70

پاکستانی اور بھارتی ٹیم

عمران خان ایک اسپورٹس مین کی تمام خصوصیات موجود ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ٹیم کی قیادت کرنے کی خصوصیات بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے اپنے ابتدائی خطاب میں پوری قوم کو اپنی ٹیم قرار دے کر اس بات کو دہرایا کہ ان کے ساتھ پوری قوم کو ایسے ہی ساتھ چلنا ہو گا کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں مکمل ذمہ داری سے اور محنت سے کام کرکے ٹیم کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔ جب تک ان کی ٹیم کے تمام کھلاڑی خلوص اور محنت کے جذبہ سے کام نہیں کریں گے اس وقت تک کامیابی حاصل کرنا مشکل ہے کیونکہ ملک اور قوم کے سامنے جو بڑے بڑے بحران ہیں ان سے مقابلے کے لئے ایک ایسے جذبے کی ضرورت ہے جس کے ذریعہ وہ کامیابی حاصل کر سکیں۔ ملک میں سب اپنے اپنے شعبوں میں کامیاب لوگ سمجھتے جاتے ہیں مگر ان میں ملکی مفاد کی کمی پائی جاتی ہے جس طرح پاکستان کرکٹ ٹیم میں اور بھارتی ٹیم میں جذبوں کا فرق ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو کہنے کو تو یہ ایک کرکٹ کی ٹیم ہے مگر اس میں ٹیم کی خصوصیت بالکل نہیں ہے یہ دنیا کی کرکٹ ٹیموں میں سب سے زیادہ ناقابل اعتبار، نا پائیدار ٹیم ہے اس کے کھلاڑی اپنی انفرادی حیثیت میں دنیا کے بڑے کھلاڑیوں میں شمار کئے جاتے ہیں یعنی یہ ایک کمزور ٹیم کے سب سے مضبوط کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ان کی کارکردگی کبھی اس موقع پر بہترین شکل میں نظر نہیں آتی جب ٹیم کو ان کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ یہ اپنی کارکردگی اس موقع پر دکھاتے ہیں جب وہ خود محسوس کرتے ہیں کہ ان کی کارکردگی بہتر ہونی چاہئے تاکہ اس سے ان کی خود کی ذات کو فائدہ پہنچ سکے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی اور پاکستان کی حکومت کی حیثیت ایک جیسی ہے ملک کے حکمراں کی خوشنودی کے لئے ہر وہ کام کیا جاتا ہے جو حکمراں کے مزاج کے مطابق ہو چاہے اس سے ملک کو نقصان ہو یا غیر ضروری ہو۔ یہی حال کرکٹ ٹیم کے کرتا دھرتا لوگوں کا ہے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر نئے کھلاڑی ایسے لڑکوں کو لاتے ہیں جو پرانے کھلاڑیوں کی جگہ کو پر نہ کر سکیں یعنی کرکٹ ٹیم کے بڑوں کا وہی رویہ ہے جو ملک کے بڑے حکمرانوں کا ہے۔ یہ حکمران سب سے پہلے اپنے آپ کو اپنے خاندان کو اولیت دیتے ہیں۔ اور ملک کے مفاد کو بعد میں۔ پھر ایک دوسرے کو اس نقصان کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ فوجی حکمراں سیاستدانوں کو خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں یہی صورت سیاستدانوں کی ہے کہ وہ فوجی حکمرانوں کو ہر خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور عوام کی حالت یہ ہے کہ ان کے لئے ایسا ہی ہے جیسے سو پیاز کے گٹھے اور سو جوتے کی مثال دی جاتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام سیاستدان ہی برائی کے ذمہ دار نہیں، اسی طرح تمام فوجی حکمران ہی اس کے ذمہ دار نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ملک میں ستر سال میں ترقی معکوس ہی رہی ہے۔ برائی کا آغاز ایوب خان کے فوجی اقتدار سے ہوا جس نے پاکستان کے سیاسی نظام کو لپیٹ کر اپنی فوجی حکمرانی کا آغاز کردیا جس سے وقت طور پر کچھ ترقی ہوئی جب کہ اس وقت تک پاکستان اور بھارت کی ترقی کی رفتار ایک جیسی تھی پاکستان کا مقابلہ کرکٹ ٹیم میں یا ہاکی ٹیم میں یا فلم انڈسٹری میں اور فنون لطیفہ میں یکساں تھا۔ یہی صورت حال سیاسی نظام کی تھی جہاں پر دونوں طرف کی حکومتوں میں ایک جیسی طرز سیاست تھی یعنی ان کی مثال کچھوے اور خرگوش کی تھی۔ پاکستان میں فوجی حکمرانوں نے ملک کو خرگوش کی مانند بنا دیا جو ایک جست میں بڑا فاصلہ طے کرکے رک جاتا جب کہ بھارت کچھوے کی مانند آہستہ آہستہ آگے کی جانب بڑھتا گیا۔ جب پاکستان میں کوئی بہتر سیاستدان اقتدار میں آیا تو ملک خرگوش کی مانند جسٹ بھرتا ہوا آگے بڑھ جاتا جیسے بھٹو یا بے نظیر اس ہی طرح جب فوجی حکمرانوں میں موجودہ راحیل شریف یا پرویز مشرف جن کی پالیسیوں کے مثبت اثرات مل میں واضح طور پر نظر آنے شروع ہوگئے اس کے برخلاف ضیاءالحق اور ایوب خان کے دور کے اثرات کی وجہ سے پہلے تو ملک نیم لخت ہوا پھر ضیاءالحق کی بدولت ملک آگ کے سمندر سے گزرنا شروع ہوا۔ حالات کی نوعیت اب ایسی ہو گئی ہے کہ ملک کے حالات نہ سیاستدانوں سے سنبھالے جارہے ہیں نہ فوجی حکمرانوں سے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زمانے میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لئے سیاستدان اور فوجی حکمران مل کر کام کررہے ہیں جب کہ دونوں ہی الگ الگ حالات پر قابو نہیں پا سکتے۔ دوسری طرف کچھوے کی رفتار سے بھارت آگے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ اب حالات بھارت کے لئے اس قدر مناسب ہو گئے ہیں کہ پاکستا اپنے لاکھوں لوگوں کی جانوں کی قربانی دینے کے باوجود دنیا میں ناقدری کا شکار ہے جب کہ بھارت نے اپنی حیثیت اس قدر مضبوط بنا لی ہے کہ دنیا بھر میں اس کو عزت کا مقام دیا جارہا ہے۔
بھارت زندگی کے ہر شعبہ میں پاکستان سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ کرکٹ میں پاکستان کی سرزمین پر کوئی ٹیم میچ کھیلنے کی روادار نہیں دنیا کے کمزور کرکٹ کےملکوں کی ٹیم بھی پاکستان میں آکر کرکٹ کھیلنے پر آمادہ نہیں۔ جیسے کے بنگلہ دیش، سری لنکا، بھارت علاقے کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے بڑوں میں شامل ہے اس کی اہمیت کرکٹ کے ساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی امور میں دن بدن بڑھتی جارہی ہے یہ صرف اس ملک کے حکمرانوں اور عوام کی اپنے ملک سے محبت کی بدولت ہے جو ہر معاملے میں ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہیں۔ ہمارے ملک میں نعرے تو بڑے بڑے لگائے جاتے ہیں، ملک سے محبت کے گیت گائے جاتے ہیں جب کہ عملی طور پر ہر کوئی اپنی ذاتی مفاد کو اولیت دے کر ملکی مفاد کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور جو اپنے ملک سے شدید محبت کرتے ہیں وہ اس کی اس حیثیت پر خون کے آنسو روتے ہیں۔ بار بار اپنی قوم کو اپنے حکمرانوں کو جھنجھوڑتے ہیں مگر ان کے آنسوﺅں اور چیخوں کی ان حکمرانوں کو کوئی پرواہ نہیں۔ پاکستان میں یہی صورت حال کرکٹ کے کھیل کے ساتھ ساتھ دیگر تمام کھیلوں کی ہے دنیا کے کسی مقابلہ میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے، انفرادی طور پر کچھ کھلاڑی دنیا میں کسی مقام کے حامل رہے ہیں جیسے جان شیر خان، جہانگیر خان، عمران خان، جاوید میانداد یا ملالہ یوسف زئی، شرمین عبید چنائے بین الاقوامی طور پر پہنچانے جاتے ہیں۔ عبدالستار ایدھی کی ذاتی حیثیت کو دنیا بھر میں بہت پذیرائی حاصل رہی ہے۔ لیکن جب بات مجموعی کارکردگی کی ہوتی ہے وہاں پاکستان کا کوئی مقام نہیں۔ موقع بہ موقع کچھ حالات و واقعات ایسے ہو جاتے ہیں جس کو بنیاد بنا کر ہمیں کچھ دیر کے لئے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ باقی ہر طرف گھنگور اندھیرا ہی اندھیرا نظر آتا ہے۔ کبھی کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے مگر کچھ ہی دیر کے بعد غائب ہو جاتی ہے۔ بالکل ایسے جیتتے جیتتے ہار جاتے ہیں۔ یا کبھی ہارتے ہارتے جیت جاتے ہیں۔ کرکٹ ٹیم کی نوعیت دیگر تمام شعبوں کی طرح ایک ہی طرح کی تصویر دکھائی دیتی ہیں۔ جس شعبہ کا جائزہ لیا جائے اس کا حال ایک جیسا ہی ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے چوتھا میچ جیت کر پھر امید دلا دی ہے کہ دیگر میچوں میں بھی ایسی کارکردگی دکھا کر ہمارے عوام کو کچھ دیر کی خوشیاں فراہم کردیں۔ امید پر دنیا باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں