22

مسائل کا حل جنگ یا جنگ نہیں

اس وقت پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے جنگ پہ بیانات اور عوام کے تاثرات دیکھ کے ایسے لگتا ہے جیسے واقعی کسی بھی لمحے جنگ شروع ہوجائے گی اور خطے کا امن امان برباد ہوجائے گا، تباہی مچ جائے گی۔ حالانکہ اصل حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت بھارت کسی بھی طرح سے جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے ایک تو الیلشن سر پہ آن پہنچا ہے مودی سرکار پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا پالیسی کرکےوہاں کے انتہا پسندوں کے جذبات میں اشتعال پیدا کرنا چاہتی ہے۔
یہ بات سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ نواز شریف حکومت ہر لحاظ سے بھارت نواز حکومت تھی اور جب عمران خان کو انتخابات میں فتح حاصل ہونا شروع ہوئی تو بھارتی انتہا پسندوں کو اچھی خاصی فکر لاحق ہوگئی اور فکر یہ تھی کہ اب پاکستان میں زیرو میٹر دماغ کی بجائے دنیا کا بہترین دماغ آرہا ہے جس کی ساری ٹیم دنیا بھر کے بہترین پروفیشنلز، ایماندار اور محنتی لوگوں سے بھری پڑی ہے۔ اس مضبوط حکومت کے آتے ہی پوری دنیا کا رویہ پاکستان کیلئے یکسر تبدیل ہوکے انتہائی مثبت رخ اختیار کرچکا ہے آئل سٹی پاکستان کیلئے سرمایہ کاری اور کاروبار کا بہترین ذریعہ ہوگا جس سے پاکستان کی اقتصادی ترقی میں بہترین اضافہ ہوگا۔ آئل سٹی مغربی ممالک کا پاکستان پہ اعتماد اور بحال کرے گا ہاں البتہ مغربی ممالک کو اسلامی ملکوں سےصرف تیل بھر کی دشمنی ہے جس کی وجہ سے وہ ان پہ قابض ہوناچاہتے ہیں اب کہیں پاکستان بھی اسی فہرست میں نہ آجائے
مستقبل میں سی پیک ایران، روس اور دوسرے بہت سے ممالک کی سرمایہ کاری کا باعث بھی بنے گی۔ پاکستان کی یہ خوشحالی بھارت سے برداشت نہیں ہوپاتی۔ بہت سے ملکوں کے وفد پاکستان آرہے ہیں مختلف پراجیکٹس پہ بات چیت ہوگی ابھی بہت سے مثبت ذرائع سامنے آئیں گے جس سے پاکستان کے آگے بڑھنے کے بہت سے راستے کھلیں گے۔
بھارت جب جب پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھتا ہے تو کشمیر میں دہشت گردی کی انتہاہوجاتی ہے۔ بھارت اپنے اکھنڈ بھارت کے انہونے خواب کو پورا کرنے کیلئے ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرتا ہے مگر اس مسئلے کے پرسکون اور پر امن حل کے لئے کبھی آگے نہیں آتا۔
کیا پاکستان کی ذرا سی یہ خوشحالی ہمیشہ غریب کشمیری عوام اور ہماری فوج کے جوانوں کے خون میں رنگتی رہے گی۔ ایسا کب تک ہوتا رہے گا۔ انسانیت سوزی کی بدترین مثال ہے یہ۔
جنگ ہمیشہ نقصان کا ہی باعث بن سکتی ہے اور اس وقت جبکہ دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہھیار بھی موجود ہیں جنگ سوائے تباہی کے کچھ بھی نہیں مگر سوال یہ ہے کہ اگر بھارت پاکستان کی صلح کی آفر کو ٹھکرا کے گیدڑ بھبھکیاں کرنے لگے گا تو کیا ایسی صورت میں ہمیں خاموش بیٹھنا چاہئے۔ ایسی صورت میں اشتعال انگیزی پھر بارڈر کے دونوں اطراف چھا جاتی ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک دوسرے سےملنے کو ترسنے والے عوام ایک دوسرے پہ بم گرانے کے خواہش مند ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح سے بھارت عوام کی منفی سوچ کو اوپرلانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔حال تو پاکستان میں بھی سب کا یہی ہے کہ جنگ ہوجانی چاہئے لیکن یہ سب باتیں جذباتیت تک تو ٹھیک ہیں مگر حقیقت میں ان کا اطلاق کدھر ہوسکتا ہے پاکستان ابھی مشکل سے چوروں، لٹیروں کے ہاتھ سے چھوٹ کر ابھی اپنی ایک مثبت پرواز کی طرف گامزن ہے جس کے راستے میں اندرونی و بیرونی ہر طرح کے عوامل ابھی بھی بری طرح حائل ہیں۔ اس وقت نئی حکومت کو ایسی منفی سرگرمیوں سے دور رہ کر صرف اپنی پرواز مضطوط کرنے پر ، غربت۔ جہالت، بے روز گاری جیسے مسائل کو مستقل بنیادوں پر دور کرنے کے اقدامات کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں