38

کوﺅں کی ٹولی ۔۔۔ ایک ہی بولی

عجیب و غریب حالات رونما ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے برج اُلٹے جارہے ہیں وہ جن کے ماتھے پر ایک بل بھی آجاتا تھا تو دنیا تہہ و بالا ہو جاتی تھی، وہ جن کے پائے ناز کے نیچے مخمل اور پھول بچھائے جاتے تھے جن کے ایک اشارے پر بلند، پست اور پست، بلند ہو جاتے تھے۔ وہ جو خود کو فرعون بے سامان گردانتے تھے اور طبعی نظروں میں مخالف مچھر کی حیثیت رکھتے تھے، آج وہی مچھر ان کی ناک میں دم کئے ہوئے ہیں۔ آئے دن عدالتوں کی پیشیاں، روز روز نیا دکھڑا، کل کے امین اور صادق آج کے خائن اور کاذب، خود کو امیر المومنین کہلوانے کے خواہش مند آج کے وہ جن سے سب شرمائیں ہنود اور یہود۔ یہ وطن فروش جو کہ گوئٹے کے ناول ”فاوسٹ“ کے مرکزی کردار کی طرح اپنے اقتدار اور مفاد کے لئے اپنی روح بھی شیطان کو فروخت کرنے سے گریز نہ کریں۔ یہ جنہیں اقتدار حاصل ہوا تو انہوں نے ان ”ناچیز ووٹروں“ کو محض کیڑے مکوڑے سمجھا اور ان کی دولت کو شیر مادر سمجھ کر ہضم کرگئے۔ ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنے دور حکومت میں فارن کرنسی اکاﺅنٹس پر قبضے کرکے عوام کی امانت میں خیانت کی ان میں وہ بھی ہیں جنہوں نے اپنی ہوس کے دور اقتدار میں وزیر ماحولیات بن کر بلوچستان کے علاقہ زیارت میں اقوام متحدہ کی طرف سے انسانی ورثہ قرار دیئے گئے ”جونی پور جنگلات“ کے تحفظ کے لئے دیئے گئے اربوں روپیہ ڈکار لئے اور علاقہ میں جنگلات کو کاٹ کر جلانے والوں میں چند کروڑ کے گیس سلینڈر تقسیم کرکے اور فوٹو کھنوا کر باقی رقم ہضم کرلی۔ (راقم عینی گواہ ہے)۔ اسی کے نقش قوم پر چلتے ہوئے کل کے میٹر ریڈر اور قائد حزب اختلاف کے بھائی نے سندھ کے جنگلات کے تحفظ کے لئے ملنے والی رقم ہڑپ کرلی مگر یہ تو مونگ پھلی کے دانے تھے اس کے بعد تو ارب ڈالر کلب کی رکنیت کی دوڑ شروع ہوئی اور قومی دولت کو لوٹنے کی ریس کی ابتداءہو گئی کہ کون پہلے اوپر تک پہنچتا ہے۔ دو خاندانوں کے دور اقتدار جو کہ اس ملک کی قسمت کا سیاہ ترین دور کہا جاتا ہے، ڈاکوﺅں، لٹیروں اور قاتلوں نے یرغمال بنا لیا اور ایک ایسا طبقہ پیدا کردیا جو ان کے سایہ میں سیاہ کاریوں کے ریکارڈ قائم کرتا رہا۔ انہوں نے اس اصول کے تحت کے سب کھاﺅ، سب لوٹو، خوب عوام کو سبز باغ دکھا کر احمق بناﺅ مگر ہمیں کچھ مت کہو اور اب گلے پھاڑ پھاڑ کر چیخ رہے ہیں کہ بڑا ظلم ہو رہا ہے، اب ہر جگہ آہستہ آہستہ ان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے ان کی آہ و فغاں بڑھتی جارہی ہے۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ کبھی ان کے سیاہ کارناموں کی پکڑ نہیں ہوگی آج اپنے انجام کو دیکھ کر بوکھلا گئے ہیں اور جب سب کا انجام ایک ہی ہونا ہے کیونکہ سب کا گناہ بھی ایک ہی تو وہ جو کل ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کے روادار نہ تھے پھر آپس میں مل رہے ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے دل پکار میں جلاﺅ یہ دل
والا معاملہ ہے۔ آج وہ سارے وطن فروش جو اس ملک کا کھا رہے تھے اور خوب کھا رہے تھے، یہاں اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے جو اپنے پورے خاندان کو بلوچستان کے وسائل لوٹنے کے لئے وزارتیں، گورنری اور بیوروکریسی میں شامل کرائے ہوئے تھے (ملاحظہ ہو نام نہاد محمود اچکزئی) آج افغانوں سے کہہ رہا ہے کہ افغانستان کی شہریت حاصل کرو اور یہ پھر وہی شاخسانہ ہے جو سرحد میں سرحدی گاندھی عبدالغفار خان نے پختونستان کے نام سے اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ وہ ڈیونڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کی سرحد) کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ پورا سرحد افغانستان کا حصہ ہے اور یہاں پختونستان بنے گا اور یہ بلوچی گاندھی اس میں بلوچستان کا پختون بیلٹ بھی شامل کرے گا مگر اس نمک حرام کو ان مری سرداروں خیر بخش مری اور اس کے بھائی عبرت حاصل کرنی چاہئے جب وہ پاکستان سے غداری کرکے افغانستان فرار ہو گئے تھے اور وہاں افغانوں نے جو ان کی حالت کی تھی اس کے بعد وہ معافیاں مانگ کر پاکستان واپس آگئے تھے۔ اگر یہ غدار سمجھتے ہیں کہ اپنے ملک سے غداری کرکے یہ دوسروں کے لئے معتبر بن جائیں گے تو انہیں بغداد کے ان غداروں سے عبرت حاصل کرنی چاہئے جنہوں نے ہلاکوخان کے لئے بغداد کے دروازے کھولے تھے اور جب ہلاکو خان نے قتل عام کے بعد سروں کے مینار بنائے تو انہیں یہ اعزاز دیا کہ مینار کے سب سے اوپر ان غداروں کے سر رکھے گئے۔ آج یہ افراد چند ٹکڑوں کے عیوض دشمنوں سے مل رہے ہیں مگر کل ان کے نام میر جعفر اور میر صادق کے ساتھ لکھی جائیں گے۔
ادھر ایک مذہب فروش جس کی سیاست کی دکان بند ہو چکی ہے جس کی ڈیزل کے لائسنس ضبط ہو چکے ہیں ایک مرتبہ پھر ان کے ساتھ گٹھ جوڑ کررہا ہے۔ جس کی بیوی کے سامنے وہ ہاتھ باندھے کھڑا رہتا تھا اپنے نام نہاد عالم بھائی کو گزشتہ حکومت میں وزیر سیاحت بنوا کر اربوں روپیہ کمانے والا یہ مکار جو پاکستان میں سعودی عرب کا پالتو تھا اور یہاں فرقہ واریت کو پروان چڑھانے والا تھا۔ آج دھوبی کا کتا ہو کر گھر کا رہا نہ گھاٹ کا۔ ادھر نوازنے والی حکومت ختم ادھر ہڈیاں ڈالنے والا سعودی دور ختم سو اب چی می کنم۔ سو ایک بار پھر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر خائنوں، ڈاکوﺅں اور قاتلوں کے ساتھ تحریک چلانے کی تیاری کررہا ہے مگر اب یہ اس کا آخری دور ہے اس کے بعد اس کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں