36

”گرگ باراں دیدہ“ (دوبارہ)

اے وہ لوگو جو آنکھ رکھتے ہو اور اگر وہ ضعف بھر کا شکار نہیں ہیں یا ان میں موتیا یا کالا پانی نہیں اتر آیا ہے یا یہ کہ ان میں سے نہیں ہو جن کے متعلق میرا رب کہتا ہے کہ یہ ”صمً بکمً“ ہیں یعنی آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں اور کان ہیں، سنتے نہیں، میا یا ہماری بڑی بوڑھیاں کہتی تھیں کہ ان کی ”ھیائے“ کی پھوٹ گئی ہیں یعنی یہ کہ ان کے چہرے پر دو سوراخوں میں ڈھیلے ہیں یہ آنکھیں نہیں بٹن ہیں، بٹن میں بھی دو سوراخ ہوتے ہیں، دیکھتے وہ بھی نہیں ہیں، ہم نے بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے کہ “Seeing is Blessing” پر یقین نہیں رکھتے بلکہ ان کا سارا ایمان “Hearing in Blessing” پر ہوتا ہے۔ یہ کور چشم حضرات ہمارے وطن عزیز میں بہت بڑی کثرت سے پائے جاتے ہیں یہ اپنی مبلغ عقل (اگر تھوڑی بہت ہے تو) کا استعمال کرنا کفر سمجھتے ہیں بلکہ آنکھوں دیکھی مکھی نگلنے پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ آنکھوں نے ”اندھے نام نین سکھ“ ہمیشہ ہر دلیل کے جواب میں ”ہز ماسٹرز وائس“ بنے ہوئے (آپ نے نہیں دیکھا ہو گا کہ گانوں کے ریکارڈ پر ایک گراموفون کے بھوپنو کے سامنے ایک کتا بیٹھا ہوا بڑے استعراق سے کچھ سن رہا ہے وہ اس مالک کی آواز ہوتی تھی)۔ ایک اور مثال 90 زیرو کسی وقت کے بابائے مہاجرین حال مفرور گم لندن کی ٹیلی فونک خطاب جب لوگ گردن جھکائے ہوئے ان کے فرمودات سنتے تھے اور روتے تھے) یہ لوگ ہر بات میں کہیں گے نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے یہ شیر نے فرمایا ہے یا نہیں جناب یہ تو ہو ہی نہیں سکتا یہ تو ”زر“ کے غلام نے کہا ہے۔ یا یہ کہ بس بس صاحب بہت ہو گیا۔ حضرت ڈیزل کے فرمودہ میں یہ بات ہیں یہ قوم نابینا جو کہ ان پانچ اندھوں کی طرح ہاتھی کو ٹٹول ٹٹول کر اس کا حدود اربعہ بیان کررہے تھے اور سمجھتے تھے کہ بس ان کا ہی کہنا واجب ہے سو آج آپ ملاحظہ فرمالیں کہ کل کے پارسا، پاک باز، دودھ میں نہاتے ہوئے پوتر، پاکیرہ سارے پایوں کا پالن کئے ہوئے حاجی نمازی، قاضی، سردار، ملک، مزاروں کے مجاور، مسجدوں کے چندے کھانے والے، زکوٰة کو شیر مادر سمجھ کر لینے والے، امانتوں میں خیانت کرنے والے خائن، ریش دراز کہ فرشتے بھی سجدہ کریں۔ زبان شیریں دلوںٰ میں زہر، جھوٹ ایسا بولیں کہ سچ بھی شرمائے غرض مدظلا اعلیٰ ہو ان کے اقوال زریں ایسے کہ منہ سے موتی جھڑیں اور ان کے نام نہاد کردار ایسے کہ دامن نچوڑیں تو ٰفرشتے وضو کریں۔ ان میں سے بعض جنہیں اللہ نے اشراف المخلوقات بنایا تھا خود کو حرام اور خونخوار خون آشام درندہ کہلانے پر فرق محسوس کرتے ہیں کہ آپ ”شیر“ کہلانے کے حق دار ہیں ایک حکایت یاد آگئی کہ ایک بادشاہ کا تکیہ کلام تھا کہ ”میں شیر کا بچہ ہوں“ لوگوں کے یہ جملے سن سن کر کان پک گئے تھے بالاخر ایک دن درباری مسخری (یہاں نہال ہاشمی، رانا ثناءاللہ وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے)۔ سے نہیں رہا گیا اور ان سے اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر بھرے دربار میں ایک گردن زدنی سوال پوچھ لیا کہ حضور بجا فرمایا آپ نے کہ آپ شیر کے صاحبزادے ہیں مگر حضور اس راز پر سے پردہ اٹھا دیجئے کہ شیر محل میں والدہ کے پاس تشریف لاتا تھا یا ملکہ صاحبہ جنگل جانے کی زحمت اٹھاتی تھیں۔ اس کا انجام بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ مسخرے کی اولاد تک ایسے سوال پوچھنے سے کانوں کو ہاتھ لگاتی ہے تو اس گروہ غول بیابانی (آدمیوں کو نگل جانے والا گروہ) میں بڑے بڑے بیٹھے بزرگ ہیں۔ ایک لومڑی نما چالاک، کینہ پرور، سنگل دل، ابن الوقت بھی موجود ہے جس کی فطرت میں مکاری اور منافقت کوٹ کوٹ کر بھری گئی ہے یہ شاطر ذہین لومڑ اپنی شیطانی سرشت میں شیطان کو بھی شرماتا ہے اور شیطان اس سے کہتا ہے شاباش میرے لعل یہ گرگٹ کی طرح اپنے رنگ بدلنے کا ماہر ہے اور بھیس بدلنے میں یہ طولیٰ رکھتا ہے۔ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی چاپلوسی اور منافقت بھری گفتگو سے کسی کو بھی رام کر سکتا ہے اس کی ساری زندگی زمانہ سازی اور دولت کے انبار بنانے میں گزری ہے انہیں چوپاﺅں میں ایک بھلا بھگت بھی ہے جو اپنے ظاہری رنگ و ڈھنگ سے بڑا پارسا بنا ہوا ہے کہ مگر بقول
خلاف وضع تیرا شیخ تھوکتا بھی نہیں
مگر اندھیرے اُجالے میں چوکتا بھی نہیں
یہ بھیس بدل کر ایسے کردار کو پیش کرتا ہے کہ جیسے اس سے بڑھ کر عابد و زاہد کوئی نہیں مگر یہ کینہ ساز اور زمانہ ساز اپنی ظاہری شکل صورت کے بل بوتے پر اور جہلا کے گروہ کو ساتھ لے کر ہر نظام میں اپنی دوزخ کو بھرتا رہا ہے اور جب بھی موقعہ ملتا ہے یہ دوسروں پر کفر کے فتویٰ لگا کر مذہب کے کارڈ کو استعمال کرتا ہے اور اس کے ذریعے اپنے مفادات حاصل کرتا رہتا ہے۔
دراصل یہ سب کے سب وقت کے ہاتھوں آسمان سے زمین پر آگئے ہیں بلکہ یہ تخت اثرائی میں اتارے جانے والے ہیں اور یہی ہے کہ یہ مجموعہ اضداد ایک بار پھر اپنی منڈی سجانے کی تیاری کررہا ہے یہ جنہیں ”گرگ باراں دیدہ“ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا اب جمع ہو کر اپنی دمیں بچانے کے لئے تگ و دو کررہے ہیں۔ گرگ: بھیڑئیے، باراں دیدہ: جنہوں نے بارش دیکھی ہے۔ جنگل میں جہاں مہینوں بارش ہوتی رہتی ہیں۔ بھیڑئیے غاروں میں ایک دائرہ بنا کر بیٹھ جاتے ہیں اور جب بھوک اور ناتوانی سے کوئی بھیڑیا اونگنے لگتا ہے تو سب مل کر اس پر جھپٹتے ہیں اور اسے کھ اجاتے ہیں اس طرح آخر میں صرف دو تین بھیڑئیے بچ جاتے ہیں۔ جن کے لئے کہا جاتا ہے کہ ”وہ بھیڑئیے جنہوں نے بارش دیکھی“۔ اب اللہ جانے کتنے بھیڑئیے موجود زمانے کی سزاﺅں کی بارش سے بچتے ہیں اور بچیں گے بھی تو ”زو“ میں نمائش کے لئے رکھ دیئے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں