143

امی ، پاپا

بیٹی کو پہلی سالگرہ پر ڈھیروں دعائیں اور ساتھ ساتھ بے تحاشہ تحائف ملے۔
بیٹی خوشی خوشی اپنے تحفے سب کو دکھاتی جاتی اور ان سے کھیلنا شروع کردیتی۔ آخر میں اس کو اپنے تحفوں میں سے ایک سنہری بالوں والی گڑیا ملی اس نے اس گڑیا کو کسی کو دکھائے بغیر اپنی گود میں چمٹا لیا جیسے اس ہی گڑیا کا انتظار تھا۔ وہ باقی سب کھلونے چھوڑ کر اپنی اس گڑیا سے کھیلنے لگی اس سے باتیں کرنے لگی اس کو ہدایات دینے لگی۔
وہ گڑیا سنہرے بالوں، نیلی آنکھوں کی وجہ سے بہت خوبصورت نظر آرہی تھی مگر اس میں ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ اس کو ہلکا سا دبانے پر ”پاپا پاپا“ کی آوازیں نکالتی، بیٹی نے اپنی سی گڑیا کا نام بھی ”پاپا“ رکھ دیا۔
پاپا کو وہ اپنے ساتھ ہر وقت رکھنے لگی، رات سونے سے پہلے اس کو اپنے برابر لٹا کر اس کو لحاف اڑاتی۔ صبح آنکھ کھلتے ہی اس کو گود میں للے کر پیار کرتی اور پیار سے پوچھتی رات لحاف اتارا تو نہیں؟ وہ اپنی پاپا کا ہر وقت خیال رکھتی، اس کی دیکھ بھال کرتی، ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے رکھتی، کوشش کرتی، کوئی اور اس کی پاپا کو ہاتھ نہ لگائے، چھوئے نہیں۔ وہ سارا دن اس کے ساتھ بتاتی، وہ کسی کھلونوں کے ساتھ کھیلنا پسند نہیں کرتی، وہ ہر ایک سے صرف پاپا کے بارے میں باتیں کرنا پسند کرتی، اس کے لئے نئے نئے کپڑے خریدنے کی ضد کرتی یا اپنی ماں سے اس کے لئے کپڑے سلواتی۔ ایک دن بھاگی بھاگی میرے پاس آئی، س کے ہاتھ میں کاپی تھی، وہ میری گود میں بیٹھ گئی اور مجھے اپنی کاپی کھول کر دکھانے لگی کہ میں نے پاپا کی پینٹنگ بنائی ہے اس نے ایک خاکہ میں کچھ رنگ بھرے تھے جس کو بتا رہی تھی کہ اس نے اس میں اپنی گڑیا بنائی ہے، میں اس کی پینٹنگ کی ہوئی لال پیلی لکیروں کو دیکھ کر تعریف کرتا، وہ خوش ہو جاتی، پھر خوشی خوشی اپنے بھائیوں کو دکھاتی وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ وہ میرے پاس شکایت لے کر آتی کہ یہ میرے پاپا کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ میں جھوٹی تعریف کرکے اس کو بہلادیتا۔
وہ اس کا یسے ہی خیال رکھتی جیسا کہ وہ ہم سب کو اس خیال رکھتے ہوئے دیکھتی۔ اس گڑیا کی قدر کم ہونے کے بجائے دن بدن بڑھتی رہی، جب وہ میلی ہوتی تو سب کے ساتھ مل کر اس کو اس طرح نہلاتی دھلاتی، جس طرح اس میں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوتی وہ ایسی ہی فکر مند ہوتی جیسا کہ اس کے خود معمولی بیمار پڑنے پر کھر والے فکرمند ہوتے۔ مجھے آفس میں اس کی باتیں اور حرکتیں یاد آتی تو میں مسکرا دیتا۔ مجھے احساس ہوتا کہ اس میں گھر والوں کی محبت ٹرانسفر ہورہی ہے وہ اپنی محبت کو گڑیا کے ذریعہ ظاہر کررہی ہے، آفس سے واپسی پر جب میں یہ دیکھتا کہ وہ سب گھر والوں کے ساتھ اپنی گڑیا کو بھی اپنے ساتھ رکھے آپس میں اپنی محبت کی درآمد برآمد کررہی ہے جب ہم اس کو اپنی گود میں بٹھا کر پیار کرتے یا باتیں کرتے وہ بھی اپنی گڑیا کے ساتھ ایسا ہی کرتی۔ اس کے پاس ایک سے ایک نئی گڑیا ہوتی لیکن وہ پاپا کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتی اس کی پاپا سے محبت میں کوئی تبدیلی نہیں ہو رہی، یہ ہی ہمارے گھر والوں کی عادت تھی اس میں ہمارا بچپن منتقل ہو رہا تھا۔ پاپا سوجا لال پلنگ پہ سو جا۔ پاپا کو وہ ایسے یوں ٹہلا ٹہلا کر سلاتی جیسا کہ وہ دیکھتی، وہ بڑوں کی گود جب خود سونے لگتی تو پھر وہ اپنی پاپا کو کو جھلاتی پھر لٹاتی اپنا چھوٹا سا لحاف ایسے اڑاتی جب ماں زبردستی سلاتی تو بیدار ہو کر سب سے پہلے پاپا کو دیکھتی، پوچھتی کہ کمبل تو نہیں اتارا، نہیں تو بخار ہو جائے گا۔ کبھی اس کے بھائی شرارت میں اس کی پاپا کو چھو لیتے تو وہ ہنگامہ کردیتی۔ جس طرح ہم اس کی خوشیوں کا خیال رکھتے اسی طرح وہ اپنے پاپا کو خوش کرنے کی کوششیں کرتی۔ جیسے جیسے ہماری محبت میں اضافہ ہو رہا تھا وہ اپنی محبت پاپا پر نچھاور کررہی تھی۔ ہم کہیں باہر جاتے تو اس کی کوشش ہوتی کہ وہ بھی پاپا کو اپنے ساتھ رکھے۔ جب ماں کہتی تمہاری گڑیا کو سب دیکھنے کے لئے مانگیں گے تو تم کیا کرو گی، وہ بمشکل تمام اپنی پاپا کو گھر چھوڑ کر ہمارے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوتی۔ پھر جاتے جاتے اس کو سمجھاتی جاتی دیکھو ڈرنا نہیں، میں جلدی گھر آجاﺅں گی۔ اپنی پاپا کے بغیر اس کا دل نہیں لگتا اس کی تفریح باہر گھومنے پھرنے سے زیادہ وہ گھر میں ہوتی۔ اپنی پاپا کے ساتھ اس کو زیادہ وقت گزارنے میں خوشی ہوتی۔ ایک روز جب میں ڈیوٹی سے گھر پہنچا تو مجھ سے لپٹ کر رونے لگی۔ معلوم ہوا کہ اس کی پاپا کہیں گم ہو گئی ہے شاید اس کے شرارتی بھائیوں نے کہیں چھپا دی تھی ہم سب نے مل کر اس کی پاپا کو تلاش کیا اس کی پاپا جب نہیں ملی تو اس کو لے کر بازار گیا اس سے کہا کہ تمہاری گڑیا ابھی دلادیتے ہیں۔ ہو سکتا ہے تمہیں کسی دکان پر مل جائے اس پر وہ ہمارے ساتھ جانے پر تیار ہو گئی ایک دکان پر ایک سے ایک نئی گڑیا تھی، جو نہایت قیمتی تھیں لیکن بچی کے چہرے پر اداسی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ ایک کونے میں بالکل اس کی جیسی گڑیا مل گئی مگر وہ تو اپنی پاپا کی ضد کرتی رہی کہ مجھے کوئی دوسری گڑیا نہیں چاہئے، مجھے تو اپنی پاپا چاہئے۔ اس کی ماں نے اس کو بہلایا کہ تمہاری پاپا پرانی ہو گئی تھی، میلی بھی ہو گئی تھی، وہ یہاں تیار ہو کر نئی ہو گئی ہے۔ مگر بچی کہنے لگی، نہیں یہ میری پاپا نہیں ہے۔ وہ کوئی گڑیا لئے بغیر گھر آنے کی ضد کرنے لگی۔
سب نے اس کو بہت سمجھایا، بہلایا، مگر وہ نہ مانی۔ واپسی پر بھائیوں نے اس کی گڑیا ڈھونڈھ نکالی، وہ اپنی پاپا کو دیکھ کر خوش ہو گئی، اس کا چہرہ کھل اٹھا، آہستہ آہستہ بچی بڑی ہوتی چلی گئی اور اس کی پاپا پرانی۔ ایک روز میں ڈیوٹی سے جلدی گھر آگیا تو وہ گھر میں نظر نہیں آئی ہر جگہ ڈھونڈا وہ نہیں ملی۔ سب نے مجھ سے پوچھا کیا ڈھونڈ رہے ہو، میرے منہ سے بے اختیار نکلا اپنی ”پاپا“۔ پھر یک دم وہ کہیں سے بھاگ کر آئی اور میری گود میں چڑھ گئی، مجھے تو میری پاپا مل گئی۔ یکایک میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ہم اپنی پاپا کے بغیر کیسے بے چین ہو جاتے ہیں، یہ بھی تو اپنی پاپا کے لئے ایسے ہی بے قرار ہوتی ہے۔ مگر اس میں یہ محبت کیسے ٹرانسفر ہوئی اس نے سوائے اپنے کسے اپنے گڈے گڑیا کی اس طرح دیکھ بھال کرتے دیکھا۔ پھر میرا دھیان گھر کے ایک اور فرد کی جانب چلا گیا، ہمارے علاوہ بھی کوئی تھا جس کو دیکھ دیکھ کر بچی کو اپنے پاپا کی دیکھ بھال کرنا آئی۔ وہ ہستی جو خاموشی سے اپنے گڈے گڑیا کی دیکھ بھال کررہی تھی۔ اس نے سب گھر والوں کی موجودگی کے باوجود اپنے گڈے گڑیا کی خدمت عبادت سمجھ کر کی۔ شاید وہ ہی انداز بچی نے اس کو دیکھ دیکھ کر سیکھ لیا۔ کہتے ہیں بچوں کے احساسات یا آبزرویشن بڑوں سے زیادہ تیز ہوتے ہیں۔ کانوں سے کم سنتے ہیں، آنکھوں سے زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ ہماری بیٹی بھی اس کو دیکھ رہی کہ وہ کس طرح اپنے گڈے گڑیا کی خدمت کررہی ہے۔ وہ ہی کچھ وہ اپنے پاپا کے لئے کرنے کی کوشش کرتی۔ جس کی ہم بھی مدد کرتے مگر اس ذات نے تو اکیلے تن تنہا اپنے پرانے گڈے گڑیا کو سنبھالا ہوا تھا کیونکہ اس میں کسی کی مدد لینا گوارا نہیں کرتی، اس نے اپنے گڈے گڑیا کے لئے دن رات ایک کردیا ہم نے کوشش کی کہ اس خدمت میں اپنے آپ کو بھی شریک کرلںی۔ وہ سختی سے منع کردیتی، پوری پوری رات جاگ جاگ کر اپنے گڈے گڑیا کی خبر گیری کرتی۔ وہ سو جاتا خود جاگتی اپنی وقت عبادت میں گزارتی۔ ان کے برابر ہی بستر لگا کر ان کو دیکھتی رہتی، وقت ملتا تو اپنی کہانی انسانوں میں ڈھالتی۔ یا احساسات کو کینوس پر منتقل کرکے پینٹنگ بناتی رہتی، لیکن نظریں اپنے گڈے گڑیا کی طرف ہی لگی رہتیں۔ جب اس کے گڈے گڑیا جاگ جاتے ان کو دوا کھلاتی ان کے منہ میں لقمے بنا کر کھانا کھلاتی۔ نہلاتی، دھلاتی مگر ان کو دوبارہ نیا نہیں پاتی۔ ان کو اپنے وجود کا حصہ سمجھ لیا۔ اس نے ان کو سمیٹ کر اپنے پاس کرلیا یا خود اپنے آپ کو فراموش کرکے انہی کو اپنی کل کائنات سمجھ لیا۔ وہ ان کی اس ہی طرح نگہداشت کررہی تھی جیسے ہم اپنے بچوں کی یا بچی اپنے پاپا کی۔ بچی کو سالگرہ میں نئی گڑیا ملی تھیں اس کو تو ٹوٹے پرانے گڈے گڑیا ملے وہ ان کی دیکھ بھال اتنی لگن سے کرتی رہی کہ بھول گئی کہ یہ گڈے گڑیا اتنے پرانے ہو گئے ہیں کہ کچھ بھی کر لے انہیں وہ نیا نہیں بنا سکتی یوں آہستہ آہستہ وقت ڈھلتا چلا گیا اس کے ساتھ ساتھ اس کی عمر بھی ڈھلتی چلی گئی پھ ربعد میں وہ بھی نہ رہے جن کے لئے اس نے اپنی عمر بتا دی۔ وہ اب بھی اپنے خیالات یادوں میں انہیں کو بسائے ہوئے ہے اس کو تو اس کی پاپا نہ ملی مگر مجھے تو اپنی پاپا مل گئی اور بچی کو اپنی پاپا مگر یہ تو اپنی پاپا کے بغیر رہ رہی ہے جو کہ اس کے بوڑھے والدین تھے۔ جو اس کو چھوڑ گئے۔ اس کو تو اس کی پاپا نہیں ملی۔ یوں عمر کا بڑا حصہ اس نے امی پاپا کی خدمت میں گزار دیا، اپنی پوری زندگی امی پاپا کے لئے وقف کردی وہ یہ سمجھتی رہی کہ اس کے بوڑھے ماں باپ ہمیشہ اس کے ساتھ ہی رہیں گے۔ یا وہ خود ان کے وجود کا حصہ بن کر ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی مگر قانون فطرت سے کون لڑ سکتا ہے۔ اس کے امی پاپا گزرتے چلے گئے وہ یہ سمجھتی رہی جس طرح گڈے گڑیا پرانے ہونے کے باوجود اس کے پاس ہمیشہ موجود رہیں گے ایسے ہی اس کے امی پاپا اس کو کبھی چھوڑ کر نہیں جائیں گے، امی پاپا اس کو چھوڑ کر کیا گئے سب بہن بھائیوں نے اس کو تنہا چھوڑ دیا وہ اپنی تنہائیاں لے کر ہر بہن بھائی کے ساتھ رہنے کی کوششیں کرتی رہی مگر وہ ہر جگہ تنہا ہی رہی وہ سب کو چھوڑ کر پھر واپس اس پرانے مکان میں جا بسیں جہاں اس کے ماں باپ نے اس کو اپنی گودوں میں بٹھا کر یا انگلیاں پکڑ کر گھر کے آنگن میں چلنا سکھایا۔ اب بھی وہ اپنے ماں باپ کی آواز یا پرچھائیاں اس گھر کے درد و دیوار میں تلاش کرتی پھر رہی ہے پگلی کہ امی پاپا واپس آ کر اپنی گودوں میں چھپالیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں