49

اب کس کی باری ؟

جوں جوں تہہ در تہہ رازوں پر پردے اٹھتے جارہے ہیں، لوٹ مار کرنے والوں کے چہرے سامنے آتے جارہے ہیں۔ سندھ میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ سارے وزرائ، سندھی میڈیا اور وہ کاسہ لیس جن کے تمام مفادات کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں سے وابستہ ہیں ایک آواز ہو کر نئی حکومت کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں۔ یہ عناصر جو ماضی میں اپنے انہی ہتھکنڈوں کے باعث حکومتوں کو بلیک میل کرتے رہے اور ہر دفعہ سندھ کے خلاف سازش، احساس محرومی اور پنجابیوں کے نام لے لے کر اپنے سارے کرتوتوں پر پردے ڈالتے رہے مگر اس دفعہ یہ معاملہ دیگر است۔ اب تو خود سندھی عوام کو بھی پتہ چل چکا ہے کہ ان کا نام لے کر ظالم عیار حکمران صرف اور صرف اپنے خزانے بھرتے رہے۔ اگر نظر دوڑائی جائے تو معاملہ اوپر سے نیچے تک صرف دولت کی لوٹ مار کا ہے۔ بہت سے نام نہاد دانشور خود کو روحانی پیر کہلوانے والے بھی اس بہتی گنگا میں غوطے لگا چکے ہیں۔ تازہ ترین ڈاکو فرحان جونیجو جسے برطانیہ میں ناجائز دولت کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے اور اب تک معلوم رقم سات ارب لے کر فرار ہو چکا ہے اور ان دنوں برطانیہ میں ضمانت پر ہے۔ سندھ کے ایک ایسے سابق وزیر اور پیپلزپارٹی کے بہت معتبر کہلوائے جانے والے امین فہیم کا فرنٹ تھا جس نے لوئی ہوئی اب تک کی معلوم سات ارب روپیہ پاکستان سے منتقل کئے۔ اب سندھ کے ایک صحافی کے بقول مخدوم امین فہیم تو ایک قلندر آدمی تھے ان جیسا پڑھا لکھا شاعر کو اس بات کا کوئی عمل نہیں ہو گا کہ اس کی ناک کے نیچے یہ سب کچھ ہو رہا ہے اسی بڑے گھٹالے میں ایک اور پیر صاحب ملتان کے صاحب کشف سابق وزیر اعظم حضرت یوسف رضا گیلانی بھی گلے گلے شریک ہیں یہ صاحب بھی کھربوں روپیہ کما کر دھوبی بیٹا چاند سے بنے ہوئے ہیں کہ یہ گدی نشین ہیں اپنے اجداد کی گدیوں پر براجماں ہیں لہذا انہیں بھی کچھ نہ کہنا کہ یہ بیچارے تو ایسے کام کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔
خیر بات اب سندھی راہنماﺅں کی ہو رہی تھی جن کا منشور ہی حصول دولت ہے اور جو ببانگ دہل کہتے ہیں اب ہمارا دور ہے تو ہم کیوں دولت حاصل نہ کریں جب کہ دوسرے کررہے ہیں ان کے سرخیل آصف علی زرداری کا ایجنڈا بھی یہی تھا کہ کس قدر لوٹ سکو لوٹ لو اب جب کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ احتساب کا شکنجہ تنگ ہونے لگا ہے، ہر وزیر ایک ہی راگ الاپ رہا ہے کہ ڈیم نہیں بننے دیں گے کیونکہ اس سے سندھ بنجر ہو جائے گا۔ یہ کارڈ سندھ میں کئی دہائیوں سے کھیلا جارہا ہے مگر اب چونکہ مقابلہ سخت ہے اور وقت کم تو ایک شخص جو قائد حزب اختلاف بھی رہ چکا ہے چیف جسٹس کو براہ راست مخاطب کرکے کہہ رہا ہے کہ اگر ڈیم بنانے کا اتنا ہی شوق ہے، سیاسی پارٹی بنا کر پورا کرے، یہ شخص جو شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر اچھال رہا ہے اگر اس پر بھی ذرا تحقیق کرلی جائے تو اس کے بخیے بھی ادھڑ جائیں گے۔ وزیر مذہبی امور کی حقیقت سے جو گل اس نے کھلائے تھے پھر “OBEI” کی جڑ میں گوندل کے ذریعہ اربوں روپیہ لوٹ کر اپنے آدمیوں کے ذریعہ ڈاکہ زنی کا کاروبار شروع کیا اور دولت کے انبار لگائے پھر اس سے پوچھا جائے کہ وہ فرش سے عرش پر کیسے پہنچا۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم نے سندھی پریس سے خصوصی ملاقات میں انہیں ڈیمز کے سلسلے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی مگر سندھی الیکٹرونک میڈیا اور پرنٹ میڈیا نے اس سلسلے میں مہم چلا رکھی ہے، ادھر ان حالات کے پیش نظر یہ خبریں بھی آرہی ہیں ک کراچی میں ایک مرتبہ پھر سے بے نظیر کے قتل کے روز جو بہت بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری اور لوٹ مار کی گئی اسے ایک بار پھر دھرا کر یہ بتایا جائے کہ سندھ کے کرپٹ سیاسی راہنماﺅں وڈیروں اور ان کے سہولت کاروں کو اگر ہاتھ لگایا گیا تو کراچی کی خیر نہیں۔ یہ عناصر حصول دولت اور اقتدار برقرار رکھنے کے لئے شیطان کو اپنی روح بیچنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے اور کوئی تعجب نہیں کہ ان کے بیرون ملک ایجنٹ اور ضمیر فروش پاکستانی اب تک بھارت سے سازباز کر چکے ہوں کیوں کہ یہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ ان کی حرام کی دولت ان سے چھن جائے مگر اس دفعہ غالباً یہ سب کچھ نہ ہو سکے گا کیونکہ اب ایک عام پاکستانی بھی ان کے کرتوتوں سے واقف ہو چکا ہے۔ یہ لوگ دولت کی ہوس میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ نوشتہ دیوار بھی نہیں پڑھ سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب محض دعوے اور اعلانات کے بجائے آہنی ہاتھ سے انہیں پکڑا جائے ورنہ یہ بھی فرار ہو کر آزاد سندھو دیش کے نعرے لگائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں