30

کرن فاﺅنڈیشن کی روح رواں سبینا کھتری کی کینیڈا آمد

ٹورنٹو (پاکستان ٹائمز) تقریب کے آغاز میں عدنان اور اسماءعلوی نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ Help me کینیڈا کی صدر محترمہ شہینا آفرین نے بتایا کہ کیوں انہوں نے آگے بڑھ کر کرن فاﺅنڈیشن کی چیئرپرسن سبینا کھتری کی مدد کی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے نیک نیتی کی اعلیٰ مثال دیکھی اور غریب علاقہ لیاری میں بچوں کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرنے والی اس خاتون سے متاثر ہو کر آگے قدم بڑھایا انہوں نے بتایا کہ وہ خود پاکستان گئیں اور ان کے کام کو نہایت صاف و شفاف پایا۔ یہی وجہ ہے کہ کرن فاﺅنڈیشن تعلیم کے میدان میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے اور نہ صرف بچوں کی تعلیم، بلکہ ان کے والدین کی تربیت کا ذمہ بھی اٹھائے ہوئے ہے۔ سبینا کھتری نے اپنے خطاب میں اپنے پروجیکٹس پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ کس طرح انہوں نے لیاری میں کام کا آغاز کیا اور یوں 20 بچوں سے 650 بچوں تک کا سفر طے کیا مگر یہ سب کچھ کمیونٹی کی مدد کے بغیر ناممکن تھا۔ لیکن جب عزم سچا ہو، نیت صاف ہو تو مشکلیں حل ہو جاتی ہیں۔ یوں یہ سفر نہایت کامیابی سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں اور والدین کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے ان کی مدد کی جاتی ہے۔ اور لیاری کے علاقہ کی خواتین اور بچے شعوری منازل طے کررہے ہیں۔ اس غریب علاقہ کے بچے جو کراچی کے اعلیٰ اسکولوں میں پڑھنے کو صرف تصور میں سوچ سکتے تھے آج حبیب پبلک اسکول جیسے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کی بنیادوں پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ کرن فاﺅنڈیشن نے تو ایسے بچوں کو صرف Pitch فراہم کی ہیں۔ باقی کام یہ بچے اور ان کے والدین اپنی مدد آپ کے تحت کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ ہم کم نرخوں پر بچت بازار کا بھی انعقاد کرتے ہیں جہاں سے ان بچوں کی فیملیز اعلیٰ اور معیاری گراسری اور دیگر روزمرہ کا سامان مناسب داموں میں حاصل کرلیتے ہیں۔ کرن فاﺅنڈیشن نے خواتین کے لئے آگاہی پروگراموں کے علاوہ خواتین کو ڈرائیونگ سکھانے کا بھی بندوبست کیا ہے تاکہ یہ خواتین خود کو پسماندہ تصور نہ کریں اور مقابلہ کی دوڑ میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔ کرن فاﺅنڈیشن Parent Meeting کے علاوہ Grand Parents Meeting کا بھی انعقاد عمل میں لاتی ہیں تاکہ بچے اپنے بزرگوں اور اپنے قدروں سے مضبوطی سے جڑے رہیں۔ سبینا کھتری نے بتایا کہ ان کے ادارے نے ”کرن گھر“ کے نام سے بھی پروجیکٹ شروع کیا ہے جس کے تحت Social Home کو متعارف کرایا گیا ہے جس میں بچے کھانے پینے کے علاوہ کوچنگ لیتے ہیں اور انہیں انٹرنیٹ اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ وہ جنرل نالج اور دنیا بھر میں ہونے والی ترقیوں سے آگاہی حاصل کرسکیں اور کسی دوسرے بچے نے جو کراچی کے بڑے اسکولوں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں پیچھے نہ رہیں بلکہ ان کے مقابلے کی تعلیم و تربیت حاصل کرکے عزت و وقار کی زندگی گزار سکیں۔ سبینا کھتری نے بتایا کہ وہ تمام کام کے لئے حکومت سندھ سے بھی ایک اسکول کا پروجیکٹ حاصل کرچکی ہیں مگر وہ تمام کام نہایت ذمہ داری اور ایمانداری سے کرنے کی خواہش مند ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ نہایت محتاط انداز میں لیکن نہایت کامیابی کے ساتھ کمیونٹی کا تعاون اور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ لوگ آگے آئیں اور ان بچوں کے تابناک مستقبل اور ہمارے پروجیکٹس میں ہمارے پارٹنر بنیں تاکہ ہم سب مل جل کر اس کارخیر کو جاری و ساری رکھ سکیں۔ انہوں نے Help me Projects کی صدر شہینا آفرین، سیکریٹری فوزیہ اختر، خزانچی حنا اشرف اور ڈائریکٹر عدنان علوی کا تہہ دل سے اور تمام مہمانوں کی آمد اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں