89

پرانے ٹھگ / نئے ٹھگ: تقابلی جائزہ (2)

ٹھگوں کی داستان قدیم اور “Living Legends” ٹھگوں کا قصہ تو ایک مرتبہ پھر شروع کرتے ہیں اور ناظرین و حاضرین خود فیصلہ کریں کہ ٹرافی کے حق دار پرانے ٹھگ ہیں یا جدید ٹھگز جن کے سامنے ماضی والی پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ انگریزوں نے ٹھگوں سے نمٹنے کے لئے جو محکمہ خصوصی قائم کیا اس نے 1059 ٹھگز عدم ثبوتوں کے باعث چھوڑے گئے اور انہیں موجودہ ملائیشیا کے پاس پیناگ جزیرے پر لے جا کر چھوڑ دیا گیا تاکہ دوبارہ واردات نہ کرسکیں۔ 412 کو پھانسی دیدی گئی اور 87 کو عمر قید ہوئی۔ آئیے ہم اپنے ٹھگوں کے بارے میں ایک جائزہ لیں ہمارے ٹھگ کیونکہ اعلیٰ مرتب تھے چنانچہ جو محکمہ ان کے لئے تخلیق کیا گیا ان میں تمام سیاسی ٹھگوں کی باہم رضا مندی سے حاکم اعلیٰ مقرر ہوتا تھا لہذا اس نے ایسے ایسے قانونی شگاف پیدا کئے کہ سالوں سال مقدمات چلتے رہے مگر ان معزز ٹھگ حضرات کے خلاف گواہ ہی نہیں ملے لہذا انہیں بار بار مواقع دیئے گئے کہ وہ عوام کو احمق بنا کر مسند اقتدار پر قابض ہو جائیں اور پھر دل بھر کر لوٹ مار کریں اور یہ سلسلہ باری باری تمام ٹھگوں کو دیا گیا جو ڈنکے کی چوٹ پر کہتے تھے کہ ہاں ہاں ہم نے لوٹ مار کی ہے، کر لو جو کرنا ہے لہذا وہ ایک نام نہاد جہوریت کی اوٹ سے اپنے شکار کرتے رہے جو ملک سے بھاگ جاتے تھے وہ کروڑوں لوٹ مار کرکے لاکھوں کی پلی بارگین کرکے پھر مسٹر کلین بن جاتے پھر انہیں عہدہ ہائے جلیلہ پر قابض کردیا جاتا تاکہ وہ نہ صرف اپنا نقصان پورا کرلیں بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ لوٹ مار کرکے اپنے خزانوں کو لبالب بھر لیں۔ یہ کھیل 20 کروڑ عوام کے بل بوتے پر کھیلا جاتا جنہیں نہ روٹی میسر تھی، نہ ہی کپڑا اور نہ ہی مکان جس کے سبز باغ دکھا کر ایک غدار نے اقتدار پر قبضہ کیا اور آدھا ملک دشمنوں کو دے کر ہمیشہ کے لئے ”زندہ“ ہو گیا۔ کائنات میں دو ہی زے روح زندہ ہیں ایک ”ابلیس“ اور ایک بھٹو شہید۔
اب ہم پھر قدیم ٹھگوں کی طرف چلتے ہیں اور ان کی پر اسرار زندگی پر نظر ڈالتے ہیں۔ ٹھگوں کے لئے انگریزوں نے ”سیکرٹ کلٹ“ ”ہائی ویز رویرز“ اور ماس مرڈر جیسے الفاظ استعمال کیا ہے۔ ”کلٹ“ کہلائے جانے کی وجہ ان کے اپنے رسم و رواج، اقدار، روایات، اصول اور طور طریقے تھے جن کا وہ بہت پابندی سے مذہب کی طرح احترام کرتے تھے ان کی اپنی ایک خفیہ زبان تھی جس میں وہ آپس میں بات کرتے تھے جسے ”رماسی“ کہا جاتا تھا۔ (ہمارے جدید ٹھگوں کی پہچان بھی ان کے ”سیکرٹ کلٹ“ سے ہوسکتی ہے یہ لوگ بھی بظاہر مذہب کے لبادے میں ملبوس نظر آتے ہیں، یہ بڑی پابندی سے ہر لوٹ مار کے بعد حج اور عمرے ادا کرتے ہیں، یہ مذہبی محافل میں مہمان خصوصی بن کر اور مسکین شکلیں بنائے ہوئے ایسے فرشتے لگتے ہیں جن کے پاس سے گناہ کا گزر ہوا ہی نہیں ہے۔ یہ پیروں، فقیروں کے معتقد ہوتے ہیں، مزارات پر شاہانہ انداز میں حاضری دیتے ہیں اور ان پر احسان کرتے ہیں کہ اپنے قدوم مہمیت لزوم سے انہیں سرفراز کیا ہے ان کی اگر کوئی روایات ہیں تو وہ تو نظر نہیں آتیں مگر لگتا ہے کہ لوگوں کو ٹھگنا، لوٹ مار کرنا، ان کا یہ پیشہ سو برس سے آباﺅ اجداد کا ہے کیونکہ ایک دو نسل اتی بڑی ڈکیٹ نہیں بن سکی یہ ان کی رگوں میں بڑوں سے آیا ہے۔ ان لوگوں کی بھی ایک اپنی خفیہ زبان ہوتی ہے جس کے ذریعے بلیک منی کو وائٹ کرتے ہیں اور یہ ”حوالوں“ کی زبان میں ہوتی ہے اور یہ جب آپس میں ملتے ہیں تو گویا
آنکھوں آنکھوں میں بات ہوتی ہے
کانوں کانوں خبر نہیں ہوتی
اتنی صفائی سے لوگوں کی آنکھوں سے سرمہ چراتے ہیں کہ انہیں اس بات کا پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ ان کے ساتھ کتنا بڑا ہاتھ ہو گیا ہے۔ یہ مکار، عیار ٹھگ بھیس بدلنے کے ماہر ہوتے ہیں اور عام لوگوں کی طرح نظر آتے ہیں مگر ان کے کاٹے کا علاج نہیں ہوتا۔
پرانے ٹھگوں کی کمر توڑنے کا سہرا ایک کپتان میجر جنرل ولیم ہنیری سلیمن کو دیا جاتا ہے جنہیں انگریز حکومت نے ”سر“ کے خطاب سے نوازا تھا۔
ہمارے زمانے کے ٹھگوں کا قلع قمع کرنے کا سہرا بھی ایک کپتان کو ہی جاتا ہے جس نے شہرت دوام حاصل تھی جس نے ایسے ایسے کارہائے نمایاں انجام دیئے تھے کہ سارے عالم میں ایک دھوم تھی، بڑے بڑے لارڈز اسے اپنی بیٹی دینے میں فخر محسوس کرتے تھے اور اپنے فن میں جو عروج اسے حاصل ہوا وہ شاید ہی کسی فرد کو 20 کروڑ کی آبادی میں حاصل ہوا ہو۔
کپتان سلیمن نے لکھا تھا کہ ٹھگوں کے گروہ میں ہندو اور مسلمان دونوں میں ٹھگی کی شروعات کیسے ہوئی، یہ بتانا ناممکن ہے لیکن اونچے کے ربے کے شیخ سے لے کر خانہ بدوش مسلمان اور ہر ذات کے ہندو اس میں شامل تھے۔ (ہمارے جدید ٹھگوں کی بھی تعریف بھی یہی ہے ان میں مسلمانوں کے شیوخ سے لے کر مذہبی نام نہاد مولانا، مزاروں کے مجاورز، حجاج کرام، قبیلوں کے سردار، ملک، شیخ، سید، زرداری، بھٹو، شریف، و کمین بڑے بڑے تاروں صنعت اور فرعون طبع اور بہروپیے شامل ہیں جو بلا امتیاز ذات و پات، عقیدہ و اعتقاد صرف اور صرف ملک اور قوم کو لوٹنے پر ایمان رکھتے ہیں ان کا دھرم، ایمان، ان کا سلجا وماوا صرف دولت اور دولت ہے۔ پرانے ٹھگ چاہے وہ کسی بھی مذہب و ملت اور عقیدے پر ہوں، لوٹ مار کرنے سے قبل ”مہورت“ یعنی نیک ساعت نکالتے ہیں اور پھر لوگوں کو ٹھگنے کے کام پر نکلتے ہیں۔ ہمارے جدید ٹھک بھی کبھی عمرے پر جاتے ہیں، پیروں فقیروں کے مزارات پر جاتے ہیں اور وہاں جا کر اپنے برے کاموں کے اچھے نتائج کے لئے دعائیں مانگتے ہیں کیونکہ بقول ایک فلم کے ہیرو کے ”نماز میرا فرض ہے، چوری میرا پیشہ“۔
زمانہ قدیم کے ٹھگ زیادہ تر کالی ماتا کی پوجا کرتے تھے (ہمارے ٹھگ بھی چونکہ نفاست پسند ہیں وہ ہندوﺅں کی دولت کی دیوی ”لکشمی“ کے پجاری ہیں، کیونکہ کالی ماتا ایک بدصورت کالی کلوٹی، جس کی گز بھر کی زبان باہر لٹکی ہوتی ہے اور گلے میں کھوپڑیوں کی مالا پہنتے ہوتی ہے۔ جب کہ لکشمی ایک خوبصورت دیوی ہے جو کنول پر کھڑی ہوتی ہے ویسے اس کے قطع نظر ہمارے جدید ٹھگوں کے یہاں بھی ایسی دیویاں ہیں جن کی زبانیں کالی سی، زبان سے کئی گنا بڑی ہیں جنہیں وزیر اطلاعات بنا دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ ہمارے جدید ٹھگ لکشمی دیوی کے پجاری ہیں اور اس کے دولت کے علاوہ بھی اور کئی کاموں کے طلب گار ہیں کیونکہ بوا ہوس بھی ہیں اورجائز بیویوں کے علاوہ متعدد حسیناﺅں کے زلفوں کے اسیر بھی یہ ان دیویوں کو منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کرتے ہیں ان دیوی کے نام لکشمی نہ سہی آپ ”آیان“ بھی کہہ سکتے ہیں۔
ٹھگوں کو داستان گو ٹیلر کا کہنا ہے کہ امیر علی ٹھگ (قدیم ٹھگوں کا سربراہ) کو اپنے ٹھگ ہونے پر ذرا سا بھی پچھتاوا نہیں تھا بلکہ وہ تو مانتے ہی نہیں تھے کہ وہ کوئی برا کام کررہے ہیں۔ بلکہ ٹھگی کو دوسرے پیشوں کی طرح پیشہ ہی سمجھتا تھا۔
ہمارے جدید ٹھگوں کو پچھتاوا تو کیا بلکہ انہیں تو اس پر فخر ہے کہ انہوں نے کس خوبصورتی سے ملک کو لوٹا، عوام کو ٹھگا اور ریاست کو دیوالیہ کردیا اور یہ کہ وہ اسے بھی اپنے پیشے سیاست کا ہی ایک حصہ بتاتے ہیں اور انہیں اس بات پر کبھی کوئی برائی نظر نہیں آتی اور انہوں نے اپنے اس پیشے کو بخوبی اپنے بیٹوں، بیٹیوں، بہوﺅں کو منتقل کردیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں