Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 28

گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے۔۔۔

”گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے“ یہ کہاوت ہی بدقسمتی سے عمران خان کے حکومت کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اس کا ادراک گرچے پورے پاکستان کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہو رہا ہے اور کوئی اس سے غافل یا لاعلم ہے تو وہ وہی ہے جو اس مرض کے لئے دوا ثابت ہو سکتا ہے جی ہاں میرا اشارہ عمران خان کی جانب ہے، دوسروں کی طرح سے مجھے بھی ان کی نیت پر ذرا بھی شک نہیں لیکن کیا کیا جائے ان کی ناک کے نیچے جو کچھ ہو رہا ہے یا کیا جارہا ہے وہ خود عمران خان کے فلسفے اور ان کے نظریات کے صریحاً خلاف ہے جس پر عمران خان سے محبت کرنے والے کس طرح سے خاموش رہ سکتے ہیں؟ جن میں، میں خود بھی شامل ہوں۔ عمران خان سے محبت کرنے کا مطلب پاکستان سے محبت کرنا ہے اس لئے کہ عمران خان کی سوچ پاکستان سے محبت اس کی ترقی و فلاح اور سلامتی سے شروع ہو کر اسی پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ میں نے قائد اعظم کے بعد کسی دوسرے سربراہ مملکت کو اس طرح سے پاکستان کے لئے تڑپتے اور مچلتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ورنہ اس سے قبل آنے والے حکمرانوں کی حالت تو قبول شاعر
طوائف گری ہوئی ہے تماش بینوں میں
والی ہوا کرتی تھی۔ عمران خان کی ذات تک میں مطمئن ہوں لیکن جس طرح سے بانی پاکستان قائد اعظم نے اپنے پہلی تقریر میں شیروانی کی جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا تھا کہ ان کی جیبوں میں کچھ کھوٹے سکے آگئے ہیں یعنی تقسیم ہند کے وقت حکومت سازی میں ہجرت کرتے ہوئے ان کے ساتھ اس طرح کے سیاستدان آگئے تھے جو مملکت خداداد پاکستان سے مخلص نہیں تھے اسی طرح سے عمران خان کے اس نئی حکومت میں اس طرح کے سیاستدان بھی ان کے کندھے پر سوار ہو کر حکومت میں شامل ہو گئے ہیں جو نہ تو عمران خان کے فلسفے سے متفق ہیں اور نہ ہی پاکستان کی ترقی سے ان کا کچھ لینا دینا۔ اس لئے کالم کی شروعات میں نے اس مشہور کہاوت ”گھر کو آگ لگی گھر کے چراغ سے“ کی ہے۔ عمران خان کی حکومت بننے کے بعد جتنی بار بھی اس نوزائیدہ حکومت کو کہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تو اس میں خود عمران خان کی غلطی یا ان کا کوئی عمل دخل نہیں تھار ہر بار دوسرے سیاستدانوں کی روایتی طرز عمل سے حکومت کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے نتیجے میں پاکستانی میڈیا اور اپوزیشن کو عمران خان اور ان کے تصوراتی نئے پاکستان پر دل کھول کر تنقید کرنے کا موقع ملا۔ میرے خیال میں تو جو سیاستدان عمران خان کی حکومت میں شامل ہوئے ہیں وہ میر جعفر اور میر صادق والا کردار ادا کررہے ہیں وہ اپنی اوچھی حرکتوں سے میڈیا اور اپوزیشن کو بار بار حکومت پر ہنسنے اور انہیں ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لئے روڑے اٹکانے کا جواز پیش کررہے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ یہ سیاستدان اپوزیشن کے ایجنڈے پر ہی عمران خان کو ٹف ٹائم دے رہے ہیں وہ اسی نیّا کو ڈبونے کا باعث بن رہے ہیں جس میں وہ خود سوار ہیں ان تمام صورتحال کا علم تحریک انصاف کے عام ورکروں اور دوسرے پاکستانیوں کو ہے لیکن عمران خان نے نہ جانے کون سا چشمہ پہن رکھا ہے جنہیں یہ سب کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ جو خود ان کی رات دن کی محنت پر پانی پھیرنے کا باعث بن رہا ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس طرح کے وزراءاور بیوروکریٹس کو اپنی صفوں سے فوری طور پر باہر کردیں جو ان کی حکومت کے لئے تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ ان کو مزید برداشت کرنا یا ان کی حرکتوں پر خاموشی اختیار کرکے نا کا دفاع کرنا خود اپنے ہاتھوں اپنی قبر کھودنے کے مترادف ہے یہ سیاستدان حکومت میں شامل ہو کر خود حکومت کے لئے پریشانی پیدا کررہے ہیں اس لئے جب تک انہیں حکومت سے فارغ نہیں کیا گیا اس وقت اس طرح کے تماشے لگتے رہیں گے یہ سیاستدان حکومت کے ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرکے ان کی رفتار کو روکنا چاہتے ہیں اور اپنے اس مقصد کے لئے وہ اپنے ہم خیال بیوروکریٹس کو استعمال کرتے ہوئے تمام حکومتی امور پر عمل درآمد کو ردی کی ٹوکری کی نذر کررہے ہیں اور کسی بھی حکومت کی اس سے بڑی فاش ناکامی اور کچھ نہیں ہو سکتی وہ کشتی چاہے کسی بھی رفتار سے چلائی جائے وہ اس وقت تک ساحل تک نہیں پہنچ سکتی جب تک اس کشتی میں کئے جانے والے چھید یعنی سوراخ کو بند نہ کیا جائے اور بدقسمتی سے حکومتی کشتی میں یہ چھید روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ ان ہی صورتحال کو دیکھ کر پاکستان کی اپوزیشن پارٹیز نے کہا تھا کہ ہمیں عمران خان کی حکومت کے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ان کی حکومت میں خود اس طرح کے لوگ شامل ہیں جو عمران خان کی حکومت کو گرانے کے لئے کافی ہیں، ہمیں اپنی گولیاں ضائع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ شکار خود ہی قدموں میں گرنے جارہا ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ قدرت نے جو نادر موقع انہیں ایک نئے پاکستان بنانے کے لئے دیا ہے وہ خود اپنے قافلے میں شامل نادان دوستوں کے ذریعے ضائع نہ کریں بلکہ خود احتسابی کے عمل کی شروعات اپنے ہی قافلے سے شروع کریں اور بیوروکریٹس کی بلیک میلنگ میں نہ آئیں بلکہ ان کے خلاف آہنی ڈنڈا اٹھائیں۔ اپنی 22 سالہ جدوجہد پر مٹھی بھر سیاستدانوں کے ہاتھوں مٹی نہ ڈالیں اور خد کو محلاتی سازشوں کی چالوں سے دور کرتے ہوئے خود کو ٹریپ ہونے سے بچائیں وہ یہ جان لیں کہ بیوروکریٹس ان کے پرسنل سیکریٹری کے ذریعے انہیں ٹرپ کررہے ہیں اگر انہوں نے خود کو نہ بچایا تو ان کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی۔ عمران خان کو چاہئے ہوش کے ناخن لیں اور ملک کو تباہ ہونے سے بچائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں