23

سازشوں کے سیاہ بادل (2)

سازشوں کے سیاہ بادل جو اس علاقہ کے اوپر چھا رہے ہیں ان کی زد میں ریجن کے دوسرے علاقے تو آئیں گے ہی مگر اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر پڑنے والے ہیں۔ جہاں بعض وطن فروش ان شیطانی قوتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں جو اس ملک کو مٹانے کے درپے ہیں اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر ایک اہم خطہ ہے جہاں آزادی کی تحریک زور پکڑ چکی ہے جو ہندوستان کی سیاسی اور فوجی جنتا کے لئے ایک تشویش ناک صورت بن چکی ہے اور اس پر توجہ ہٹانے کے لئے ہندوستان پاکستان پر فوجی حملہ کرستا ہے اور ساری طاغوتی قوتیں درپردہ اس کی حمایت کررہی ہیں جو کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو پاکستان سے جوڑتا رہتا ہے اس کے علاوہ پاکستان پر مزید دباﺅ بڑھانے کے لئے اور مسلح مداخلت کا جواز حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کی زمین جعلی حملے کرکے جیسے کے ماضی میں ممبئی حملہ اور ٹرین چلانے کے واقعات جیسے معاملات کئے جا سکتے ہیں اور ہندوستانی ایجنسی ”را“ اس سلسلے میں خاصہ تجربہ رکھتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان پر عالمی سفارتی دباﺅ بے حد بڑھایا جائے گا جب کہ مغربی میڈیا کو جعلی مقابلوں کو پاکستانی حملے بنا کر اسے بدنام کیا جائے گا جو کہ یہودیوں کے زیر اثر میڈیا ماضی میں بھی کرتا رہا ہے اس کے نتیجہ میں پاکستان میں بہت بڑے پیمانے پر دہشت گرد کارروائیاں کی جائیں گی جسے کلبھوشن جاسوس کے ذریعے ماضی میں کی جاتی رہی ہیں اور اس میں ہندوستان اور اسرائیل، افغانستان کے ساتھ پاکستان میں ان عناصر کو استعمال کیا جائے گا جو پاکستان میں تخریبی کارروائیاں کرتا رہا ہے اور کررہا ہے جو گزشتہ سات سال میں ملک کے مختلف حصوں میں ہورہے ہیں اب جو کارروائیں ہون گیں ان میں بڑے سیاسی رہنماﺅں کے قتل، فرقہ واریت ابھار کر مذہبی رہنماﺅں اور اقلیتی فرقوں کے قتل شامل ہیں اور اس میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں میں سے دو جماعتیں ان ساری کارروائیوں کی پشت پناہی کر سکیں جو اقتدار سے محروم ہو کر کرپشن کے سلسلے میں عدالتوں سے سزا پا رہی ہیں۔ ادھر افغانستان میں قومی اتحادی حکومت ختم ہو جائے گی جس کی وجہ عبداللہ عبداللہ اور صدر اشرف غنی کے وفادار گروپس متصادم ہوجائیں گے جس کے نتیجے میں افغان طالبان اور دیگر جنگجو سردار کے افراد پڑوسی ملکوں میں بہت بڑی تعداد میں ہجرت کرنے لگیں گے جس کے باعث شدید ہیجانی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور عدم تحفظ کی فضا ہو جائے گی اور اس کے سب سے زیادہ اثرات پاکستان پر ہوں گے جہاں اس سے قبل بھی 30 لاکھ افغان مہاجرین داخل ہو کر پورے معاشرے کو تباہ کرسکتے ہیں اور آج تک پاکستان اس کی سزا بھگت رہا ہے جب کہ پرشین گلف میں حالات بھی تیزی سے خراب ہو رہے ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرم نے ایران کے سلسلے میں جو سخت گیر پالیسی اپنائی ہے اور ایران کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کی ہیں اس سے خطے میں تباہ کن اثرات ہوں گے اور پاکستان ایران کا پڑوسی اور برادر ملک ہونے کی حیثیت سے اس صورت حال سے گومگو کی صورت حال سے دوچار ہے اور اس بات کا شدید خطرہ لاحق ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ شروع ہو جائے جس سے یہ خطے کی جنگ سے بڑھ کر عالمی جنگ ہوسکتی ہے جس کے تباہ کن اثرات سے خطے کے ممالک بے حد متاثر ہوں گے خصوصاً پاکستان ہی نہیں بلکہ اس میں مشرق وسطیٰ کے ممالک اور روس بھی شامل ہو سکتا ہے۔ ”بلیک سوان ایونٹ“ پلان کے کرتا دھرتا اب فوری طور پر پاکستان میں اس پر عمل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ خطے میں پاکستان کی اسٹریٹجک پوزیشن اور فوجی طاقت کو وہ اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں اس سے قبل کہ خطے میں جنگ کی صورت حال پیدا ہو وہ پاکستان کو قابو میں لانے کے لئے تمام تدابیر کرنے کی سازش کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان اس ”بلیک سوا‘ ایونٹ“ کے ذریعہ ”سی پیک“ کے ذریعہ چین اور روس کی خطے میں بڑھتی ہوئی طاقت کو روکنے کے درپے ہیں۔ جو مغربی ایشیاءمیں اقتصادی اور فوجی طاقت پکڑ رہے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ دو عالمی طاقتیں پاکستان کو اپنی حمایت سے مضبوط بنانے کے لئے کوشش کررہے ہیں چنانچہ اس سے قبل کہ پاکستان اقتصادی اور گڈ گورننس کے ذریعہ طاقت پکڑے یہ اسے کمزور سے کمزور تر اور ختم کرنے کے درپے ہیں اور یہ کہ یہ ملک ایسا خطہ بن جائے جو ”بلیک سوان پلان“ کو ناکام بنا دے۔ ”بلیک سوان ایونٹ“ کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کو 2007ءمیں جس تخریب کاری، دہشت گردی اور لاقانونیت سے دوچار کیا گیا تھا وہ بھی اس ایونٹ کا حصہ تھا (یاد کیجئے 2007ءکی راست بے نظیر کا قتل اور کراچی میں پیپلزپارٹی کے غنڈوں کے ذریعہ تباہی و بربادی، لوٹ مار، عصمت دری کے واقعات اور لاتعداد افراد کا قتل) اور اب پھر یہی عمل پورے پاکستان پر کرنے کے لئے سازش تیار ہے ایک یہ بھی تحریر ہے کہ بے نظیر بھٹو نے ”بلیک سوان ایونٹ“ کے لئے اپنا ووٹ دیدیا تھا مگر پاکستان کی خوش قسمتی اور منصوبہ سازوں کی بدقسمتی سے اسے دسمبر میں ہلاک کردیا گیا۔ اب یہ امر بے حد ضروری ہے کہ پاکستانی افواج اور پاکستان کے وفادار اس بھیانک ”بلیک سوان ایونٹ“ کو روکنے کے لئے بھرپور کارروائیاں کررہے جس کے بارے میں امریکی شجاع نواز اٹلانٹک کونسل اور ایڈمرل جیمز اسٹاورڈز اپنے خیالات کا اظہار مغربی میڈیا میں کرچکے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کو اپنے دوستوں چین، روس اور مشرقی وسطیٰ میں ایران، سعودی عرب اور ترکی سے مشورے کرکے اپنے تحفظ کا بندوبست کرنا چاہئے اس سے قبل کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں اور پانی سر سے گزر جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے اندر ان عناصر کو بھی بے نقاب کردیا جائے جو بیرونی آقاﺅں کے اشاروں پر ملک کی بنیادوں کو کمزور کرکے اسے تباہی سے دوچار کرنے کے درپے ہیں۔ ان میں سیاسی، مذہبی اور بدعنوان بیوروکریٹ بھی شامل ہیں جو کہ درپے ہیں کہ موجودہ حکومت کو اپنی سازشوں سے ناکام بنا کر فوج کو مجبور کریں کہ وہ ملک کی باگ ڈور سنبھال لے تاکہ پوری دنیا کو جواز مل جائے کہ وہ پاکستان پر پوری قوت سے حملہ آور ہو کر اسے معاشی، سیاسی اور فوجی لحاظ سے ختم کردے اور اسے ہندوستان کا دست نگر بنا کر اس کی سالمیت کو پارہ پارہ کردے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں