23

جہنم کی تلاش

اسرار احمد ابن صفی کے نام سے دنیا بھر کے اردو داں کے محبوب جاسوسی ناول نگار تھے۔ یوں اردو زبان کا سب سے بڑا جاسوسی ناول نگار ابن صفی کو کہا جاتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے ناول اگر انگریزی زبان میں ہوتے تو وہ شاید دنیا بھر کے بڑے جاسوس ناول نگاروں میں شمار ہوتے۔ ان کے بتائے ہوئے کردار عمران فریدی، حمید قاسم، بلیک زیرہ، صفدر تنویر، روشی، جولیا، سلیمان، جوزف اب تک ذہنوں میں زندہ ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ابن صفی نے یہ کردار عام زندگی سے ہی ماخوذ کئے ہیں۔ ان کی سیکڑوں کتابوں کے پلاٹ بالکل مختلف نوعیت کے پراسرار سنسنی خیز اور دلچسپ دل میں اتر جاتے تھے۔ پڑھنے والے کا تجسس شروع سے آخر تک بتدریج بڑھتا چلا جاتا لوگ ان کے ناولوں کا بڑی شدت سے منتظر رہتے۔ مجھے یاد ہے کہ جب ابن صفی کی جاسوسی سیریز یا عمران سیریز کی نئی کتاب گھر میں آتی تو سب آپس میں کتاب کے حصول کے لئے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتے۔ ابن صفی کی سوچ اور فکر حال سے بھی آگے مستقبل کی تھی اب سے پچاس ساٹھ پہلے ان کے ناولوں میں جو چیز پیش کرتی تھی وہ اب حقیقت کا روپ دھارتی نظر آرہی ہے۔ یعنی ان کا ذہن علم نجوم کی طرح کام کرتا تھا یہی ایک بڑے مفکر، فلسفی کی پہچان ہوتی ہے۔ایک مفکر اپنے حال سے زیادہ مستقبل پر نگاہ رکھتا ہے۔ ابن صفی ایک مفکر ایک تخلیق داں ایک شاعر اور صوفی منش انسان تھے جو اپنے قلم کو برائی سے لڑنے کے لئے بڑی خوبصورتی سے استعمال کرتے جو عام قاری کے دل میں اترتا چلا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی صفی اپنے دور کے بھی اور اس دور کے آغے بھی ہر دل عزیز مصنف تھے۔ وہ اپنے قلم سے اس قدر خوبصورت تصویر کشی کرتے کہ حقیقت محسوس ہوتی۔ انہوں نے ایک فلم بھی بنائی جو دھماکہ تو نہ کرسکی مگر ایک نئی سمت دکھا گئی۔ آج کل ہندوستان اور پاکستان کے ٹیلی ویژن ڈرامہ بنانے والے ان کی کتابوں سے استفادہ حاصل کریں تو بڑی خوبصورت سیریل تخلیق کرسکتے ہیں۔
ابن صفی کے ناولوں کے نام بھی بہت اچھوتے ہوتے ان کے کچھ ناولوں کے نام لوگوں کو ازبر ہیں اس ہی طرح ان کے ناول بیباکوں کی تلاش، ڈاکٹر دعاگو اور جہم سے فرار بہت مقبول ناول میں شمار ہوتے ہیں۔ اب کے زمانے میں ان کے ناولوں نے حقیقت کا روپ اختیار کرنا شروع کردیا۔ یوں اب سے تقریباً 50 اور 60 سال پہلے جو کچھ ابن صفی نے اپنے ناولوں میں مستقبل کے بارے میں نقشہ کھینچا وہ آج کے دور کے سائنسدان اس کو حقیقی طور پر سامنے لارہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں سائنسدانوں نے نظام شمسی سے بھی آگے یعنی ستاروں سے آگے جہاں کی دریافت کی ہے انہوں نے دو سیارے دریافت کئے ہیں جو زمین سے چار سو نوری سال یعنی سوکھرب کلومیٹر کے فاصلے ہیں یہ ہماری زمین جیسے ہی ہیں ان میں سے ایک سیارہ کیپلر 78 اپنے سورج جیسے ستارے کی حرکت سے مشروط ہے یعنی یہ سورج مکھی کی طرح اپنا ایک رخ اپنے ستارے کی جانب رکھتا ہے دوسرا اس سے مخالف سمت میں اس طرح آدھے سیارے پر ہمیشہ رات رہتی ہے جو مخالف سمت والا ہے ستارے کی سمت والے پر ہمیشہ دن رہتا ہے۔ یوں آدھے میں ہمیشہ دن کا سماں ہوتا ہے، آدھے میں ہمیشہ تاریک رات۔ جو دن والا حصہ ہے، زمین کے اس خطے پر گرمی کی وجہ سے ہر چیز پگھلی ہوتی ہے یہ حصہ اتنا گرم ہے کہ اس کو سمجھانے کے لئے سائنسدانوں نے جہنم کی مثال دی ہے۔ سائنسدان اس سوال کا جواب تلاش کررہے ہیں کہ اگر یہ خطہ جہنم ہی ہے تو اس کا وجود کیسے ممکن ہوا کیونکہ وہاں کا درجہ حرارت ہر چیز کو بھسم کردینے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ سیارہ ہیت ترکیبی میں زمین جیسا ہے مگر گرم اتنا کہ جہنم کہیں جیسے۔ ہماری زمین پر تو میرے اللہ نے اپنے بندوں کے لئے اتنا درجہ حرارت رکھا ہے جتنا کہ وہ برداشت کر سکیں۔ ہماری زمین وہ واحد کرہ زمین ہے جس میں اللہ نے زندگی بخشی ہوئی ہے۔ باقی دوسرے سیاروں پر درجہ حرارت کی کمی یا زیادتی کے باعث زندگی کے آثار نہیں ظاہر ہوئے یوں سائنسدان اب تک کہکشاﺅں سے آگے جہنم کو تو کسی حد تک دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کرچکے ہ یں یا یوں کہیں کہ میرے اللہ نے ان سائنس علوم کے ماہرین جو جدید ایجادات کا دعویٰ رکھتے ہیں ان کو اپنے ایک رمز سے آشنا کرکے بتایا ہے ان ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ ابھی تو تمہارے سامنے دوزخ ہے جو تمہاری آنکھوں کے پردے کھولنے کے لئے ہی کافی ہے۔ زمین سے سائنسدانوں نے جہنم کا نظارہ کرلیا اور چاند سے بھی آسماں سے انہوں نے زمین کی صورت دیکھ لی۔
تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کیپلر 78 نامی جہنم والا سیارہ ہماری زمین کی مانند لوہے اور پتھر پر مشتمل ہے۔ یہ زمین سے 102 گنا بڑا اور 107 گنا بھاری ہے۔ مگر کیپلر 78 جلد ہی فنا ہو جائے گا کیونکہ باقی ستاروں کی کشش ثقل کی لہریں اسے اپنی جانب کھینچ رہی ہیں یوں آخر کار اس کو وہ چیر پھاڑ دیں گی۔ اس سیاری کے اس حصہ میں درجہ حرارت دو ہزار ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے فزکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جوش ون کہتے ہیں کہ دن والا سیارہ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ یہ ٹھوس نہیں بلکہ پگھلا ہوا ہے۔ کیپلر78 سیارہ کا تعلق ان سیاروں سے ہے جو جنہیں الٹرا شارٹ پیریڈ سیارے کہا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تمام سیارے زیادہ فاصلہ پر نہیں ہوتے یہ سیارے اپنے سورج کے گرد بارہ گھنٹے سے بھی کم وقت میں اپنا ایک چکر مکمل کرتے ہیں یعنی ان کا ایک دن ہمارے آدھے دن کے برابر ہوتا ہے۔ کیپلر 78 بھی جلد ہی اپنے سورج سے جا گرے گا اس کے مدار اور حجم کا تخمینہ لگانے کے لئے ایک خاص تیکنیک یا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ جس میں جب یہ اپنے سورج جیسے سیارے کے سامنے آتا ہے تو اس سورج کی روشنی سے اس سیارے کے بارے میں اندازے لگائے جاتے ہیں۔ اب تک دریافت کئے گئے سیاروں میں سے یہ سب سے گرم ترین سیارہ شما رکیا گیا ہے۔ جس کو جہنم کا نام دیا گیا ہے یہی سب ابن صفی کے ناولوں میں اب سے تقریباً نصف صدی پہلے پیش گوئی ہو چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں