111

پیشن گوئی

مولانا محمد علی جوہر مولانا ذوالفقار علی خان گوہر اور شوکت علی تحریک آزادی کے مجاہد بھی تھے اور بی اماں کے تینوں فرزند بھی تھے۔ شوکت علی منجھلے تھے انہوں نے 54 سال کی عمر میں ایک غیر ملکی خاتون سے شادی کرلی۔ اخبار نویسوں نے ان سے طرح طرح کے سوالات کئے۔ ایک اخبار نویس نے سوال کیا کہ آپ کے بڑے بھائی گوہر ہیں، چھوٹے بھائی جوہر ہیں تو آپ کا تخلص کیا ہے۔ شوکت علی نے فوراً جواب دیا ”شوہر“۔
اس ہی طرح جب انڈین نیشنل کانگریس نے سول نافرمانی کے ساتھ نمک بنانے کی تحریک شروع کی تو گاندھی جی نے مولانا محمد علی کو سول نافرمانی کے ساتھ نمک بنانے کی تحریک میں شمولیت کی دعوت دی تو مولانا نے فرمایا کہ میں کیا نمک بناﺅں گا، قوم کے غم میں دس سال سے شکر جو بنا رہا ہوں۔ واضح رہے کہ مولانا کے پاس آج کل کے سیاستدانوں کی طرح شوگر ملیں نہیں تھیں بلکہ ان کو ذیابیطس (Diabatic) تھی۔
یہ وہ زعما تھے جو حقیقتاً قوم کے غم میں گھلتے رہتے تھے وہ اپنی قوم کے مستقبل کے لئے ہر پل غور و فکر میں مشغول رہتے، وہ اپنی قوم کے لئے بہت دور تک چلے جاتے، طرح طرح کے اندیشہ ان کو اندر ہی اندر کھاتے رہتے مگر وہ اپنی قوم کی فلاح کے لئے اپنے ذاتی دکھ درد بھول کر اپنے آپ کو قوم کے لئے وقف کر دیتے۔ اللہ ان کو مستقبل میں جھانکنے کی صلاحیتیں بھی عطا کر دیتا۔ آج سے تقریباً 80 نوے سال پہلے اکابرین اس زمانے میں موجودہ حالات کی ایسی منظر کشی کردیتے تھے کہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹائم مشین میں بیٹھ کر موجودہ زمانے سے آگاہی حاصل کرلیتے تھے۔ موجودہ دور کے حالات کو اب سے ستر اسی سال پہلے ایسے بیان کردیتے تھے جیسے ان کو کشف و کرامات کے ذریعہ عرفان حاصل ہو جاتا تھا۔ اس طرح انہوں نے ایک عرصہ پہلے ہی مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کے حالات سے باخبردیا تھا۔ آج کے حالات سے سرسید سے لے کر ابولکلام آزاد تک، مولانا حسن احمد مدنی سے لے کر مولانا ابواعلیٰ مودودی تک سب ہی یہ واقف تھے اور سمجھتے تھے تقسیم ہندوستان سے تقسیم مسلمان کا آغاز ہو جائے گا یہ ہی بات سرحدی گاندھی خان عبدالغفار خان اور ان کے صاحبزادے خان عبدالولی خان بھی کہتے تھے کہ تقسیم ہند تقسیم مسلمان کا باعث ہوگی۔ آج موجودہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں میں ایک انتشار کی کیفیت میں متبلا کردیا ہے۔ وہ سب اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ ہمارے ان اکابرین نے اب سے ایک عرصہ پہلے جو پیشن گوئی کی تھی وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوتی چلی جارہی ہے۔ تقسیم ہندوستان کے وقت وہاں کے مسلمان ہندوﺅں کے رحم و کرم کے محتاج ہوگئے اور پاکستان بنانے کی سزا اب تک بھگت رہے ہیں۔ بنگلہ دیش پاکستان سے الگ کردیا گیا ہے۔ موجودہ پاکستان کے رہنے والے مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں ہر علاقے کے لوگ دوسرے علاقے کے لوگوں سے بدگماں ہیں ان کی اپنی اپنی سوچ و فکر ہے ان کے راستے جدا ہیں سب نفسی نفسی کا شکار ہیں۔
تین صوبں میں فون ان علاقوں کو پاکستان میں شامل رکھنے کی کوششوں کی وجہ سے یہاں پاکستان کا نام لیا جارہا ہے۔ پاکستان کی تحریک کے دوران ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی خواہش تھی کہ خدا کرے کے ان اکابرین کے خدشات غلط ثابت ہوں اور ان کی پیشن گوئیاں حقیقت ثابت نہ ہوں۔ ابوالکلام آزاد یا حسین احمد مدنی اور مولانا مودودی کی نگاہیں جہاں تک دیکھ سکتی تھیں وہاں تک ہندوستان کے مسلمان دیکھنے اور سمجھنکے بھی روادار نہیں تھے مگر وہ اندیشے اور پیش گوئیاں موجودہ پاکستان میں بالکل درست ثابت ہو رہی ہیں۔
خان عبدالولی خان طویل عرصہ برٹش انڈیا لائبریری میں ریسرچ کرکے جب عوام کے سامنے ان اکابرین کی پیش گوئیوں کو دہرایا تو اہل پاکستان نے ان کو غداروں میں شمار کرنا شروع کردیا انہوں نے اپنے وسیع مطالعہ کے بعد جب یہ کہا کہ تقسیم ہند سے تقسیم مسلمان ثابت ہونے والی ہے تو ان کے اس طرح کے بیانات سے تمام محب وطن لوگوں نے بے زاری کا اظہار کیا۔ مگر موجودہ دور کے حالات ثابت کررہے ہیں کہ تقسیم ہند سے تقسیم مسلمان حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ برصغیر کے مسلمان جو انگریز کے آنے سے پہلے پورے ہندوستان پر حکمرانی کررہے تھے۔ وہ انگریز کے ہاتھوں حکمرانی چھن جانے کے باوجود اس قدر متحد تھے کہ ان کی تحریک آزادی انگریز اور ہندو مل کر بھی نہیں روک سکے۔ اس موقع پر ان اکابرین ہدایات پر عمل پیرا ہوا جاتا تو آج پورے ہندوستان کے مسلمان برصغیر اپنی حاکمیت کو اس طرح سے قائم رکھ سکتے تھے جیسے پورے ہندوستان پر سکھوں کی آبادی انتہائی کم ہونے کے باوجود وہ زندگی کے ہر شعبہ پر نہ صرف چھائے ہوئے ہ یں بلکہ ان کو اپنے حصہ سے زیادہ حق دیا جارہا ہے۔ مگر ان اکابرین کی نظریات کو یکسر مسترد کرکے تمام مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا اس کا انجام یہ ہوا کہ آج ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان اپنے حقوق سے یکسر محروم ہیں، زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے ساتھ امتیاز برتا جارہا ہے۔ ان کو جائز حقوق سے بھی محروم رکھ کر ہر شعبہ میں پسماندہ رکھا جارہا ہے۔ دوسری طرف سے پاکستان سے ایک علاقہ علیحدگی اختیار کرکے بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ باقی رہ جانے والے پاکستان کے حصوں میں آپس میں بدگمانی اپنے عروج پر ہے۔
ہندوستان کے مسلمان انگریز کے حکمرانی چھوڑ کر جانے کے فیصلہ کے بعد اس اندیشہ کی بنیاد پر اپنے حقوق کی حفاظت کی خاطر ایک علیحدہ ملک بنانے پر مجبور ہوئے کہ اگر ہندو اکثریت کو اختیار و اقتدار حاصل ہو گیا تو وہ اقلیتی مسلمانوں کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے جیسا کہ اب بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے مگر اکثریت کی اس نا انصافی کا گلہ آج کے پاکستان میں چھوٹے صوبوں کے لوگوں کو بھی ہو رہا ہے یہی وجہ ہے ان چھوٹے صوبوں کے لوگوں میں احساس محرومی پیدا ہو رہا ہے جس کا پاکستان کے دشمن بخوبی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ یوں تین صوبوں میں فوجی آپریشن جاری ہے۔ فوجی آپریشن ان پاکستان کے دشمنوں کے خلاف تو بہت ضروری ہوسکتا ہے مگر اس کا علاج صرف فوجی آپریشن ہی نہیں بلکہ ان صوبوں کے لوگوں کو یہ احساس دلانا ہے کہ ان کے ساتھ بے انصافی کا سلسلہ ختم کرکے ان کو وہ تمام حقوق دیئے جائیں گے جن کی خاطر تحریک آزادی چلا کر مسلمان ہندوﺅں سے انصاف کی امید چھوڑ کر پاکستان بنانے پر مجبور ہوئے۔ اگر پاکستان کے ہر علاقے کے لوگوں کو ان کے جائز حقوق حاصل ہو جائیں تو ان اکابرین کی پیش گوئیوں یا خدشات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔ یہ اہل پاکستان کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ہر خطے کے لوگوں کو یکساں حقوق دے کر ان خدشات اور پیش گوئیوں کو غلط ثابت کرکے یہ بتایا جائے کہ پاکستان جس مقصد سے حاصل کیا گیا تھا وہ مقاصد اب پاکستان بننے کے 70 سال بعد ہر علاقے کے لوگوں کو یکساں حاصل ہورہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں