Jamal Siddiqui Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 26

ذہنی نشونما

پاکستان کی تاریخ کا سب سے سخت ترین مارشل لاءایوب خان کے دور میں لگا تھا۔ کراچی اور چند دوسرے شہروں میں جیسے جیسے آبادی بڑھتی گئی تو لوگوں نے اپنے مکان بنانے کے بعد مکانوں کے سامنے اضافی جگہ گھیر کر لان بنا لئے۔ کسی نے گیراج اور کسی نے باقاعدہ لان کی چار دیواری تعمیر کرلی لیکن ایوب خان کے مارشل لاءمیں ان تمام کیاریوں، لان اور اضافی گھیری ہوئی جگہ کو مسمار کردیا گیا اور شہر کو صاف ستھرا کردیا۔ اس زمانے میں سڑکوں کی صفائی کا بہت خیال رکھا جاتا تھا اور صبح صبح پورے شہر میں جھاڑو دی جاتی تھی۔ پاکستان تیزی سے ترقی کی طرف گامزن تھا لیکن تمام صنعت تمام کاروبار بائیس خاندانوں میں بٹے ہوئے تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی لگاتار کوششوں سے ایوب خان کو استعفیٰ دینا پڑا۔ یحییٰ خان آئے، مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا اور اس علیحدگی کی وجہ سے حکومت بھٹو کے ہاتھ میں آگئی اور پاکستان کا زوال شروع ہوگیا۔ جمہوری اور عوامی حکومت کا سنہرا خواب روٹی، کپڑا اور مکان کا وعدہ آج تک پورا نہ ہو سکا۔ بھٹو کی مجبوری تھی۔ حکومت بنانے کے لئے علاقوں کے با اثر افراد کا تعاون چاہئے تھا لہذا پارٹی میں سرمایہ دار، جاگیردار، وڈیرے اور سردار شامل ہوئے۔ یہ وہ لوگ یا ان لوگوں کی اولادیں تھیں جو ہمیشہ انگریز کے وفادار رہے اور مسلمانوں سے غداری کرتے رہے۔ وزارتوں میں آنے کے بعد پاکستان کا پورا نظام ان ہی کرپٹ چوروں اور لٹیروں کے ہاتھ میں چلا گیا اور پھر پاکستان کبھی آزاد نہ ہوسکا۔ ایوب خان نے تو گھر کے سامنے چار دیواری تک مسمار کروادی لیکن عوامی حکومت میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ذمہ دار عہدوں پر اور حساس اداروں میں نا اہل افراد کی بھرتی، زمینوں پر ناجائز قبضے، گورنمنٹ کے مختلف اداروں کے ملازمین کے لئے چھوٹے چھوٹے پلاٹوں کے منصوبے جو سرکاری خزانے سے شروع ہوئے لیکن یہ پلاٹ کبھی بھی جائز لوگوں کو نہ مل سکے۔ ان پلاٹوں کو تین تین چار چار افراد کو بیچا گیا۔ جعلی کاغذات بن گئے۔ بہرحال اس بہتی گنگا میں جس کا بس چلا خوب ہاتھ دھوئے۔ پاکستان کے تمام شہروں میں ناجائز اراضی اور بھتہ دے کر پتھارے لگانے کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ بن گیا اور کراچی میں یہ سلسلہ کچھ زیادہ ہی طول پکڑ گیا۔
بھٹو کی حکومت تو چلی گئی لیکن اپنے پیچھے ایک ایسا معاشرہ چھوڑ گئی جس کا سدھرنا بہت مشکل تھا۔ یہ ناجائز جگہ پر یا فٹ پاتھوں کو گھیر کر دکانیں لگانے کا سلسلہ چلتا رہا۔ پہلے سڑکوں کے کنارے یا فٹ پاتھوں پر یا عمارتوں کے سامنے ٹھیلے لا کر کھڑے کئے۔ اس کے بعد پہیے اتر گئے اور صرف تخت رہ گئے اور بعد میں یہ مستقل ایک دکان کی شکل اختیار کرگیا۔ کے ڈی اے والوں کو پولیس والوں کو بھتے دے کر غیر قانونی کام قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی سرپرستی میں قانون بنا دیا گیا۔ جیسے ہی کوئی نیا پولیس والا بھرتی ہوتا تھا اس کو چھڑی پکڑا کر مارکیٹ کی طرف بھیج دیا جاتا تھا کہ ”جا بھائی خود بھی کھا اور ہمیں بھی کھلا“۔ پہلے یہ غیر قانونی پتھارے، دکانیں اور مکان بنانے کا سلسلہ صرف کاروباری علاقوں تک محدود جیسے برنس روڈ، عید گاہ، صدر ایمپریس مارکیٹ وغیرہ وغیرہ وہ علاقے جو عموماً ڈاﺅن ٹاﺅن یا اپ ٹاﺅن کہلاتے ہیں۔ پیدل چلنے والوں کے فٹ پاتھ ختم ہو چکے تھے۔ بعض جگہ جہاں ریلوے لائن تھی لیکن وہاں ٹرین چلنا بند ہو گئی تھی اس ریلوے لائن پر دکانیں بنا دی گئیں۔ بے شمار حادثے اور انسانی جانوں کا ضیاع روز کا معمول تھا کیونکہ پیدل چلنے والوں کے فٹ پاتھ گھیرے ہوئے تھے لہذا ان کو سڑک پر چلنا پڑتا تھا۔ جس سے ٹریفک کا نظام درہم برہم تھا۔
ایم کیو ایم کے کراچی پر قبضے اور زرداری کی حکومت میں تو کراچی علاقہ غیر کی مانند تھا۔ لاقانونیت، غنڈہ گردی عروج پر تھی۔ جس کے پاس اسلحہ بس اسی کا زور ہے۔ پارکوں، اسکولوں اور حکومتی اداروں کی خالی زمینوں پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ شروع ہوا اور یہ سب با اثر افراد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کے ڈی اے کے ملازمین کی ملی بھگت سے ہوا۔ ایم کیو ایم کے بابر غوری سمیت کئی رہنماﺅں نے اندھا دھند پیسہ بنایا۔ شادی ہال، دکانیں، مکان، غیر قانونی زمین پر بنائے گئے اور جعلی کاغذات کے ذریعے آگے سستے داموں بیچ دیئے گئے۔ یوں تو یہ سلسلہ 45 سال سے چل رہا تھا لیکن گزشتہ 30 سال میں یہ بہت تیز رفتاری سے ہوا۔ ان تمام غیر قانونی عمارتوں، ریسٹورنٹ اور دکانوں کا کوئی قانونی ریکارڈ نہیں ہے اور یہاں بجلی، پانی، گیس سب رشوت دے کر لگایا گیا جس کا کوئی بھی بل نہیں دیتا ہے۔ یہ مسئلہ ایک پہاڑ کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ ان مقامات پر بے شمار وہ غریب افراد کام کررہے تھے جن کا براہ راست کوئی قصور نہیں تھا۔ ان تمام غیر قانونی تجاوزات کے پیچھے بڑے بڑے با اثر افراد تھے لہذا اسے کوئی بھی ادارہ یا حکومت ختم کرنے سے قاصر تھا۔
موجودہ حکومت نے یہ قدم اٹھایا اور ناجائز تجاوزات کو سپریم کورٹ کے آرڈر کی صورت میں مسمار کرنے کا حکم دیا جو کہ ایک احسن قدم ہے۔ جن لوگوں کو ان ناجائز تجاوزات کے باعث پریشانی اٹھانا پڑتی تھی وہ لوگ تو خوش ہیں لیکن جن افراد کا ان کاروبار سے براہ راست یا کسی بھی ذریعے سے تعلق تھا وہ بہت چراغ پا ہیں۔ اگر غیر جانبدار ہو کر سوچا جائے تو یہ کوئی انصاف نہیں ہے کہ ایک شخص محنت مزدوری کرکے ساری عمر لگا کر اپنے لئے ایک چھوٹا سا گھر یا کاروبار بناتا ہے۔ اس میں بجلی، گیس، پانی کا بل بھرتا ہے اور مشکل سے زندگی گزارتا ہے صرف اس لئے کہ یہ گھر یا کاروبار اس نے جائز طریقے سے بنایا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص ہے جو ناجائز قبضہ کرکے گھر یا کاروبار لئے بیٹھا ہے اور آمرانہ زندگی گزار رہا ہے۔ اب جب کہ یہ ناجائز جگہ اس سے چھینی جارہی ہے تو رو رہا ہے اور لوگوں کی ہمدردی حاصل کررہا ہے۔ کیا انوہں نے سوچا تھا کہ یہ اور ان کا خاندان اسی طرح مفت میں مزے کرتے رہیں گے۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوگا۔ اور وہ بے چارے جن کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں ہے، کھلے آسمان تلے دھوپ، بارش، آندھی، طوفان میں رہتے ہیں ان کے بارے میں کوئی نہیں سوچتا ہے۔ سیاسی مخالفین کو بھی موقع مل گیا ہے ان کو ان تمام معاملات سے صرف اتنی دلچسپی ہے کہ عمران خان کے خلاف اور حکومت کے خلاف دل کی بھڑاس نکال سکیں اور آج کل ایک نیا موضوع ہاتھ آگیا ہے، سب بے عقل لوگ ہاتھ دھو کر عمران خان کے انڈے اور مرغی والے پلان کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ ارے بھائی یہ پلان ان لوگوں کے لئے ہے جو غریب ہیں، بے روزگار ہیں، کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں، یہ ان پیٹ بھروں کے لئے انہیں ہے جو مذاق اڑا رہے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ بے شمار لوگوں کا روزگار ہے لیکن راتوں رات امیر بن جانے کے خواب دیکھنے والی قوم کو اس کی افادیت کا کیا احساس ہوگا۔ ایک عام آدمی جب سربراہ بنتا ہے تو عوام کی خوشحالی اور روزگار کے لئے چھوٹے چھوٹے راستے بناتا ہے جب کہ وڈیرہ، جاگیردار، حکمران صرف اپنے لئے راستہ بناتا ہے۔ عمران خان کی تقاریر پر لوگوں کے تبصرے دیکھ کر اس قوم کی تعلیمی قابلیت اور ذہنی نشوونما کا بخوبی احساس ہو رہا ہے۔ اس قوم کو اچھی ذہنی نشونما کی سخت ضرورت ہے۔ یہ سب ٹی وی ٹاک شوز کا کیا دھرا ہے۔ پہلے شادی، پھر یوٹرن پھر ناجائز تجاوزات گرانے پر اختلاف اور اب مرغی انڈے اچھا ہے قوم اسی میں مصروف رہے۔ اپنے ذاتی مسائل نہ دیکھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں