44

گرتی ہوئی دیوار!!!

پینے کے پانی کا 97% حصہ صحتِ عامہ کے سٹینڈرڈ سے بھی بہت نیچے ہے اور پے در پہ اسرائیلی بمباری سے فضا تو سانس لینے کے قابل رہی نہیں لیکن پانی اور سیوریج سسٹم پر اندھا دھند بمباری سے پانی پینے کے قابل تک نہیں۔ مگر خانہ جنگی کے مارے ہوئے لوگوں کے پاس ایسے کوئی وسائل نہیں کہ وہ اس صورت حال سے نبرد آزما ہوسکیں اور نہ ہی وہاں سے ہجرت کرجانے کے چانسز زیادہ ہیں۔ نتیجتاً بیماریوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔طبی امداد اور ہسپتالوں میں میڈیکل سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے بیماریوں پہ قابو پانا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے
یہ ایک المیہ ہے کہ مسلم دنیا ایک طرف ایٹمی دوڑ میں سب سے آگے رواں دواں ہے اور دوسری طرف جنگ سے برباد خطوں میں نسلیں برباد ہورہی ہیں انسانیت تڑپ رہی ہے۔ خانہ بدوشی کے مارے ہوئے جنگ زدہ خاندان نہ تو اپنے دیس میں سکون سے رہ پاتے ہیں نہ ہی ریلیف کیمپس میں ان کو کسی قسم کا ریلیف مہیا ہوپاتاہے۔ اندرجنگی حالات سے تمام وسائل تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اور باہر سے آنے والی امداد ملک کی کرپٹ انتظامیہ مل بانٹ کے کھا لیتی ہے۔
دوسرے ملکوں اور سماجی تنظیموں سے آنے والی امداد کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں۔ ابھی حال ہی میں کینیڈا سے ایک وفد بنگلہ دیش کے رستے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کیلئے جارہا تھا جن میں بہت سے رضاکار ڈاکٹرز ، جرنلسٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے لوگ شامل تھے یہ لوگ یہاں سے ائیرپورٹ تک کیلئے روانہ ہوگئے لیکن ائیرپورٹ پر 12 گھنٹے انھیں بٹھا کر رکھا اور پھر بعد میں انھیں مطلع کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش نہیں جا سکتے محض اس لئے کہ وہ سب پاکستانی تھے اور انسانیت کی خاطر روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتے تھے مگر محض سیاسی اور لسانی تضادات کی وجہ سے انھیں روک دیا گیا۔ یہ تو سامنے کی مثال ہے ایسی نہ جانے کتنی مثالیں ہیں جن کا ہمیں پتہ تک نہیں۔
جنگ اور اس سے پیدا شدہ آفات سے متاثرہ لوگوں کو ملنے والی امداد کو راستوں میں ہی لوٹ مار کرلیا جاتا ہے
یمن میں بچے بھوک سے مررہے ہیں کوئی پرسان حال نہیں۔ ان بچوں کی جسامت دیکھ کر مجھے تو اپنے انسان ہونے پہ ہی شرم آنے لگتی ہے ان کے گوشت میں سے ہڈیاں لٹک رہی ہیں اقوم متحدہ کے مطابق اگلے چند مہینوں میں یمن میں سو سالوں کا بدترین قحط رونما ہوسکتا ہے اگر سعودی عرب نے یمن پر بمباری نہیں روکی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ فلسطین کی طرح اسرائیل کے یہودیوں سے نہیں بلکہ عرب کے سب سے پکے مسلمانوں سے یمن کو بچانے کیلئے انسانی ہمدردی کی تنظیمیں ناکام ہوگئیں
بچوں کی تکلیف دیکھنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے لیکن افسوس ہمارے عہد کا یہ فسوں کہ ہم کہیں پاکستان میں آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی کے سانحے دیکھ کے بھول جاتے ہیں۔ کشمیر ، فلسطین، یمن روہنگیا میں کتنی دہاﺅں سے مسلسل انسانیت کشی کی مشقیں جاری ہیں اور معصوم بچے سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہیں آخر ایسے بچے کا طرح اپنا آپ، اپنا تشخص، پہچان بچا پائیں گے۔
غزہ میں پینے کی پانی کے مسائل کے باعث پیٹ کھ بیمارئیوں میں شدید اضافہ ہورہا ہے۔ گھروں، گلیوں اورمیدانوں میں لاشیں اور تعفن گل رہا ہے اور ہسپتالوں میں معصوم کلیاں تڑپ رہی ہیں اور ہم کچھ بھی نہیں کر پاتے۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں