطر کررہا تھا، اور دنیا کو بتانا چاہتا تھا کہ ہم اپنے مقصد کی خاطر کیا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں، اس کی گستاخی کی وجہ سے میں اس کو قتل کر دیتا تو سب یہ سمجھتے کہ میں اپنی ذات کا انتقام اس سے لیا“۔ یہ سن کر اس پہلوان کو تو ندامت ہوئی ہو گی مگر یہ واقعہ پڑھ کر جب پنڈی کے اس واقعہ کو دیکھتے ہیں ان سب کو ضرور اپنے دل میں سوچنا چاہئے جو مولا علیؓ کے نام کا نعرہ لگاتے ہیں۔ اس حکمت و دانائی شجاعت کے پیکر کا نعرہ تو سب ہی لگاتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی فرقہ سے ہو مگر ان کی تعلیمات پر کون عمل کررہا ہے؟ جن کی تعلیمات یہ تھیں کہ میری جنگ اپنے دین اسلام اور اپنے رسول کے لئے تھی، اس کے (پہلوان) کے سلوک کے بعد وہ میرا حریف بن گیا اور میں نے اپنے حریف کو معاف کردیا۔ ہمارے شبیرؓ نے تو کربلا میں اپنے بہتر (72) پیاروں کی قربانی اپنے نانا کے دین کی خاطر دی۔
دین احمد کی گواہی دی سر شبیرؓ نے
اب اور دنیا تجھ کو کس کی شہادت چاہئے
آل محمد نے اپنے بزرگوں کی روایات کو قائم رکھا اور قربانیاں دیتے رہے۔ ہمارے عباسؓ نے ہپلے بازو کٹائے پھر اپنی گردن کٹا دیا پنے والد کی پیروی کرتے ہوئے اپنے بھائی کے اصولوں کو بلند رکھا۔ جبر کے اور صبر کے مابین ایک مرحلہ حسینؓ، اس خاندان کے معصوم بچوں نے صبر کی وہ انتہائیں قائم کیں جو ان کے اسلاف نے تعمیر کیں تھیں۔
شیر کا مزار نہیں یہ حد صبر ہے
تلوار سے کھدی ہے سپاہی کی قبر ہے
اور اس ہی صبر کی تلقین اپنے خون سے کرنے والے صبر و ایثار کے پیکر جن کو دیکھ کر فرشتہ بھی حیا کریں، حضرت عثمانؓ غنی ذوالنورین نے کی جو کہ ایک نہیں نبی کی دو بیٹیوں کے شوہر تھے جن کا احترام ہمارے نبی خاص طور پر کرتے تھے۔ ان حیا کے پیکر نے چالیس روز تک بھوکا پیاسا رہ کر شہادت حاصل کرلی اور سیدا الشہداءکہلائے، مدینہ نے کچھ ہی فاصلہ پر موجود اپنی فوجوں کو واپس اپنی حفاظت کے لئے نہیں بلایا۔ اور پھر خارجیوں نے ان کی جان تک لے لی۔ یہ انفرادی قربانی کی وہ عظیم مثال جس کی نظیر کہیں نظر نہیں آتی پھر بعد میں کربلا کے مقام پر اجتماعی قربانی کی عظیم داستان ملتی ہے جو کہ اسلام کی سب سے بڑی عظیم ترین قربانی سمجھی جاتی ہے اپنی مثال آپ ہے۔ جو اس روز سے آج تک اسلام کی ان عظیم قربانیوں کی یاد دلا رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ اسلام کی تاریخ میں جان لینے والوں کو یذید کا پیروکار کہتے ہیں اور جان دینے کو اسوائہ شبیریؓ۔
آج کے دور میں بلوچستان میں کراچی، گلگت میں پارہ چار میں جو معصوم مسلمانوں کی جان کے دشمن ہیں وہ یزید کے پیروکار ہیں اس ہی طرح راجہ بازار میں مسلمانوں کو مارنے والے بھی چاہے وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں وہ یزید کے پیروکار ہیں اور جان دے کر شہادت کا درجہ حاصل کرنے والے کربلا والوں کے دوست ہیں۔ ہمارے اکابرینؓ نے تو اپنے دین کی خاطر قربانیاں دیں انہوں نے اپنے دین اور اپنے رسول سے محبت تو ایک جیسی ہی کی مگر انداز جدا جدا رہے ہیں ہمارے ان عظیم بزرگوں نے اپنی محبت کا اظہار مختلف انداز سے کیا سب اپنے دین اور اپنے رسول سے محبت میں بازی لے جانا چاہتے تھے۔ اس محبت کے طریقہ اپنے اپنے انداز کے تھے۔ جس کو ہم جیسے ناعاقبت اندیش لوگوں نے گمراہ ہو کر فسادی مذہبی رہنماﺅں کے بہکائے میں آکر وجہ اختلاف بنا لیا اور دیگر تمام مذاہب کے ماننے والوں کے سامنے ہمارے مذہب کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا ہے۔ لوگ ہمارے کرتوتوں پر ہنستے ہیں، ہمارے اوپر تمسخرانہ جملہ کستے ہیں، سوائے شرمندگی کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، ہم اپنے لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہیں۔ دوسروں کے مذاہب کے ماننے والوں کو ہم بے راہ رو سمجھتے ہیں، یہ سمجھتے ہیں کہ دوسرے مغرب کے ملکوں میں سب ننگے ناچتے رہتے ہیں، سڑکوں پر جنسی بدکاری کے مظاہرے کرتے ہیں، میں روزانہ اپنی گلی سے گزرتے ہوئے اپنے ملک کے بارے میں جانتے ہوئے شرمندہ ہوتا ہوں، پڑوس کی اس گلی کے نکڑ پر یہ دیکھتا ہوں جہاں چار سال کا بچہ حادثہ کا شکار ہوا تھا، ہر مذہب کا ہر زبان کا کسی دور دراز علاقے کا فرد اس بچے کی روح کو اپنے اپنے انداز سے سلام کررہا ہے، سکون پہنچانے میں مگن ہے۔
میرا خیال تھا کہ یہ بچہ مشرق بعید کے کسی علاقہ کا چشم و چراغ تھا مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس مقام پر کوئی گوری نسل کا فرد چراغ جلا رہا ہے، کوئی جرمن پھول چڑھا رہا ہے، کوئی ایشیائی آنسو بہا رہا ہے، کوئی اپنی اجنبی زبان میں بخشش کی دعا کررہا ہے، کوئی ہاتھ اٹھا رہا ہے، کوئی آہیں بھر رہا ہے، کسی کی سسکیاں نکل رہی ہیں۔ کوئی سر جھکائے اس بچے کو یاد کررہا ہے۔ کسی نے اپنا سینہ تھاما ہوا ہے، کسی نے جھک کر اس کو سلام کے انداز میں خراج تحسین کیا، کسی نے بیٹھ کر اس کی تعظیم کی۔ کوئی کافی دیر تک گم سم کھڑا تھا، کوئی ماتھا جھکا کر پر نام کررہا ہے، کوئی اس بچے کی روح کو سکون پہنچانے کے لئے دعائیں مانگ رہا ہے۔ یہ سب تو ہمارے اکابرین کے فرمودات پر من و عن عمل کررہے ہیں، یہ ہی تو ہمارے اکابرین کی تعلیمات تھیں، جن کو یہ اقوام اختیار کرکے ترقی کی منازل طے کررہی ہیں اور اخلاقیات کی مثالیں قائم کررہی ہیں۔ میں نے تواس واقعہ سے پہلے اپنے دل کا پیام پہنچایا۔ اور اپنے اسلاف کی تعلیمات پر اپنے بھائیوں کو پیغام پہنچایا تھا۔ اب میری آنکھوں میں تو ندامت کے آنسو نکلنے کو بے قرار ہیں۔
پئے جارہا ہوں جہاں سے چھپا کے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں