Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 32

زوال کا سبب

بڑی بڑی باتیں اقوال سننے کو اور پڑھنے کو ملتے ہیں، کچھ لوگوں کے اپنے بنائے ہوئے اور کچھ ماضی کی گزری ہوئی نامور شخصیات سے منسوب ہوتے ہیں۔ مذہبی، سیاسی، شخصیات فلسفی، مفکر سوال یہ ہے کہ جنہوں نے کہا یا جنہوں نے پڑھا کیا اس پر عمل بھی کیا؟ اس طرح کی نیکی انسانیت کی باتیں اور اقوال سوشل میڈیا پر بھرے پڑے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر اس کو آگے بڑھانے کے لئے بہت جوش و جذبے کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ عقل حیران ہے اور لوگ سوالات کرتے ہیں کہ مسلمان جو کہ تہذیب و تمدن میں اور تعلیم میں تمام مذاہب کے لوگوں سے آگے تھے بلکہ دنیا کے ہر خطے سے لوگ مسلمانوں سے تعلیم حاصل کرتے تھے اور ان سے بے انتہا مرعوب تھے اور اسی قابلیت ہنر اور تعلیم کی بنیاد پر اور اپنی ہمت شجاعت اور بہادری کی وجہ سے فتوحات حاصل کرتے ہوئے آدھی دنیا پر قابض ہو گئے۔ پھر اچانک کیا ہوا کہ تہذیب و تمدن تعلیم ہمت شجاعت اور بہادری میں پیچھے ہوتے چلے گئے اور آج دنیا کی تمام دولت حاصل کرکے بھی غیر مسلموں کے رحم و کرم پر ہیں اور اب صرف یہی اقال بہادری اور شجاعت کی گزری ہوئی داستانیں مسلمانوں کی ایجادات اور فتوحات جن کو گزرے ایک زمانہ ہو گیا اب صرف یہی سرمایہ رہ گیا ہے۔ جس کو یاد کر کرکے گردن اکڑالی جائے۔ نئی نسل کا ایک بڑا حصہ تو مسلمانوں کی اس تاریخ سے تقریباً نابلد ہی ہے اور نہ ہی ان کے ذہن میں یہ ہے کہ آج دنیا نے جو ترقی کی ہے یہ مسلمانوں کی ہی مرہون منت ہے وہ تو اس تمام ترقی کا سہرا مغرب کے سر ہی باندھتے ہیں وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں کہ کبھی مسلمان مغرب سے زیادہ تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ رہے ہیں۔ یہ انسانی فطرت ہی ہے کہ جو چیز آسانی سے مل جائے تو اچھا ہے چونکہ کچھ حاصل کرنے کے لئے محنت ضروری ہے تو محنت بھی کی جاتی ہے لیکن جو لوگ آسانی سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے اخلاق، محبت، ایمانداری اور انصاف کی جگہ چوری، بے ایمانی، بدعنوانی، نا انصافی کو اپنا شعار بناتے ہیں اس سے لوگوں کو دھوکہ دے کر بے ایمانی کرکے پیسہ تو بنا لیا جاتا ہے لیکن آخرکار انسان خسارے میں ہی رہتا ہے۔ ایمان داری اور محنت سے تھوڑا وقت زیادہ لگتا ہے لیکن خوش و خرم اور مطمئن زندگی ہوتی ہے اور ترقی میں اسی طرح کے راستے میں ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہی ہے کہ مسلمانوں میں یہ تمام اچھائیاں موجود تھیں وہ آگے بڑھتے گئے۔ اور غیر مسلمانوں میں تمام برائیاں موجود تھیں لہذا وہ ہر لحاظ سے مسلمانوں سے کمزور تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کو بھیجا اور ان کے ساتھ آخری کتاب قرآن شریف کو بھی بھیجا، لوگوں کو زندگی بہتر طور پر گزارنے کے لئے احکامات دیئے۔ اللہ اور اس کے نبی کی ہدایت پر چلنے کا کہا گیا۔ قران شریف تمام عالم انسانیت، تمام مذاہب کو ماننے والوں کے لئے ہدایت پائی۔ تمام برائیوں سے کنارا کشی کی اور اچھائیوں کو اپنایا وہ سرخرو ہوئے۔ انہوں نے دنیا اور آخرت میں اپنے لئے نجات پالی۔ تعلیم، ترقی اور تہذیب میں سب سے آگے رہے اور غیر مسلم چونکہ قرآن پر ایمان نیں لائے تو انہوں نے اسے پڑھنے کی زحمت کی اور نہ ہی آخری نبی کو مانا لہذا وہ لوگ جہالت کے اندھیرے میں ڈوبے رہے وہ تمام برائیوں کی خرابیوں اور تمام چھائیوں کے فوائد سے ناواقف تھے۔ اور جہالت اور وحشی پن کے لئے مشہور تھے۔ پھر انہوں نے سوچا کہ آخر کیا بات ہے مسلمان ہر میدان میں ہم سے آگے ہیں۔ بہت سوچ بچار کے بعد ان کو علم ہو گیا کہ مسلمانوں کے پاس جو مقدس کتاب ہے یعنی قرآن شریف یہ سب اسی کا کامل ہے لہذا انہوں نے قرآن شریف کا مطالعہ کیا اسے مانا تو نہیں لیکن اس میں سے تمام اچھی باتیں نکالیں جو مسلمانوں کی کامیابیوں کی وجہ تھیں۔ ایمان داری، محبت، انصاف، اخلاق ان تمام چیزوں کو اپنایا۔ جھوٹ، بے ایمانی، دغا بازی، نا انصافی، حق تلفی ان تمام چیزوں کو سخت اقدامات کرکے اور کڑی سزائیں تجویز کرکے معاشرے پر زبردستی مسلط کیا۔ لوگوں کو ان برائیوں سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ صرف شراب و شباب اور جوا ان کے لئے رہنے دیا گیا لیکن اس کی حدیں اور قانون سے کنارہ کشی نہیں کی اور حدیں مقرر کیں اور قانون مرتب کئے کہ ان تمام اعمال سے کسی طرح شخص کو نقصان نہ پہنچے اور اس میں یہ بھی مصلحت تھی کہ لوگ اس میں مصروف رہیں اور حکومت کے کاموں میں دخل اندازی نہ کریں۔ بہرحال ترقی تو کی لیکن معاشرے میں بے شما ر برائیوں نے بھی جنم لیا لیکن اس کا نقصان اجتماعی نہیں ہوا۔ کیونکہ خود غرضی کا ایک نظام بھی بنایا گیا کہ ہر شخص اپنے عمل کا، اپنی روزی کا اور اپنے آپ کا خود ذمہ دار ہے لہذا ایک ہی خاندان میں ماں باپ اولاد صرف اپنے اپنے لئے کرتے ہیں اور زیادہ تر ایک دوسرے کی مدد بھی نہیں کرتے، کچھ لوگ ہیں جو اپنے رشتوں کا خیال رکھتے ہیں لیکن کم ہیں دوسری طرف ہمارے مسلمان ہیں جنہوں نے قرآن شریف کو صرف چومنے کی حد تک رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سرزمین کو زمین کے اندر خزانوں سے بھر دیا اتنی دولت عطا کردی کہ مسلمان ساری دنیا پر حکومت کرتے اور دنیا کے تمام مسلمان صرف اس خزانے کی بدولت کبھی بھوکے نہیں مرتے۔ یہ خزانے اس جگہ دیئے جہاں جہاں ہمارے نبی کے قدم پڑے لیکن بدقسمتی سے ان خزانوں پر چوروں کا قبضہ ہو گیا جنہوں نے ان خزانوں کو صرف اپنی عیاشی اور مغرب کی خودنوشی کے لئے استعمال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں