Hanif Dawami Columnist at Pakistan Times Chicago and Toronto 153

پارلیمنٹ بمقابلہ قانون۔۔۔

کیا پاکستانی پارلیمنٹ قانون و انصاف کے آگے دیوار بنے گی؟ یا پھر اس کا احترام کرتے ہوئے اپنے گندے انڈے ان کے سپرد کرے گی؟ یہ ایک اس طرح کا سوال ہے جو اس وقت ہر پاکستانی کے دماغ میں پیدا ہو رہا ہے، یہ سوال اس لئے بھی پیدا ہورہا ہے کہ ماضی میں پارلیمنٹ کو ہی جرائم میں ملوث سیاستدانوں نے اپنے بچاﺅ کے لئے ڈھال کے طور پر استعمال کیا تھا اور اب بھی پروڈکشن آرڈر کے ذریعے جس طرح سے شہباز شریف نے پارلیمنٹ میں آکر خود کو گرفتار کروانے والوں کے خلاف پارلیمنٹ کو استعمال کیا اس کی نظیر پوری جمہوری تاریخ میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔ دنیا میں کہیں بھی مجرموں کو یا جن پر سنگین نوعیت کے الزامات ہوتے ہیں انہیں پارلیمنٹ کا مقدس پلیٹ فارم استعمال کرے کی اجازت نہیں دی جاتی بلکہ اخلاقی طور پر پارلیمنٹ کے ممبران خود ہی پارلیمنٹ سے الگ ہو کر پہلے خود کو بے گناہ ثابت کرتے ہیں اس کے بعد خود کو اس پارلیمنٹ میں آنے کے قابل سمجھتے ہیں۔ کینیڈا امریکہ اور برطانیہ سمیت تمام جمہوری معاشروں میں تو اسی طرح سے ہوتا ہے لیکن پاکستان میں چونکہ سیاست میں اخلاقیات کی کوئی حیثیت نہیں اس لئے وہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہاں جرائم میں ملوث سیاستدان خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے قانون و انصاف کو مرعوب کرنے، انہیں دھمکانے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی حالیہ مثال شہباز شریف کی ہے جنہوں نے پروڈکشن آرڈر کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے دل کھول کر احتساب بیورو کے خلاف پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم کو استعمال کیا۔ میرے نزدیک پارلیمنٹ کی خود سیاستدانوں کے ہاتھوں اس طرح سے بے توقیری ہورہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم ذاتی اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کیا جانا قانونی و اخلاقی طور پر جائز ہے؟ اگر کسی رکن اسمبلی کو یہ استحقاق حاصل ہے تو پھر یہ حق تو پاکستان کے ہر شہری کو بھی حاصل ہونا چاہئے کہ اگر اس کے خلاف بھی کسی طرح کی تحقیقات ہورہی ہو تو وہ بھی اپنے دفاع یا مدد کے لئے پارلیمنٹ کی طاقت کو استعمال کرے۔ جمہوری معاشروں میں پارلیمنٹ کا کام جو (وہ قانون ساز ادارہ ہے) قانون بنانا ہے۔ قانون توڑنا یا قانون کی راہوں میں رکاوٹیں کھڑی کرنا نہیں۔ میں آج کالم تو بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کی بغل بچہ ہندو انتہا پسند تنظیم کے خلاف لکھنا چاہ رہا تھا جن کی مہربانی سے علامہ اقبال کا دو قومی نظریہ ہندوستان میں آج پھر سے پوری طرح سے اپنی آب و تاب کے ساتھ زندہ ہوگیا ہے لیکن صبح ہی صبح مجھے میرے ایک دوست جاوید چوہدری اوکاڑہ شریف والے کی جانب سے یہ اطلاع ملی کہ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کرپشن کے مقدمے میں نیب کے ہاتھوں پکڑے گئے جس کے بعد ہی مجھے پاکستانی پارلیمنٹ کی بے توقیری کا خیال آیا اور اس طرح سی میں نے قلم کا رُخ بھارت کی بجائے پاکستان کی جانب کردیا تاکہ میری جسارت سے پاکستانی پارلیمنٹ کا سویا ہوا ضمیر جاگ جائے اور وہ مزید کسی کو اپنے بے توقیری کی اجازت نہ دے اس لئے کہ گزشتہ روز ہی شہباز شریف کی ملاقات قومی اسمبلی کے اسپیکر سے ہوئی ہے اور انہیں خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کے لئے زور دیا جارہا ہے۔ اس طرح سے اب پروڈکش آرڈر کا کھیل کھیل کر اس کی مٹی پلید کی جائے گی تاکہ پارلیمنٹ کے ہتھیار کو استعمال کرتے ہوئے نیب کے تفتیشی امور میں مداخلت کی جائے۔ ابھی چند روز قبل ہی نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال ایک پریس کانفرنس میں یہ شکوہ کرچکے ہیں کہ پارلیمنٹ کے ذریعے نیب کے ادارے کو ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن نیب اس کے باوجود کسی دباﺅ میں نہیں آئے گی اس لئے کہ وہ اپنا کام آئین اور انصاف کے دائرے کے اندر رہ کر کررہی ہے۔ نیب کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ ان کا ملزم کون ہے۔وہ صرف حاصل شواہد کو مدنظر رکھ کر کارروائی کررہی ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں ساری ذمہ داری قومی اسمبلی کے اسپیکر پر عائد ہو جاتی ہے کہ وہ ایوان کو کس طرح سے چلاتے ہیں۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنا اسپیکر کا استحقاق ہے اسی طرح سے کسی بھی رکن پارلیمنٹ کو بولنے کا حق دینا بھی اسپیکر کا استحقاق ہے۔ اس لئے اسپیکر کو پارلیمنٹ کا وقار ہر معاملے پر مقدم رکھنے اور اس کے پلیٹ فارم کو ذاتی اغراض و مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہ دیں۔ خاص طور سے جو معاملات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ پارلیمنٹ کو عوامی مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے استعمال کریں۔ پارلیمنٹ کو اراکین اسمبلی کے جرائم پر پردہ پوشی اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لئے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ اسی میں خود پارلیمنٹ کی اپنا تقدس مضمر ہے۔ پارلیمنٹ کو تو ان قومی اداروں کا شکر گزار ہونا چاہئے جو ان کے گند کو صاف کررہی ہے۔ ایک صاف ستھری اور بے داغ پارلیمنٹ ہی ایک ترقی یافتہ قوم اور ملک کی شناخت ہوتی ہے۔ اسپیکر صاحب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اپنے ادارے کو غلط استعمال ہونے سے بچائیں۔ جس کا آپ نے حلف اٹھایا ہوا ہے۔ اسی میں ایک نیا اور بدلتا ہوا پاکستان مضمر ہے۔ خدارا بدلتے ہوئے پاکستان کی راہ میں دیوار نہ بنیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں