35

بیت المقدس برائے فروخت نہیں ہے، فلسطینی صدر

واشنگٹن: فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ بیت المقدس فروخت کے لیے نہیں ہے، فلسطینی عوام کے حقوق پر سودے بازی نہیں کی جاسکتی۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام مذاکرات کو مسترد نہیں کرتے تاہم امریکی انتظامیہ اب بھی اپنی خود ساختہ ڈیل آف دی سینچری پر بات کر رہی ہے‘۔
انہوں نے سوال کیا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس فلسطینی عوام کو دینے کے لیے کیا بچا ہے، کیا اس معاملے کا کوئی سیاسی حل باقی ہے، کس سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، ہم فالتو نہیں ہیں لیکن ہمارے ساتھ فالتو عوام کی طرح برتاو¿ کیوں کیا جاتا ہے‘۔
واضح رہے کہ فلسطینی صدر کی تقریر سے قبل اقوام متحدہ کی ترقی پذیر ممالک کے گروپ نے فلسطین کو 2019 میں اس کی چیئرمین شپ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
گروپ آف 77 کے نام سے یہ گروپ 135 ترقی پذیر ممالک کا مفادات کو وسعت دینے کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کے اس فیصلے پر اسرائیل نے غصے کا اظہار کیا۔
اس سے قبل 26 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران دو ریاستی حل کی تجویز پیش کی تھی۔
امریکی صدر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل اور فلسطین کی علیحدہ ریاستیں اس تنازع کا بہترین حل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’دونوں ممالک کے درمیان جو تجویز باہمی رضامندی سے سامنے آئے گی، میں اس کی حمایت کروں گا‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اسرائیلی اور فلسطینی ایک ریاست چاہتے ہیں تو بھی ٹھیک ہے اور اگر وہ 2 ریاست بنانا چاہتے ہیں تو بھی میرے لیے ٹھیک ہے، اگر وہ خوش ہیں تو میں بھی خوش ہوں‘۔
ادھر اسرائیل کے وزیر دفاع ایوگدور لیبرمین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’اسرائیل کے مفاد میں ایک محفوظ یہودی ریاست ہے، فلسطینی ریاست میں مجھے کوئی دلچسپی نہیں‘۔
خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین دنیا کے بڑے تنازع میں سے ایک ہے جس پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں ہرسال بھرپور آواز اٹھائی جاتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں