Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 24

عدلیہ

کسی بھی ملک میں عدلیہ کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کردار پر پورے ملک کی عمارت کھڑی ہوتی ہے، ملک کی قسمت کا فیصلہ اسی ادارے کے ہاتھ میں ہوتا ہے، پورے ملک کا نظام اسی عدلیہ کے رویے سے بنتا ہے۔ ملک کی ترقی کا دارومدار اسی ایک نام پر ہے، عدلیہ جو ملکوں کو اور وہاں کے عوام کو سنوار بھی سکتی ہے اور عوام کو بگاڑ کر ملک کی تباہی کا باعث بھی بنتی ہے، ملک کی ترقی اور خوشحالی میں عدلیہ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر عدلیہ شفاف نہ ہو، کمزور ہو جائے تو پوری عمارت زمین بوس ہو جاتی ہے۔ عدل و انصاف ملک اور عوام کے لئے رحمت ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں کی عدالتیں صرف زحمت ہی بنی رہی ہ یں۔ ایک مرتبہ ریڈیو پروگرام کے دوران میں نے ریٹائرڈ جسٹس وجیہ الدین صاحب سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ جیل میں کچھ ایسے بچے جنہوں نے بسکٹ کا پیکٹ یا چاکلیٹ یا روٹی چرائی تھی وہ عرصے سے جیل میں ہیں اور ان کا فیصلہ ہی نہیں ہوتا جب کہ بڑے بڑے مجرم اگر گرفتار بھی ہو جائیں تو دوسرے دن ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں اور دو تین عدالتی کارروائی کے بعد رہا بھی ہو جاتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نظام بہت پرانا خراب ہے، حالات صحیح ہوتے ہوتے وقت لگتا ہے، یہ غالباً سات آٹھ سال پرانی بات ہے۔ اور میں نے کہا تھا جناب 61 سال ہو گئے ابھی کیا اور وقت چاہئے؟ بہرحال عدالتوں کا یہی حال رہا کہ ایک چھوٹا موٹا چور پکڑا گیا تو دو دن کے اندر عدالتی کارروائی اور فوراً ہی جیل جب کہ بڑے بڑے مجرم آج بھی آزاد ہیں، ایک عدلیہ کی حیثیت خراب ہونے سے زندگی کے ہر شعبے پر اثر پڑتا ہے جب کہ زندگی کے ہر شعبے میں عدل کی ضرورت ہوتی ہے۔ زمین کے ایک انچ کا حصہ بھی عدل و انصاف کی گواہی دے سکتے۔ زراعت ہو، طب، ٹیکنالوجی یا ایک کسی بھی قسم کا معاشرہ، اناج اگاتے وقت زمین کے ساتھ انصاف کیا جائے اس کی قوت کے مطابق اس پر ہل چلایا جائے، اسے مناسب کھاد، پانی اور درختوں کی خوراک مہیا کی جائے۔ پھر ضرورت کے مطابق اس اناج کی ضرورت کے لئے پوری افرادی قوت کو مناسب اجرت دی جائے۔ جو ان کی ضروریات کے لئے پوری ہوں اور اس اناج کی ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے اور اس کی اتنی مناسب قیمت ہو جو ایک آدمی کی خرید سے باہر نہ ہو۔ ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہو اور ہر سانس کے ساتھ انصاف کے بارے میں سوچا جائے۔ سب سے پہلے اپنے گھر میں، پھر محلے میں، شہر میں اور پھر ملک میں انصاف کے لئے کوشش اور جدوجہد کی جائے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری عدالتیں انصاف سے کام لیں۔ یہاں حکومت اور عوام ایک دوسرے کی ضد میں رہتے ہیں کیوں کہ حکومتوں کا کردار ہمیشہ ہی داغدار رہا ہے، عوام کا خیال ہے کہ حکومت منصف ہونا چاہئے جب کہ حکومت کہتی ہے کہ عوام کو قانون کا احترام کرنا چاہئے۔ ایک عمارت کا ستون اگر بدنما ہے اور اسے قلعی کرنے کی ضرورت ہے تو قلعی چاہے اوپر سے شروع کی جائے یا نیچے سے مکمل ہو جانے کے بعد ہی عمارت خوبصورت ہو گی۔ ایک پرامن معاشرے میں انصاف کی فراہمی کے لئے تعلیم بھی ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، لوگوں کو اپنے حقوق اور انصاف میں دراڑوں کے بارے میں علم ہو جاتا ہے لیکن ہمارے یہاں دس کی جگہ سو یونیورسٹیاں بھی بنا دی جائیں، بہت سارے اسکول کالج ہوں، تعلیم کو فروغ اس وقت تک حاصل نہیں ہو گا جب تک رشوت اور تعلقات سے ان اداروں میں داخلے بند نہیں ہوں گے۔ پیسے دے کر پاس کرنے کا سلسلہ ختم نہ کیا جائے گا۔ یہ بی عدل و نصاف کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ غور کریں ہر سیاست دان صرف یہ کہتا ہے کہ عوام کو خوشحال کردیں گے، روٹی، کپڑا اور مکان ملے گا، نوکریاں ملیں گی، آپ کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے آپ صرف ووٹ دو اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہو۔ ان کو سب سے پہلے اپنی ذمہ داریوں کا احساس تو دلاﺅ کہ قوم سب سے پہلے اپنی سوچ تبدیل کرے۔ یہ ثابت کرے کہ وہ ایک پاکستانی ہیں اور پاکستان کا بھلا چاتہے ہیں، کوئی سیاست دان یہ نہیں کہتا کہ ہم صرف ایک کام کریں گے، عدلیہ کو شفاف کریں گے اور عوام کو انصاف دلائیں گے جب عوام کو انصاف ملے گا تو تعلیم، روٹی، کپڑا، مکان اور نوکریاں سب کچھ مل جائے گا، صرف عدلیہ مضبوط ہونا چاہئے۔ اسی میں تمام مسائل کا حل پوشیدہ ہے۔ عدلیہ میں خود دراڑیں ہیں جو رخنے لگاتے ہیں۔ عدلیہ اور میڈیا سمییت کوئی ادارہ غیر جانبدار نظر نہیں آتا سب کی ہمدردیاں کسی نہ کسی سیاسی پارٹی یا لیڈر کے ساتھ ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کا لیڈر ایک اور دعویٰ بھی کرتا ہے اور یہ دعویٰ لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے بڑھتا ہی جارہا ہے کہ عام آدمی کو اوپر لائیں گے، ایم پی اے اور ایم این اے عام لوگوں میں سے بنائیں گے۔ ارے بھائی اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ ایم این اے یا ایم پی اے بن کر وہ عام آدمی عام آدمی ہی رہے گا، اوپر آنے کے بعد تو وہ بھی خاص لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے اور پیسہ بنانا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں بے ایمانی چھپی ہو اور اسے کبھی موقع نہ ملا ہو۔ اور عام آدمیوں میں تو وہ تمام لوگ شامل ہیں جو انکم ٹیکس، امیگریشن، ایکسائز، بجلے کے محکمے، ٹیلی فون کے محکمے، شناختی کارڈ، پاسپورٹ آفس اور ان جیسے بے شمار محکموں میں کام کرتے ہیں اور ان کے کارنامے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ عام آدمی کو نیچے سے اوپر لائیں اسے صدر بنا دیں یا وزیر اعظم، جب تک قوم کی سوچ تبدیل نہیں ہوگی اور جب تک عدلیہ کے دونوں پلڑے برابر نہیں ہوتے۔ کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ چرچل نے کیا خوب کہا تھا کہ جب تک ہماری عدالتیں انصاف مہیا کررہی ہیں برطانیہ کی سالمیت کو کوئی خطرہ نہیں ہوسکتا اور یہ حقیقت ہے کہ جن ممالک میں قانون کی بالادستی ہے وہ ملک خوشحال ہیں۔ ہمارا ملک بے چپو کی ناﺅ کی مانند ہے جس کے بارے میں کسی کو نہیں معلوم کہ اس کی منزل کیا ہے سب اس پر سوار ہیں۔ اس کشتی میں سوراخ ہوتے جارہے ہیں لیکن اس پر سوار ہر شخص کی صرف یہ کوشش ہے کہ دوسرے کو دھکا دے کر پانی میں گرادیا جائے۔ اس کشتی کی مرمت کرنے کو کوئی بھی تیار نہیں ہے۔ سوچ یہ بھی نہیں ہے کہ اگر یہ کشتی ڈوبی تو کوئی بھی نہیں بچے گا۔ بے حسی، جہالت اور لالچ کا یہ حال ہے کہ قوم مظاہرے کرنے کا موقع ڈھونڈتی ہے۔ اصل مسئلہ صرف گندی سیاست اس کے لئے مذہب کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ دینی مسئلہ ہو، قومی مسئلہ ہو یا کسی شخصیت کے بارے میں صرف احتجاج کے لئے وہی لوگ آتے ہیں جو کسی دوسری پارٹی یا حکمران پارٹی کے خلاف ہوں اور احتجاج کے دوران اپنے ہی ہم وطنوں کی گاڑیوں کو موٹر سائیکلوں اور دکانوں کو آگ لگاتے ہیں یہ کس قسم کا احتجاج ہے۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کو اگر آپ غلط کہتے ہیں تو ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو اپنے پیٹ کی خاطر اپنے خاندان کے لئے یا پھر اسپتال جارہے ہیں۔ املاک کو نقصان پہنچانے، گورنمنٹ کی بسوں اور آفسوں میں آگ لگانے کا مطلب ہے کہ آپ غریب لوگوں سے دُشمنی کررہے ہیں کیوں کہ ان نقصانات کا براہ راست اثر غریب پر پڑتا ہے۔ اپنی معیشت کو صرف حکومت کی مخالفت میں جتنا بھی دھچکا لگائیں گے۔ غربت میں اضافہ ہو گا۔ آپ کے آگ لگانے، توڑ پھوڑ سے یقین کریں امیر لوگوں کو کوئی بھی نقصان نہیں ہوتا ہے لیکن اندھوں کو لالٹین دکھانے کا کیا فائدہ۔ اور یہ توڑ پھوڑ یہ آگ لگانے کے واقعات صرف اس لئے ہوتے ہیں کہ عدلیہ اور قانون کی بالادستی نہیں ہے ان واقعات کی روک تھام کے لئے قانون عدالت سب بے بس ہیں۔ اگر قانون کی حکمرانی ہوتی اگر عدالتیں مضبوط ہوتیں تو یقین کریں ہمارے ملک میں غیر ملکی آکر دہشت گردی کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ کتنی آسانی سے وزیر ہو یا جج یا کوئی اعلیٰ عہدے دار، کتنی آسانی سے کہہ دیتا ہے کہ یہ غیر ملکی ہیں جو دہشت گردی کررہے ہیں۔ نہ تو یہ کہتے ہوئے ان کو شرم آتی ہے اور نہ ہی کوئی سوال کرتا ہے کہ غیر ملکی کیسے آگئے، آپ کیا کررہے ہیں۔ اگر سرحدوں سے لوگ بے دھڑک اندر آنے لگیں تو قانون بے بس ہو چکا ہے اگر کسی ملک میں قانون بے بس یا بلیک میل ہو، عدالت میں سیاست آچکی ہو، فیصلے مرتبے، حیثیت یا اختیارات کو مدنظر رکھ کر ہو رہے ہوں تو یہ اس ملک کی بدترین صورت حال ہے اگر عدلیہ میں ایک بھی منصف ہے یا تو اسے اپنے آپ کو بدلنا پڑتا ہے یا پھر گولی کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کا ایک بدترین پہلو اور ہے وہ یہ کہ تاریخ شاہد ہے جن حکمرانوں نے سادگی کو اپنایا ایک عام آدمی کی طرح رہن سہن رکھا اپنے آپ کو ایک مثال بنایا ان کی قوموں نے ترقی کی اور ان کے نام زندہ جاوید ہوگئے اور دوسری طرف فلپائن اور نکاراگوا کے صدر شاہ ایران، صدام حسین، قذافی وغیرہ کے جو حشر ہوئے وہ بھی سامنے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں