Muhammad Nadeem Columnist and Chief Editor at Times Chicago and Toronto 29

انصاف کے تقاضے پورے نہ کئے تو!

پاکستان کی موجودہ صورت حال میں ملک بھر کا میڈیا یا تو سپریم کورٹ پر نظریں گاڑھے بیٹھا ہے یا پھر حکومت اور فوج کے اقدامات کو کور کیا جارہا ہے۔ اپوزیشن کی خبریں تو صرف اور صرف کرپشن کے کیسز یا میٹنگز پر مبنی ہیں مگر حالات بتا رہے ہیں کہ بہت جلد نواز شریف، مریم نواز، آصف زرداری اور دونوں پارٹیز کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی جیلوں میں ہوں گے۔ ملک کی اسٹیبلشمنٹ نہایت متحرک دکھائی دیتی ہے مگر اندرون ملک اور گلوبل سطح پر پاک فوج کے لئے نفرتوں کا اضافہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکی سرکار کی تو کئی برس سے بھرپور کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستانی فوج کو نیچا دکھایا جائے اور پاکستانی عوام کے دلوں میں فوج کے لئے نفرت پیدا کی جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی دو بڑی پارٹیاں مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کھل کر فوج کے خلاف بول رہی ہیں۔ ان کے علاوہ موجودہ آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ آنے کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکہ چھپا نہیں کہ کس طرح عدلیہ اور فوج کو کھل عام گالیاں دی گئیں۔ مگر نہ حکومت نے جوابی کارروائی کی اور نہ ہی فوج کی جانب سے کوئی گرانڈ آپریشن دیکھنے میں آیا۔ جس کے نتیجہ میں لوگ بول اٹھے کہ یہ کہاں کی نا انصافی ہے کہ کراچی میں فوج کو ہلکا سا بھی کچھ کہہ دیا جائے تو گھروں میں گھس کر عورتوں کی بے حرمتی کرکے نوجوانوں کو بے دردی سے اور بالوں سے پکڑ کر گھیسٹتے ہوئے لے جاتی فوج کس طرح اپنے کمانڈر کے بارے میں لغویات بکنے والوں کو کچھ نہیں کہتی بلکہ ان سے معاہدہ کرنے کو ترجیح دیتی ہے۔
فیصل رضا عابدی جسے حق اور سچ کہنے والوں کو ہتھکڑیاں لگا دی جاتی ہیں اور سپریم کورٹ خادم حسین رضوی کے منہ سے جھڑنے والے پھولوں کو اپنے سر کی زینت بنا لیتا ہے اور صرف نظر کرتا ہے۔ پاکستان میں ہمیشہ یہی دوغلی پالیسی کے سبب متحدہ قومی موومنٹ اور جئے سندھ جیسی تنظیموں نے جنم لیا۔ قوم لسانی بنیادوں پر تقسیم کی گئی۔ پاکستان میں کوئی پاکستانی نہ رہا۔ سب فرقوں اور زبانوں میں بٹ گئے۔ اب کہا جارہا ہے کہ حب الوطن صرف اور صرف فوج ہے۔ باقی سب غدار ہیں۔ پھر حق اور سچ کہنے والی زبان کو خاموش کیا جارہا ہے اور یوں نا انصافیوں کی بنیاد رکھ کر ایک بار پھر ملک میں نفرتوں کو فروغ دیا جارہا ہے۔ پاکستان کے عوام آج بھی فوج کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مگر کب تک؟ کیا بلوچستان کے نوجوانوں کے قتل عام، کراچی کے رہنے والوں پر زندگی تنگ کرکے پنجاب میں ملاﺅں اور مذہبی جنونیوں کو کھلی چھوٹ دے کر فوج اپنی عزت برقرار رکھ پائے گی؟ خدانخواستہ اگر ملک میں سول وار چھڑ گئی تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا۔ شاید ہم سمجھتے نہیں یا سمجھنا نہیں چاہتے۔ ہمارے محترم چیف جسٹس صاحب کو صرف یہ بیان دینے کی بجائے کہ پاکستان میں سب پاکستانی ہیں عملی طور پر یہ دکھانا ہو گا کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر رہنے والے تمام لوگ پاکستانی ہیں اور اُن کے حقوق کی برابری کو بھی لازم و ملزوم قرار دینا ہوگا۔ وگرنہ جس ڈگر پر پاکستان کو لے جایا جارہا ہے اور جس نئے پاکستان کی بات عمران خان نیازی کا روبوٹ سامنے رکھ کر کی جارہی ہے وہ پاکستان کا دھڑن تختہ کرنے میں اب زیادہ دیر نہیں لگائے گا۔ سیاسی پارٹیوں کے درمیان بڑھتی فرسٹریشن، باہمی جنگ میں تیزی، قومی اسمبلی میں ہاتھا پائی، الزام تراشی میں شدت کسی بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ دکھائی دیتی ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ اس اٹھنے والی گرد میں عمران خان کی حکومت تو نہ جانے کہاں کھو جائے گی اور رہا سوال پاکستان کا تو ہمیں پاکستان سے تو صرف اپنی ہوس پوری کرنا ہے۔ صرف نعرہ پاکستان زندہ باد، کا لگانا ہے وگرنہ اس سونے کی چڑیا سے تو اپنے خزانے بھرنے ہیں۔ حالات دن بدن نازک ہوتے جارہے ہیں اور اگر انصاف کے تقاضے پورے نہ کئے گئے، فوج اور سپریم کورٹ نے اپنے من مانے فیصلہ جاری رکھے تو پھر پاکستان کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ ہمیں اس غلط فہمی سے باہر نکل کر کھلی آنکھ سے اور سچائی سے حالات کا جائزہ لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔ وگرنہ ہم اندھیروں سے دور نہیں، نہ نیا پاکستان بن پائے گا اور نہ ہی پرانے کا وجود رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں